دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 1500سے زائد افسروں اور جوانوں نے شہادت دی: صلاح الدین محسود

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 1500سے زائد افسروں اور جوانوں نے شہادت دی: صلاح الدین ...

پشاور( کرائمز رپورٹر) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواصلاح الدین خان محسود نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس پچھلے دس سالوں سے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہے۔ اور اب تک 1500 سے زائد افسروں و جوانوں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی دہشت گردی اور جرائم کے خلاف ایک سے بڑھ کر موثر کاروائی ہوتی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں آئی جی پی کا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی بار میڈیا کو پولیس پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کی عفریت کا سامنا ہے اور قابل فخر کامیابیوں اور کامرانیوں کے باوجود پھر بھی دہشت گرد عناصر کا خدشہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا فرنٹ لائن صوبہ ہے ۔ قبائلی علاقہ جات میں پاک فوج اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے افسروں وجوانوں جبکہ بندوبستی علاقوں میں پولیس فورس فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کررہا ہے۔ اور ملک کے تمام پولیس فورسز سے زیادہ بوجھ برداشت کررہی ہے۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ پولیس ایکٹ2017 میں پولیس کا استعداد کار بڑھانے کا انتظام، عوام کی بہتر خدمت اور ان کے مسائل حل کرنے کا راستہ، پولیس کی بہترین تربیت کا انتظام، پولیس کا اپنے خلاف انکوائریوں پر اثر انداز نہ ہونے کا موثر نظام موجود ہے۔ اور کہا کہ پولیس حکومت کے تعاون سے پولیس ایکٹ پر من وعن فوری عمل درآمد شروع کرے گی۔ تاکہ عوام، پولیس اور دیگر تمام ادارے اس نظام کے تحت چلنا شروع کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے پولیس کے تمام ادارے بشمول تنازعات کے حل کے کونسلوں، پولیس اسسٹنس لائنز پولیس ایکسز سروسز،سیفٹی کمیشنز اور کمپلینٹ اتھارٹی کو مزید فعال بناکر اس نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید بہتری لائی جائے گی۔ آئی جی پی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی کارکردگی کافی حد تک تسلی بخش ہے تاہم پولیس کی مسلسل ٹریننگ، بہتر نگرانی اور جدید ساز و سامان فراہم کرکے خیبر پختونخوا پولیس کی صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر بنانے کا عمل جاری و ساری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی میں قانون کی بالادستی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اور بلا تفریق ہر ایک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر برتاؤ اور سلوک روار کھا جائیگا۔ پولیس کا اندرونی انتظامیہ مکمل طور پر خودمختیار ہوگی اور پولیس کی ویلفیئر کے ساتھ ساتھ سزا و جزا کا ایک واضح اور موثر نظام رائج کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس ہمیشہ کی طرح دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جنگ میں تمام سرکاری اداروں بشمول میڈیا کے ساتھ بہتر ین کوارڈینشن کی کوشش کرے گی اور ان رابطوں کو مزید بہتر اور موثر بناکر بہترین سطح پر لے جانے کی کوشش کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ تھانے کے اندر اور تھانے کے باہر پولیس کے رویئے میں واضح بہتری لائی جائیگی۔اور تھانوں اور فیلڈ میں پولیس کی کارکردگی کا تعین عوام سے ان کے رویئے اورسلوک سے پرکھی جائیگی۔ اور اس سلسلے میں انٹیلی جنس اداروں سے مدد لیجائیگی۔ آئی جی پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا کے کردار کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے نمائندوں نے کٹھن اور نامساعد حالات کے باوجود ثابت قدمی کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیئے۔ اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام، میڈیا اور پولیس نے ملکر جیتنا ہے۔ قبل ازیں صوبے میں امن و آمان سے متعلق ریجنل پولیس افسروں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارت کرتے ہوئے آئی جی پی نے شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ تھانوں کی سطح پر ایس ایچ اُوز اور محرر کا عوام کے ساتھ اچھا سلوک اور بہتر رویہ اپنانے کو یقینی بنائیں۔ عوام کی خدمت کے لیے قائم تنازعات کے حل کے کونسلوں، پولیس اسسٹنس لائنز اور پبلک لیزان کونسلوں کو مزید فعال اور موثر بنائیں اور ضلعی پولیس افسروں کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر اپنے اپنے ضلع میں قائم تنازعات کے حل کے کونسلوں کا دورہ کرکے ان کی کارکردگی کا خود جائیزہ لیکر اسے مزید فعال بنائیں۔ انہیں اقلیتوں کو فول پروف سیکورٹی دینے۔ جعلی مقدمات میں بے گناہ لوگوں کو ملو ث کرنے اور چھاپوں کے دوران بے گناہ لوگوں سے زیادتی سے باز آنے کی سختی سے بھی ہدایت کی گئی۔ انہیں علاقے کے مشران اور منتخب نمائندوں کے مشورے سے سیکورٹی انتظامات اُٹھانے، سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز اور اطلاعات کی بنیاد پر آپریشنز جاری رکھنے، پولیس جوانوں کو بہترین تربیت فراہم کرنے، شہداء کے ورثاء کے فلاح و بہبود کا پورا پورا خیال رکھنے،مظلوموں کی داد رسی کو ہر قیمت پر یقینی بنانے اور پولیس آپریشنل گائیڈ لائنز اور پالیسی گائیڈلانیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...