سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شاہراہوں پر لگے کیمروں کی درجنوں بیٹریاں چوری ہونے کا انکشاف

سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شاہراہوں پر لگے کیمروں کی درجنوں بیٹریاں چوری ہونے کا ...
سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شاہراہوں پر لگے کیمروں کی درجنوں بیٹریاں چوری ہونے کا انکشاف

  


لاہور (ویب ڈیسک) سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت مختلف شاہراہوں پر لگائے جانے والے کیمروں کو لوڈشیڈنگ کی صورت میں بیک اپ دینے کیلئے لگائی گئی درجنوں بیٹریاں چوری ہوجانے کا انکشاف ہوا ہے۔ لاگت پوری ہونے سے قبل ہی چوری ہوجانے والی بیٹریوں کی قیمت فی عدد 250 سے 450 ڈالر کے لگ بھگ ہے، سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت غیر ملکی کمپنی صوبائی دارالحکومت کی مختلف شاہراہوں پر جدید کیمرے لگانے کا کام کررہی ہے ۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق کمپنی کی طرف سے مختلف شاہراہوں پر لگائے گئے کیمروں کو لوڈشیڈنگ یا شٹ ڈاﺅن کی صورت میں چار گھنٹے تک کا بیک اپ دینے کیلئے انتہائی مہنگی بیٹریاں بھی لگائی گئی ہیں اور مختلف مقامات سے درجنوں کی تعداد میں بیٹریاں چوری ہوجانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان بیٹریوں کی قیمت ان کی استعداد کے مطابق فی عدد 250 سے 450 ڈالر تک ہے اور یہ مالیت لاکھوں روپے میں بنتی ہے۔ اس حوالے سے جب پراجیکٹ کے ایم ڈی (ڈی آئی جی) علی عامر ملک سے موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بیٹریاں چوری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعداد 80 کے قریب ہے اور اس کا مقدمہ بھی درج ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی منصوبے کو مختلف مراحل میں مکمل کررہی ہے اور اسے ابھی تک مکمل طور پر ہمارے سپرد نہیں کیا گیا لہٰذا اس کی ذمہ داری متعلقہ کمپنی کی ہے بلکہ اسے مکمل طور پر اتھارٹی کے حوالے کئے جانے کے بعد بھی کمپنی پانچ سال تک آپریشن اور مینٹی نینس کی ذمہ دار ہوگی۔ واضح رہے کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت لگائے گئے کیمروں کے ذریعے ہی مال روڈ پر دہشتگردی کی کارروائی کرنے والے حملہ اور اور اس کے سہولت کار کی شناخت مکمل ہوسکی تھی۔

مزید : لاہور


loading...