بدترین لوڈشیڈنگ جاری‘نظام زندگی متاثر‘ کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے

بدترین لوڈشیڈنگ جاری‘نظام زندگی متاثر‘ کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے

لاہور )کامرس رپورٹر(ملک میں گزشتہ روز بھی بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جس سے نظام زندگی شدید متاثر ہوئے ۔ بار بار ہونے والی طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث لوگوں کی شدید مشکلات پیش آئیں۔ بیشتر علاقوں میں پانی کی بھی قلت ہو گئی۔ کئی شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے ستائے لوگ سڑکوں پر نکل آئے ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار اپریل کے پہلے ہفتے میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے احتجاج سامنے آیا ہے اس سے قبل مئی کے آخر اور جون میں احتجاج سامنے آتا تھا ۔ گزشتہ روز بھی بڑے بریک ڈاؤن کے خطرہ کے پیش نظر نیشنل پاور کنٹرول سنٹر نے لوڈ مینجمنٹ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا اور براہ راست گرڈز کے لئے بجلی کی بندش کی ۔ حکومت کے وزراء کی جانب سے انتہائی ڈھٹائی سے ایک بار پھر دعویٰ کیا گیا کہ دریاؤں میں پانی کی کمی سے لوڈ شیڈنگ میں صرف دو گھنٹے کا اضافہ ہوا ہے اور اپریل کے آخر تک لوڈ شیڈنگ میں کمی ہو جائے گی مزید کہ رواں گرمیوں میں گزشتہ سال کے نسبت کم لوڈ شیڈنگ ہو گی ۔ ہائیڈ ل کی پیداوار میں آئی پی پیز اور جنکوز کی پیداوار میں تیل کی کمی کے باعث تیس فیصد تک کمی ہو گئی ہے ۔ ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث ہائیڈل کی پیداوار کم ہو کر صرف بارہ سو میگاواٹ کی سطح پر آ گئی ہے ۔ گزشتہ روز شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں چودہ سے سولہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی گئی ۔ لیسکو کا شارٹ فال بڑھ کر آٹھ سو میگا واٹ سے تجاوز کر گیا ۔ گزشتہ روز ہفتہ وار تعطیل کے بعد معمول کی سرگرمیاں شروع ہونے پر بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا جس کے باعث لیسکو کی ڈیمانڈ بڑھ کر تین ہزار میگا واٹ سے تجاوز کر گئی جبکہ نیشنل سسٹم سے لیسکو کو صرف 2200 میگا واٹ بجلی ملی جس کے باعث لیسکو نے نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کی لوڈ مینجمٹ کے علاوہ اپنی جانب سے بھی لوڈ شیڈنگ کی ۔ گزشتہ روز تمام سب ڈویڑنوں میں ایک سے دو فیڈرز کوآٹھ گھنٹوں کے لئے مرمت کے نام پر بند رکھا گیا اور ان فیڈرز پر بعد ازاں لوڈ شیڈنگ بھی کی گئی ۔ گرڈز کو بجلی کی بندش کے باعث گرڈز سے منسلک فیڈرز پر تین سے چار گھنٹے کی مسلسل لوڈ شیڈنگ ہوئی ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...