وفاق کے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے دھرے رہ گئے : جام خان شورو

وفاق کے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے دھرے رہ گئے : جام خان شورو

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے وفاقی وزیر پانی و بجلی کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج بھی سندھ بھر میں کئی اضلاع میں 18 اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی حکومت کے 2017 میں لوڈشیڈنگ خاتمے کے دعوے دھڑے کے دھڑے راہ گئے ہیں۔سندھ بھر میں 18 گھنٹے کی بجلی کی بندش سے عوام کو پانی کی فراہمی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کراچی میں کے الیکٹرک اور سندھ بھر میں واپڈا کی نااہلیوں نے شہریوں کے لئے عذاب کھڑا کردیا ہے۔ جام خان شورو نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی کی جانب سے پریس کانفرنس عوام کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود وزیر موصوف کی پارٹی کے سربراہ 2017 میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے تو وفاقی وزراء صرف اضافی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا عوام کو لولی پاپ دے رہے ہیں۔ جام خان شورو نے کہا کہ کے الیکٹرک کے گذشتہ رات سسٹم میں خرابی سے واٹر بورڈ کی تنصیبات کو بھاری نقصان اور عوام کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جام خان شورو نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سندھ بھر میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے اور پانی کی فراہمی کی تنصیبات کو کراچی سمیت صوبے بھر میں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...