فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ انچاسویں قسط

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ انچاسویں قسط
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ انچاسویں قسط

  


ابتدائی دنوں کے واقعات کے سلسلے میں اس زمانے کے فلم سازوں‘ اداکاروں اور صحافیوں کے بارے میں بھی بتا دینا ضروری ہے۔

انڈیا سے جو فلم ساز پاکستان آئے تھے ان میں سب سے پہلے فلم سازی کا آغاز نذیر صاحب نے کیا تھا۔ نذیر صاحب کے باے میں بتایا جا چکا ہے کہ وہ بھارت میں ایک کامیاب اور نامور فلم ساز تھے‘ اداکار او ہدایت کار بھی تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک کاروباری ذہن کے مالک بھی تھے۔ وہ ایک پریکٹیکل آدمی تھے۔ منصوبے بنانا اور ان کے بارے میں غور و فکرکرنا ان کی عادت نہیں تھی۔ یعنی اس معاملے میں وہ ڈبلیو زیڈ احمد صاحب کی ضد تھے۔ احمد صاحب طویل المیعاد اور شاندار منصوبے بنانے میں ماہر ہیں لیکن اکثر انہیں عملی جامہ پہنانے کی نوبت نہیں آئی۔ نذیر صاحب کا معاملہ بر عکس تھا۔ وہ انڈیا سے کافی سرمایہ لے کے آئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ وہ کسی اچانک فیصلے کے تحت بھاگ دوڑ میں پاکستان نہیں آئے تھے بلکہ انہوں نے سیاسی حالات کو بھانپ لیا تھا اور پاکستان منتقل ہونے کے لئے اقدامات شروع کر دیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محض خالی ہاتھ ہلاتے ہوئے نہیں آئے بلکہ وہاں کے اثاثے فروخت کرنے کے بعد معقول سرمایہ بھی لے کر آئے۔ لاہور میں انہوں نے مسلم ٹاؤن کے علاقے میں زمینیں خریدیں۔ یہیں انہوں نے اپنی کوٹھی بھی بنائی۔ اسٹوڈیو نزدیک ہی تھا اور بہت سے اداکار وغیرہ بھی مسلم ٹاؤن ہی میں آباد تھے۔

فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ اڑتالیسویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انہوں نے اپنی زمینیں بعد میں اچھے داموں پر فروخت بھی کر دیں۔ مسلم ٹاؤن میں بی پی ڈبل روٹی کی فیکٹری جس زمین پر بنائی گئی وہ بھی نذیر صاحب ہی کی ملکیت تھی۔ نذیر صاحب کی ایک خوبی یہ بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ انڈیا سے آنے والے بیشتر فلم والوں کی طرح انہوں نے نہ تو الاٹ منٹ کرائی۔ نہ حکومت سے قرضہ یا کوئی اور سہولت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بس چپ چاپ حالات اور وسائل کے مطابق کام شروع کر دیا۔ جب کہ دوسرے نامور لوگوں نے سنیما، زمینیں اور کوٹھیاں الاٹ کرائیں اور قرضے حاصل کئے۔ ان پرانے اور تجربہ کار لوگوں کی بے عملی کا ایک سبب وہ مالی سہولتیں بھی تھیں جو انہیں پاکستان آتے ہی حاصل ہو گئی تھی۔ جب خوشحالی ہاتھ پیر ہلائے بغیر ہی مل جائے تو محنت کون کرے ؟ او ر وہ بھی نامساعد حالات میں۔

