بہاولنگر‘ پولیس حراست میں قتل کے ملزم کی پراسرار ہلاکت‘ ورثاء کا احتجاج

بہاولنگر‘ پولیس حراست میں قتل کے ملزم کی پراسرار ہلاکت‘ ورثاء کا احتجاج

بہاولنگر(ڈسٹرکٹ رپورٹر )پولیس حراست میں قتل کے ملزم کی پر اسرار طور پر ہلاکت، پولیس نے مقدمہ قتل میں شبہ کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کر رکھا تھا ، پولیس کی جانب سے شدید تشدد کیے (بقیہ نمبر26صفحہ12پر )

جانے پر ملزم کی ہلاکت ہوئی ، ورثاء کا احتجاج ،ڈی پی او بہاولنگر نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے پولیس ملازمین و دیگر پر مقدمہ درج کر وا دیا۔ تفصیلات کیمطابق نواحی گاؤں کیرو میکناں والا کے رہائشی محمد صدیق کو ہومیسائیڈ پولیس سیل نے مقدمہ نمبر59/17بجرم 302/34بابت قتل مقتول شوکت علی شبہ کی بنیاد پر گرفتار کر کے تفتیش کر رہی تھی کہ تھانہ صدر کی حوالات میں محمد صدیق پر اسرار طور پر مردہ حالت میں پایا گیا ۔ مقتول کے ورثاء کے مطابق مقتول محمد صدیق کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ تھا ۔ اے ایس آئی سکندر ، مختار شاہ رضا کار ، دو کس نا معلوم پولیس اہلکاروں نے نعیم خالد ، محمد امین اور اللہ رکھا کی ایما ء پر سابقہ رنجش کی وجہ سے تشدد کر کے قتل کر وایا ہے ۔ مقتول کے ورثاء نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے وقت شدید ہنگامہ آرائی اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کر تے ہوئے سڑک کو بلا ک کر دیا۔ جس پر فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ڈی پی او بہاولنگر کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک نے ملوث پولیس اہلکاروں و دیگر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ملزم پراسرار

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...