مسلمان متحد ہوں تو کسی کی نبی ؐ کی شان میں گستاخی کی جرات نہیں ہو گی :علماء مشائخ

مسلمان متحد ہوں تو کسی کی نبی ؐ کی شان میں گستاخی کی جرات نہیں ہو گی :علماء ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیئرمین علماء و مشائخ رابطہ کونسل پاکستان و سجادہ نشین دربار عالیہ کوٹ مٹھن شریف خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے کہا ہے کہ ملک دشمن قوتیں ہمیں باہمی اختلافات میں الجھانا چاہتی ہیں۔،درگاہوں پر حملوں کا مقصد قوم کے اتحاد و یگانگت کو نقصان پہنچانا ہے،مشائخ دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک میں تبدیلی لائیں گے۔انھوں نے کہا انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی قوم اور عالم اسلام کو اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔ مشائخ نے پاکستان کو بنانے میں اہم کردار کیا اور اب دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک میں تبدیلی لائیں گے۔ مسلمان متحد ہوں گے تو کسی کو نبی اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کی جرات نہیں ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے زیراہتمام ناموس رسالتؐ کے حوالے سے علماء و مشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرجماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر میاں محمد اسلم، جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر زبیر فاروق خان، آل پاکستان تاجر اتحاد کے صدر کاشف چوہدری، غازی ممتاز قادری کے والد حاجی ملک بشیر احمد، جمعیت اتحاد العلماء پنجاب کے صدر مولانا عبدالجلیل نقشبندی،جماعت اسلامی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل علامہ امیر عثمان ، پروفیسر عبدالغفور انجم، مولانا سید راحت حسین شاہ، مولانا حافظ شاہ نواز چشتی، مولانا ڈاکٹر غلام رسول چشتی، مولانا عبدالقادر سکندری و دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔ خواجہ معین الدین کوریجہ نے کہا کہ ہم 70 سال سے مختلف فقہی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو باہمی اختلافات پیدا کر کے الجھا دیا گیا ہے۔ ہمیں فرقوں میں بانٹا گیا انہی اختلافات کی بنیاد پر جنگیں کرائی گئیں۔ دشمن پاکستان کو ختم کرنے کے لئے سازشیں کر رہا ہے۔ مشائخ اور درگاہیں پاکستان کو متحد اور مضبوط کرنے والی قوتیں ہیں۔ درگاہوں پر ہونے والی دہشت گردی کا یہی مقصد ہے کہ قوم کو متحد کرنے والی ان قوتوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ میاں محمد اسلم نے کہا کہ آئین پاکستان سے قرارداد مقاصد کو نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ناموس رسالتؐ ایکٹ کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سارا قصور پاکستان کی عدالتوں اور قانون کا ہے اگر توہین رسالت کے مجرموں کو سزائیں نہیں ملیں گی تو لوگ قانون کو ہاتھ میں لیں گے۔ اگر مسلمان متحد ہوں گے تو کوئی قرارداد مقاصد، قانون ختم نبوتؐ اور ناموس رسالت ایکٹ کو ختم نہیں کر سکے گا۔ ایک سازش کے تحت ملک کو فقہی، لسانی، نسلی اور جغرافیائی تعصب کا شکار کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں علماء و مشائخ کو اپنا فریضہ ادا کرنا ہے۔ اسی وقت تمام سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ زبیر فاروق خان نے کہا کہ پوری عالم کفر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے گستاخانہ مواد کو پھیلایا گیا۔ دشمن مسلمانوں کی روح کو زخمی کرنا چاہتے ہیں۔ گستاخ رسول کبھی نہیں بچ سکیں گے۔ مولانا عبدالجلیل نقشبندی نے کہا کہ علماء کرام کے درمیان اتفاق و اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اگر علماء و مذہبی رہنما متحد ہو جائیں تو پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بنے گا اور یہاں پرامن کے ساتھ ساتھ نظام عدل و انصاف لاگو ہو سکے گا۔کاشف چوہدری نے کہا کہ اگر کہیں نبیؐ کی شان اقدس میں گستاخی ہو گی۔ کمزور سے کمزور ایمان والا مسلمان آگے بڑھ کر شاتم رسول کا سرقلم کرے گا اور آپ تاجروں کو بھی کسی سے پیچھے نہیں پائیں گے۔ ہم بھی نشانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ سرگودھا کا واقعہ قابل مذمت ہے اگر عالم اسلام متحد ہو جائے تو کوئی گستاخی کی جرات نہیں کر سکے گا۔ علامہ امیر عثمان نے کہا کہ ہماری عدالتوں کے ججوں نے بھی مسلمان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ہم جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ آج بھی غیرت مند مائیں موجود ہیں جو شوکت عزیز صدیقی جیسے بچوں کو جنم دیتی ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...