افغان تنازع کا فوجی حل نہیں ،قیام امن کیلئے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کی جائے:سرتاج عزیز

افغان تنازع کا فوجی حل نہیں ،قیام امن کیلئے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کی ...

اسلام آباد(این این آئی) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات مشترکہ تاریخ ، مذہب ، ثقافت اور عوامی رابطوں پر مبنی ہیں،ماضی کی طرح افغانستان اور پاکستان کا مستقبل بھی ایک ہے اس لئے دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اورعوام کی بہبود اور ترقی کیلئے مل کر کام کریں،افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے ۔افغانوں کی زیر قیادت امن عمل کے ذریعے سیاسی حل پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔پیر کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان صحافیوں کے 14 رکنی وفد نے ملاقات کی۔ وفد کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مشترکہ تاریخ ، مذہب ، ثقافت اور عوامی رابطوں پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح افغانستان اور پاکستان کا مستقبل بھی ایک ہے اس لئے دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اورعوام کی بہبود اور ترقی کیلئے مل کر کام کریں۔ سرتاج عزیز نے دہشتگردی کو مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی انسداد دہشتگردی اور بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے قریبی تعاون اوربامقصد روابط ہونے چاہئیں تاکہ دہشتگرد گروپوں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت روکی جا سکے ۔انہوں نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانیوالی سنجیدہ کوششوں کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور مفاہمت کے فروغ کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اہمیت کا حامل ہے ۔ افغان صحافیوں کے وفد نے افغانستان میں امن و استحکام اور دو طرفہ رابطوں کے استحکام کیلئے کی جانیوالی کوششوں کے حوالے سے بلا تکلف گفتگو کی۔ افغان صحافیوں کا وفد دو سے آٹھ اپریل تک پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جس کے دوران حکومت پارلیمانی اور سول سوسائٹی کے اداروں سے رابطے کئے جائیں گے ۔

سرتاج عزیز

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...