میرٹ کا بول بالا‘عدالتی حکم پر اے ڈی خواجہ بحال

میرٹ کا بول بالا‘عدالتی حکم پر اے ڈی خواجہ بحال

( تجزیہ:کامران چوہان)

سندھ ہائی کورٹ نے عوامی توقعات کے عین مطابق اللہ ڈنو خواجہ کو آئی جی کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کاحکم دیا ہے ۔عدالت عالیہ کے فیصلے سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا کہ اگر آپ میرٹ پر فیصلے کررہے ہوں اور اچھی شہرت کے حامل ہوں تو کوئی جمہوری حکومت آمرانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے محض ایک حکم نامے کے ذریعہ آپ کو عہدے سے نہیں ہٹاسکتی ہے ۔سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ان افسران کو ایک نیا حوصلہ ملا ہے جو حکومتی خواہشات کے برعکس میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں اور حکومتی جی حضوری سے گریز کرتے ہوئے محکمہ اورعوام کے مفادات کوترجیح دیتے ہیں۔پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اس عدالتی فیصلے کے بعد ایک بار پھربیک فٹ پر جانے پر مجبور ہوگئی ہے اگرچہ پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان ضرور کیا ہے تاہم محسوس یہی ہوتا کہ موجودہ صورتحال میں اے ڈی خواجہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے ۔یہاں یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ بااثر شخصیات کے حکم پراچھی شہرت کے حامل آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کوعہدے سے ہٹانے کے فیصلے نے سندھ حکومت اورپاکستان پیپلزپارٹی کی ساکھ کو سیاسی وعوامی پرشدیدمتاثرکیا ہے ۔ملک میں اس وقت سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم ضروروشورسے جاری ہے ۔آئی جی سندھ کوجبری عہدے سے ہٹانے پرتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اوروفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق پہلے ہی پیپلزپارٹی کو آڑے ہاتھوں لے چکے ہیں اسی لئے پیپلزپارٹی کی قیادت کو چاہیے کہ اپنی سیاسی دانشمندی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کومزیدطول دینے سے گریزکرے اورعدالتی اورعوامی توقعات کو احترام کرتے ہوئے اے ڈی خواجہ اور سندھ حکومت کے درمیان غیراعلانیہ سردجنگ کوختم کردیناچاہیے۔اس ساری صورتحال پر وفاقی حکومت کی پراصرارخاموشی بھی انتہائی معنی خیرہے ۔صوبے کے پولیس چیف کی تقرری کاآئینی اختیاروفاق کے پاس ہے مگر صوبے کے نئے پولیس چیف کے تقرر کے حوالے سے حکومت سندھ کی جانب سے بھیجے گئے تینوں ناموں کے حوالے سے وفاقی حکومت کا باضابطہ کوئی موقف سامنے نہیں آیا مگرمیڈیااطلاعات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ناموں کو اچھی شہرت کے حامل افسران نہ ہونے کے باعث مسترد کیاگیا ۔اگر وفاقی حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی واضح احکامات جاری کردیتی تو یقینی طوپرعدالت عالیہ کے احکامات کی نوبت نہ آتی اور نہ ہی ملک تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک صوبے میں بیک وقت دو آئی جی سندھ دیکھنے میں آتے جسے یقینی طورپرصوبائی اوروفاقی حکومت کی بیڈ گورننس سے تعبیرکیاسکتا ہے۔بعض سیاسی حلقوں کے مطابق آئی جی سندھ کے معاملے پر وفاقی حکومت کی جانب سے خاموشی کے پیچھے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والی ڈیل ہے جسے شایدوفاق پر برسراقتدارجماعت پیپلزپارٹی کے ساتھ ’’بارگیننگ‘‘کے طورپراستعمال کرنا چاہتی تھی۔بہرحال عدالت عالیہ کے حکم پرعہدے کا دوبارہ چارج سنبھالنے کے بعد اے ڈی خواجہ پر اب دوہری ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں کہ وہ صوبے میں قیام امن اورسیاسی دباؤ کے بغیر محکمہ پولیس کی ساکھ کومزید بہتربنانے کے لئے مثالی خدمات انجام دیں۔کیونکہ ان سے عوام نے بڑی توقعات وابستہ کرلی ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...