اس لحاظ سے نذیر صاحب کو پاکستان کی فلمی صنعت کا ستون کہا جاسکتا ہے۔

ان کی پھرتی ملاحظہ کیجئے کہ انہوں نے 1948ء ہی میں اپنی پہلی فلم بنا ڈالی۔ اس کا نام ’’سچائی ‘‘ تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے ہیرو وہ خود اور ہیروئن میڈم سورن لتا تھیں۔ بے بی اختری اور مجید صاحب نے اس فلم میں کام کیا تھا۔ مجید صاحب بمبئی سے آئے ہوئے تھے۔بھاری جسم کے خوش شکل اور وجیہہ آدمی تھے۔ وہاں کیریکٹر ایکٹر تھے اور اچھے اداکار تھے۔ صرف ایک خرابی یہ تھی کہ ان کی آواز قدرے بیٹھی ہو ئی تھی۔ اس کے باوجود ہندوستان کے اچھے اداکاروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ابتدائی چند سال کے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا اور آج تو خود فلم والے بھی اس کے نام سے واقف نہیں ہیں۔ (ٹی وی کے ناظرین نے کچھ عرصہ پہلے مشہور فلم ’’ نور اسلام ‘‘ ضرور دیکھی ہو گی۔ اس فلم میں مجید صاحب نے تاتاریوں کے خان اعظم کا کردار ادا کیاتھا)۔’’ سچائی ‘‘ کے موسیقار چشتی صاحب تھے۔ چشتی صاحب اپنی جگہ ایک مکمل ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ اپنی فن کاری کا لوہا تو قیام پاکستان سے پہلے ہی منوا چکے تھے طرز بنانے میں انہیں کمال حاصل رہا ہے اور فوراً ہی بنا دیتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ طرز بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جو موسیقار کسی نغمے کے بارے میں کہتا ہے کہ اس کی اچھی طرز نہیں بن سکتی وہ غلط کہتا ہے۔ تن آسان ہے یا پھر نالائق۔ ورنہ طرز تو خبر کی بھی بن سکتی ہے۔ ایک بار لوگوں نے آزمائش کے طور پر ان کے سامنے تازہ اخبار رکھ دیا اور ایک خبر کے بارے میں فرمائش کی کہ اس کی طرز بنائیے۔ چشتی صاحب ہارمونیم لے کر بیٹھ گئے اور چند منٹ کے اندر سچ مچ اس خبر کی طرز بنا دی۔ چشتی صاحب کی صلاحیتیں بے پناہ ہیں مگر اسی حساب سے ان کی ناقدری بھی کی جاتی۔ کسی اور ملک میں ہوتے تو پوجے جاتے اور دولت میں کھیلتے۔ یہاں کئی سال سے بے کار رہے اور مالی ابتری کا شکار رہے۔ وہ کئی سال تک فلم سازوں سے شکایت کرتے رہے کہ بھائی تم مجھ سے کام کیوں نہیں کراتے؟ اگر موسیقی اچھی نہ ہو تو معاہدہ ختم کر دینا مگر کام تو کراؤ۔ میری صلاحیتوں کو ضائع کیوں کر رہے ہو مگر فلم ساز بے چارے بھیڑ چال میں لگے ہوئے تھے۔ جن دو چار موسیقاروں کے پیچھے لگ گئے‘ بس لگے ہوئے ہیں۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ چشتی صاحب کی طرزوں کو توڑ مروڑ کر بلکہ خراب کر کے پیش کر رہے ہیں۔ چشتی صاحب سے ہمارا براہ راست واسطہ تو نہیں رہا مگر ویسے بہت ملاقات رہی اور ہم نے ان کی خدا داد لیاقت کا ہمیشہ اعتراف اور احترام کیا۔

نذیر صاحب کی فلم ’’سچائی‘‘ زیادہ کامیاب نہیں ہوئی۔ وجہ بیان کی جا چکی ہے کہ بے سروسامانی کے عالم میں برائے نام سرمائے سے بنائی جانے والی فلمیں بھارت کی اے ون فلموں کا بھلا کیا مقابلہ کر سکتی تھیں۔ پھر بھی سچائی نے مقامی فلم والوں کو ایک حوصلہ اور اعتماد بخشا اور یہ امید دلائی کہ ان حالات میں بھی فلمیں بن سکتی ہیں۔

نذیر صاحب نے زیادہ دیر انتظار نہیں کیا۔ بتایا تو ہے کہ وہ عملی آدمی تھے۔ کام کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ اگلے ہی سال انہوں نے ایک پنجابی فلم ’’پھیرے‘‘ بنائی اور یہ زبردست ہٹ ہو گئی۔ اس فلم میں دونوں میاں بیوی کے علاوہ نذر اور علاؤالدین نے بھی کام کیا تھا۔ ’’پھیرے‘‘ صحیح معنوں میں پاکستان کی پہلی کامیاب فلم تھی۔ یہ 1949ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ بڑی بڑی کاسٹ کی اور بڑے بجٹ کی بھارتی فلموں کے مقابلے اس کی کامیابی نذیر صاحب کی ہنر مندی کا ثبوت تھی۔

اگلے سال انہوں نے ایک اور پنجابی فلم بنا کر سب کو چونکا دیا۔ اس کا نام ’’لارے‘‘ تھا۔ اس فلم میں ان کے اور میڈم کے علاوہ نذر اور زینت وغیرہ نے بھی کام کیا تھا۔ ان دونوں فلموں کی موسیقی چشتی صاحب نے مرتب کی تھی اور دونوں فلموں کے سبھی گانے ہٹ ہو گئے تھے۔ یہ بھی ایک تعریف کی بات ہے کہ اس وقت جب کہ لاہور کی ریکارڈنگ کا مناسب بندوبست تھا نہ ہی تربیت یافتہ سازندے دستیاب تھے‘ چشتی صاحب نے تہلکہ خیز موسیقی بنا کر سب کو چونکا دیا۔ ’’لارے اور پھیرے‘‘ بہت کامیاب رہیں اور ان کے گانے آج بھی مقبول ہیں۔

