سرگودھا، درگاہ میں جہالت کی انتہا تشدد سے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا

سرگودھا، درگاہ میں جہالت کی انتہا تشدد سے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا

سرگودھا(بیورورپورٹ)سانحہ سرگودھا کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کر دی گئی ہے جس میں کچھ اہم انکشافات کئے گئے ہیں ۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درگاہ میں جہالت کی انتہاتھی۔ تشدد کے ذریعے مریضوں کا علاج کیا جاتا رہا۔ کئی سال سے خطرناک نشہ سر عام کیا جاتا تھا لیکن اس کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔محکمہ داخلہ پنجاب نے سرگودھا میں جعلی پیر کے ہاتھوں مریدوں کے قتل عام کی رپورٹ وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو پیش کی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزموں نے ایک ہفتے میں 3 بار مریدوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جعلی پیر کیساتھ کئی افراد نے قتل کرنیکی منصوبہ بندی بنائی۔ جس روز قتل کیا گیا، تین افراد موقع پر ہی نہ پہنچے۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہے کہ یہ معاملات متعلقہ پولیس اور دیگر اداروں کے علم میں کیوں نہیں آئے؟محکمہ داخلہ پنجاب کی خصوصی ٹیم نے 33 افراد کے بیان قلمبند کئے۔ ذرائع کے مطابق گدی نشین نے ساتھیوں سے کہا کہ سب کو مار دو، صبح سب دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی ملزم کے کئی ساتھی ابھی تک فرار ہیں ان کو حراست میں لیا جائیگا۔

وزیر اعلی رپورٹ

مزید : صفحہ اول


loading...