تھانہ ،10 روزہ برٹش کونسل انگلش ماسٹر ٹریننگ کے شرکاء سراپا احتجاج

تھانہ ،10 روزہ برٹش کونسل انگلش ماسٹر ٹریننگ کے شرکاء سراپا احتجاج

تھانہ ( نمائندہ پاکستان) سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو دیئے جانے والے 10روزہ برٹش کونسل انگلش ماسٹر ٹریننگ بغیر کسی معاوضہ مکمل ہونے پر ماسٹر ٹرینرز سراپا احتجاج۔ فوری طور پر معاوضہ دینے کا مطالبہ۔ بصورت دیگر آئندہ کے لئے ٹریننگ نہ دینے پر غور کی دھمکی۔ تفصیلات کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف سرکاری سکولوں میں انگریزی پڑھانے والے اساتذہ کو ماسٹر ٹریننگ دینے والے اساتذہ کے نمائندوں نے پریس کلب تھانہ میں پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے انتہائی مایوسی اور بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے تاریخی سطح پر ناکام ترین ٹریننگ قرار دیا۔ اس موقع پر ضلع مالاکنڈ سے ماسٹر ٹرینر بخت زادہ، ولی محمد ، ضلع شانگلہ سے محمد عثمان، ضلع دیر لوئیر سے محمد آیاز، دیر آپر سے پرنسپل طاہر، ضلع بونیر سے محمد اسلام ، ضلع سوات سے ڈاکٹر عالم، نثار احمد، کشور علی کے علاوہ 80 سے زیادہ ماسٹر ٹرینر موجود تھے۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ پہلی مرتبہ فیس بُک کے ذریعے ان ماسٹر ٹرینرز کو دھمکی امیز انداز میں فوری طور پر غیر مقامی متعلقہ مقامات پر سرکاری پرائمری سکولوں کے اساتذہ کو دس روزہ ماسٹر انگلش ٹریننگ دینے کے لئے پہنچ جانے کی ہدایت کی گئی۔ جہاں پیغمبرانہ معزز پیشہ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو سٹیشنری اور دیگر سامان خود اپنے کندھوں پر لے جانا پڑا۔ وہاں ان کی رہائش، خوراک، اور دیگر ضروریات کا کوئی بندوبست موجود نہیں تھا۔ متاثرہ ماسٹر ٹرینر نے انکشاف کیا کہ اس ٹریننگ کے لئے معاوضہ دینے کے لئے 56 کروڑ روپے مختص کر دئے گئے ہیں لیکن سات گھنٹے روزانہ دس روز پر مشتمل ٹریننگ مکمل ہوجانے کے بعد کسی فوکل پرسن یا ذمہ دار اآفسر نے کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کی کہ سینکڑو ں میل دور افتادہ علاقوں سے آئے ہوئے ٹرینیز اور ٹرینرز کو آخر کیا اور کب کچھ ملے گا؟ انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر مشکل ترین ٹریننگ میں جہاں 1500 امیدوار برٹش کونسل ٹریننگ ٹسٹ میں شامل ہوئے تھے جس میں بمشکل صرف 400 اُمیدوار کامیاب ہو ئے تھے۔ جہاں اُنہیں سبز باغات دکھائے گئے تھے لیکن کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا کے مصداق انتہائی مشکل حالات میں ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد بھی تاحال کچھ نہیں ملا۔ اور تمام تر آخراجات بھی اپنی جیبوں سے برداشت کئے۔ ان متاثرہ اساتذہ ٹرینر نے دھمکی دی کہ اگر انہیں اس ٹریننگ بشمول سابقہ دیگر ٹریننگزکامناسب معاوضہ بروقت ادا نہیں کیا گیا تو وہ اگلے ٹریننگ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بھی فیصلہ کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...