نذیر صاحب اس کے بعد بھی متواتر فلمیں بناتے رہے اور ان میں سے بیشتر کامیاب بھی ہوئیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نذیر صاحب کی کارکردگی اور کارگزاری کم ہوتی گئی۔ وجہ یہ تھی کہ فلموں کی کامیابی کے باوجود ان کی کفایت شعاری کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جارہی تھی۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کا غصہ اور چڑچڑا پن بھی زیادہ ہو گیا تھا۔ ان کا بس چلتا تو شاید وہ مفت میں فلم بناتے۔ بے روزگاری اورکڑکی کا زمانہ تھا اس لئے انہیں اداکار اور کارکن مل ہی جاتے تھے۔ مگر جب فلم سازی کا دھندا بڑھنے لگا تو اچھے فنکاروں اور ہنر مندوں نے دوسروں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی۔ ادھر نذیر صاحب پیسے بچانے کے لئے نوجوان اور مقبول فن کاروں کو کاسٹ کرنے کے بجائے خود ہی ہیرو بنتے رہے اور میڈم سورن لتا ان کی ہر فلم میں لازماً ہیروئن ہوتی تھیں۔ نوخیز‘ نوجوان اور خوب صورت نئی نئی ہیروئنوں میں فلم بینوں کو قدرتی طور پر زیادہ دلچسپی اور کشش محسوس ہوتی تھی۔ جیسے جیسے فلم سازی کے اخراجات بڑھتے جارہے تھے‘ نذیر صاحب کی سرگرمیاں کم ہوتی جارہی تھیں۔ کچھ سال بعد انہوں نے یہ تبدیلی تو گوارا کر لی کہ اپنی جگہ نوجوان اور مقبول ہیرو کاسٹ کرنے لگے مگر میڈم سورن لتا کے مقابلے میں درپن ہیرو کا رول کرتے ہوئے عجیب سے لگتے تھے۔ اس طرح رفتہ رفتہ نذیر صاحب کی فلم سازی کی سرگرمیاں کم ہوتی چلی گئیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے فلمیں بنانا ہی ترک کر دیں۔ انہیں معاشی اور مالی مسئلہ بھی درپیش نہیں تھا۔ اﷲ کا دیا بہت کچھ تھا اس لئے گوشہ نشین سے ہو گئے اور آرام و سکون کے ساتھ زندگی گزارنے لگے۔

نذیر صاحب سخت گیر اور غصہ ور مشہور تھے اس لئے لوگ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ پیسے بچانے کے لئے وہ ہر ترکیب استعمال کرتے تھے۔ اول تو معاوضہ بہت کم اوپر سے جب مطالبہ کیا جاتا تو وہ اپنی مالی پریشانیاں ایسے اندوہناک انداز میں بیان کرتے کہ مانگنے والا خود ہی شرم سار ہو جاتا۔ اداکار بہت اچھے تھے۔ کیمرے کے سامنے تو اداکاری کرتے ہی تھے کیمرے سے ہٹ کر بھی مناسب موقعوں پر ایسی اداکاری کا مظاہرہ کرتے تھے کہ دیکھنے اور سننے والوں کی آنکھوں سے آنسو آجاتے تھے۔ وہ اپنی عمر‘ بیماری اور مصروفیات کا بیان کرتے۔ پھر مالی پریشانیوں کی تفصیل بتاتے اور ایسی سرد آہیں بھرتے کہ فضا سوگوار ہو جاتی۔

ایک طرف توبہ بے بسی اور بے کسی تھی۔ دوسری طرف شوٹنگ کے دوران میں وہ سراپا غضب ہوتے تھے۔ کوئی اداکار غلطی کر بیٹھتا یا ری ٹیک کرا دیتا تو وہ آگ بگولا ہو جاتے تھے کیونکہ اس کا مطلب تھا شفٹ اور فلم نیگیٹو کا زیاں۔ لہٰذا وہ اس پر برس پڑتے۔ ان کی ڈانٹ سے سبھی ڈرتے تھے اور رعب بھی بہت تھا۔ اس لئے ان کی ڈانٹ کا الٹا اثر ہوتا تھا۔ اچھے بھلے اداکار مکالمے بھول جاتے تھے اور پھر جتنا زیادہ وہ غصے کا اظہار کرتے اتنی ہی زیادہ غلطیاں سرزد ہوتیں۔ نذیر صاحب کا غصہ بھی بڑھتا جاتا۔ یہاں تک کہ ایک ہنگامہ سابرپا ہو جاتا۔ عطا بزدار ان کے لئے اسٹل فوٹو گرافی کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اس شعبے میں بہت نام پیدا کیا۔ وہ بہت اچھے اسٹل فوٹو گرافر تھے اور شوٹنگ کے دوران میں ہی بہت اچھی تصاویر بنا لیتے تھے جو کہ ہر ایک کے بس کی بات نہ تھی۔ انہوں نے نذیر صاحب سے بہت کچھ سیکھا مگر ان کے غصے سے عاجز رہتے تھے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے متبادل کام مل جانے کے بعد نذیر صاحب کے ساتھ کام ہی نہیں کیا۔ عطا بزدار بھی ان ہی لوگوں میں تھے۔ اب مرحوم ہو چکے ہیں۔ وہ نذیر صاحب کے زمانے کے دلچسپ واقعات بھی سنایا کرتے تھے۔

جاری ہے۔ پچاسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...