جاپانی لڑکیوں کے گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار دو افراد 10 سال بعد رہا

جاپانی لڑکیوں کے گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار دو افراد 10 سال بعد رہا
جاپانی لڑکیوں کے گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار دو افراد 10 سال بعد رہا

  


اسلام آباد (صباح نیوز) سپریم کورٹ نے دو جاپانی لڑکیوں کے گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کو 10 سال بعد رہا کر دیا۔ منگل کوجسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے عادل منصور اور احد راہی کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ کی ایف آئی آر پانچ دن بعد درج کی گئی اور موقع کا کوئی گواہ موجود نہیں تھا جبکہ میڈیکل شواہد بھی ملزمان کا قصور ثابت نہیں کرتے۔

ٹروکالر کی نئی ایپلیکیشن متعارف، گوگل ڈو کیساتھ انضمام کا بھی اعلان

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب رانا عبدالمجید اس مقدمہ میں ریاست کی طرف سے پیش ہوئے۔ واضح رہے کہ تھانہ گارڈن ٹاؤن لاہور کے علاقے میں 20 مئی 2007ء کو دو جاپانی لڑکیوں شی زوکا یژاوا اور کی سوہیرو کی طرف سے ملزمان عادل منصور اور احد راہی پر گینگ ریپ کے الزام میں دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ مقدمہ کا ٹرائل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیا اور ملزمان کو 30-8-2007 کو 14 سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد ہائیکورٹ نے ان ملزمان کی سزا بحال رکھی تاہم سپریم کورٹ نے منگل کو تقریباً 10 سال کے بعد ان کی رہائی کا حکم دیدیا۔

مزید : اسلام آباد


loading...