راحیل شریف کو قواعد کے مطابق اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دینگے : خواجہ آصف

راحیل شریف کو قواعد کے مطابق اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دینگے : ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے برادر ممالک سعودی عرب اور ایران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے، جنرل (ر) راحیل شریف کو قواعد و ضوابط کے مطابق اجازت دی جائے گی اور اگر آئندہ بھی کوئی برادر اسلامی ملک ہماری مدد مانگتا ہے تو ہم اس کی ضرور مدد کریں گے۔نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے فوجی اتحاد کیلئے جنرل راحیل شریف کی خدمات مانگی ہیں جس کی مدت طے ہونا باقی ہے جبکہ دہشتگردی کے خلاف بننے والے اتحاد کے خد و خال بھی واضح نہیں ہوئے۔یہ سب باتیں طے ہونے کے بعد وزارت دفاع کے قواعد و ضوابط کے بعد جنرل راحیل کو سعودی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایران سے تاریخی تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب سے بھی برادرانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان کی فوج اب بھی سعودی عرب میں موجود ہے، اگر ایران اور سعودی عرب میں کوئی مسئلہ ہے تو پہلے کی طرح پاکستان اس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کوئی بھی برادر ملک مدد مانگتا ہے تو ہم ضرور اس پر غور کریں گے۔ کوئی ہمارے ایئر چیف، نیول چیف یا آرمی چیف کی خدمات اپنا دفاع مضبوط کرنے یا اپنے تحفظ کیلئے مانگتا ہے تو وزارت دفاع کے قواعد کے مطابق اجازت نہ دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال جنرل راحیل کا معاملہ چل رہا ہے اس لیے اس پر مزید بات نہیں کروں گا، جب ایسی کوئی نوبت آئی تو بات ہوگی۔

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں ٗ رواں ماہ اپریل کے اختتام پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ختم ہو جائیگا ٗدس سے بارہ گھنٹے وہاں لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جہاں ریکوری نہیں ہورہی ٗآئندہ چند ماہ میں پن بجلی کی پیداوار میں 1500 میگاواٹ اضافہ ہوگا ٗمئی میں ملک میں ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی ٗ31 مارچ تک گردشی قرضے 385 ارب روپے تھے، جن کی ادائیگی کا خصوصی آڈٹ ہوچکا ہے ٗ اب ان قرضوں کی ادائیگی کا باب بند ہوگیا ہے۔ پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہاکہ مختلف شہروں میں گزشتہ سال اپریل کے مقابلے میں رواں برس درجہ حرارت زیادہ ہے۔لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ دس بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ وہاں کی جارہی ہے جہاں سے 90 فیصد ریکوری نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال اپریل میں بجلی کی پیداوار 12 ہزار 550 میگاواٹ ہے اور 2016 سے اب تک بجلی کی پیداوار میں ایک ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے، پن بجلی کی پیداوار 2 ہزار میگاواٹ کے قریب ہے جبکہ آئندہ چند ماہ میں پن بجلی کی پیداوار میں 1500 میگاواٹ اضافہ ہوگا۔بجلی کی پیداوار کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آزاد توانائی پروڈیوسرز (آئی پی پیز) پیر کو12 بجے تک 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہی تھیں جبکہ ہماری اپنی کمپنیاں 2836 میگاواٹ ریکارڈ بجلی پیدا کررہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت بجلی کی طلب 17 ہزار 140 میگاواٹ ہے اور اپریل کے اختتام سے پہلے لوڈشیڈنگ کو شہری علاقوں میں 3 اور دیہی علاقوں میں 4 گھنٹے پر لے آئیں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق مئی میں ملک میں ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی۔گردشی قرضوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ 31 مارچ تک گردشی قرضے 385 ارب روپے تھے، جن کی ادائیگی کا خصوصی آڈٹ ہوچکا ہے اور اب ان قرضوں کی ادائیگی کا باب بند ہوگیا ہے۔گرمی کی حالیہ لہر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، توقع ہے کہ 2018ء کے آغاز پر اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں بجلی چوری کی شکایات ہیں۔ جن علاقوں میں بجلی کی چوری کی شکایات زیادہ ہیں، وہاں لوڈ شیڈنگ کا تناسب بھی ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔

خواجہ آصف

مزید : صفحہ اول


loading...