پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش ملکر جنوبی ایشیا ء کی ترقی کیلئے کام کریں

پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش ملکر جنوبی ایشیا ء کی ترقی کیلئے کام کریں

لاہور(اے پی پی )بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ افتخار احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور بھارت کو ملکر جنوبی ایشیاء کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئے‘ خصوصاً زراعت کے شعبے میں بہت سے مواقعے اور پوٹینشل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز مقامی ہوٹل میں شاہد جاوید برکی انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی نیٹ سول کی 9 ویں سالانہ رپورٹ بعنوان’’معیشت کی حالت۔ زراعت اور پانی‘‘ کے اجراء کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے سابق وزیر خزانہ سید بابر علی مہمان خصوصی تھے جبکہ بی آئی پی پی کے چیئرمین شاہد جاوید برکی‘ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان‘ واٹر ایکسپرٹ ڈاکٹر مشتاق احمد گل سمیت دیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر بی آئی پی پی کے چیئرمین شاہد جاوید برکی نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں پاکستان میں توانائی کی قلت کے باعث جی ڈی پی کی شرح نمو میں 2.5 فیصد کمی ہوئی جبکہ دہشت گردی کی وجہ سے شرح نمو میں1.5 فیصد کمی کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 10 کروڑ سے زائد آبادی 24 سال سے کم عمرکے افراد پر مشتمل ہے جن میں بہت پوٹینشل ہے اور یہ افراد ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اس موقع پر سابق وزیر خزانہ سید بابر علی نے کہا کہ بھارتی پنجاب کے مقابلے میں پاکستانی پنجاب کی زرعی پیداوار کی شرح کم ہے‘پیداوار کو بڑھانے کیلئے حکومت کو موثر اقدامات کرنا ہونگے۔اس موقع پر واٹر ایکسپرٹ ڈاکٹر مشتاق احمد گل نے کہا کہ ہمیں زرعی پالیسی کو فوکس کرنا چاہئے‘ زراعت و دیگر شعبوں کیلئے واٹر سٹوریج کو بڑھانا چاہئے اور سپلائی‘ ڈیمانڈمینجمنٹ ایشوز کو حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ادارے تمام سٹیک ہولڈرز مثلاً کسان‘ کاشتکار اور زمینداروں کو مشاورت میں ساتھ لیکر پانی کے استعمال پر بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کار 30 دن تک رہ گئی ہے جبکہ دنیا میں ایسے بھی ممالک ہیں جن کی پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد 900 دن تک ہے اور بھارت کی سٹوریج کیپسٹی 120 دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم اور دیگر فصلات کی پیداوار ی لاگت بڑھ گئی ہے‘ گراؤنڈ واٹر پمپنگ کی آبپاشی کی لاگت 6500 روپے فی ایکڑ ہے جبکہ انہار کے پانی سے آبپاشی کی لاگت 135 روپے فی ایکڑ ہے‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسی میکرز کو دو چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے‘ اول یہ کہ ان چیزوں کی نشاندہی کی جائے جو معاشی ترقی کو تیز اور معاشرے میں واضح مثبت تبدیلی لاسکتی ہیں اور دوئم یہ کہ ان کو ایسی پالیسز کو رائج کرنا چاہئے جس سے ملکی وسائل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لایا جاسکے جیسا کہ زراعت کا شعبہ ہے‘ رپورٹ میں زراعت کے شعبہ کو درپیش مسائل بشمول پیداوار‘ قیمتوں کا تعین‘ بہتر سیڈ پالیسی کے علاوہ ہارٹیکلچر مارکیٹنگ اور زراعت کے شعبہ میں بہترین معیار کو اجاگر کیا گیا ہے‘ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ حکومت کو زرعی ریفارمز پر کام کرنا چاہئے اور ایسا ماڈل تیار کرنا چاہئے جس سے نہ صرف زراعت کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہو بلکہ کسانوں اور کاشتکاروں کے مالی مسائل بھی احسن طریقے سے حل ہوں۔اس موقع پر بی آئی پی پی کے قائم مقام ڈائریکٹر اسد اعجاز بٹ‘ ڈاکٹر محمود احمد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

سابق بنگلہ دیشی وزیر خارجہ

مزید : علاقائی


loading...