شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 51

شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط ...
شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 51

  


حضرت سید حافظ خان محمد ملک شاہؒ کو تحصیل علم کااز حد شوق تھا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے تمام کتاب درسیہ سے فراغت حاصل کر لی تھی۔ آپ فقہہ اور محدث تھے۔ کئی سال آپ نے دارالولایت نوشاہیہ میں درس و تدریس کے فریضہ کو ادا کیا۔ آپ کے تبحر علمی زہد اور کشف و کرامت کا دور دور تک شہرہ تھا۔ ہزاروں آدمی آپ کے حلقہ ارادت میں داخل تھے۔ 

پچاسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے وا݄ی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات، تفصیلات کیلئےیہاں کلک کریں۔

وفات

حضرت سید خان محمد ملک شاہ قدس سرہ نے یکم محرم 1278ھ میں انتقال فرمایا ۔مزار مبارک گورستان نوشاہیہ رنمل شریف میں حضرت سید محمد ابراہیم شاہ کے مزار کے غربی جانب ہے۔

اولاد پاک

حضرت سید خان محمد ملک شاہ قدس سترہ، کے تین فرزند تھے۔ اول سید حافظ حسن محمد شاہ عارف ،دوم سید حافظ قطب شاہ ،سوئم حافظ سید عظیم اللہ محدث۔

حافظ سید حسن محمد شاہ عارف قدس سرہؒ حضرت سید خان محمد ملک شاہ کے فرزند اکبر سید حافظ حسن محمد شاہ عارف، 7 صفر المظفر 1194ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 9 سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ نے علوم متداولہ کی تحصیل کر کے دستار فضیلت حاصل کی۔ علوم ظاہریہ سے فارغ ہو کر اپنے والد ماجد سید خان محمد ملک شاہؒ سے سلوک قادریہ کی تکمیل کر کے خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے۔

وفات اور مدفن

سید حسن محمد شاہ عارف نے 14 شعبان 1264ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔مزار اقدس گورستان نوشاہیہ رنمل شریف میں اپنے والد ماجد کے مزار کے غربی جانب ہے۔

حضرت سید غلام محمد شاہ

سید حسن محمد شاہ عارف کے فرزند اکبر سید غلام محمد شاہ 29 ربیع الاول 1219ھ بروز دو شنبہ دارالولایت نوشاہیہ میں پیدا ہوئے (بحوالہ بستان اولیاء)

تعلیم و تربیت

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے چچا بزرگوار حافظ سید عظیم اللہ سے حاصل کی، حدیث اور فقہ اپنے والد ماجد سے پڑھی۔ منطق اور فلسفہ کی کتابیں مولوی کریم بخش سے پڑھیں۔ علوم ظاہریہ کی تحصیل کے بعد اپنے والد ماجد سے سلوک کی منازل طے کر کے خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے ۔ہزاروں آدمی آپ کے حلقہ ارادت میں داخل تھے۔ مضافات راجوری کے بیسیوں قبائل آپ کے ہاتھ پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے (بحوالہ بستان اولیاء)

فضل و کمال

قطب التکوین حضرت سید حضرت محمد شاہؒ مادر زاد ولی تھے۔ بچپن سے ہی آپ سے کرامات کا دور ہونا شروع ہو گیا تھا۔ آپ بڑے عابد تھے ۔روزانہ پانچ سو نفل ادا کرتے تھے۔ صاحب زاہد و خوارق تھے۔ آپ بارہ سال گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر ذکر و فکر میں مشغول رہے۔ آپ نے اپنے جد امجد حضرت حافظ سید خان محمد ملک شاہ سے بھی اکتساب فیض کیا تھا۔

انتقال سکونت

آپ نے ذی الحجہ 1280ھ میں آستانہ عالیہ نوشاہیہ رنمل شریف سے موضع ٹھیکریاں تحصیل راجوری ضلع ریاسی مقبوضہ کشمیر میں رہائش منتقل کر لی تھی۔

وفات اور مدفن

قطب التکوین حضرت سید غلام محمد شاہ قدس سرہ، نے اپنی وفات کی خبر وفات سے دو ماہ پہلے اپنے احباب کو دے دی تھی ۔آپ نے 12 ربیع الاول 1291ھ بروز دوشنبہ نماز فجر ادا کرتے ہوئے آخری رکعت کے دوسرے سجدے میں بہ نعرہ سحبان ربی الاعلٰی داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے برادر اصغر حضرت سید اللہ جوایا نے پڑھائی تھی۔ آپ کا مزار مبارک ٹھیکریاں شریف (مقبوضہ کشمیر) میں گورستان گیلانیہ میں ہے۔

قطب التکوین کی اولاد

حضرت سید غلام محمد شاہ قدس سرہ کے دو فرزند تھے۔ اوّل بحر العلوم سید نصیر الدین احمد المشہور شاہ اللہ دتہ، دوئم حضرت سید احمد دین شاہ۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنےکیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ


loading...