مسلم لیگ ن دھونس دھاندلی سے اقتدار میں آئی ، سندھ کے عوام کو سیاسی رشوت سے خریدنے کی کوشش نہ کی جائے:بلاول بھٹو

مسلم لیگ ن دھونس دھاندلی سے اقتدار میں آئی ، سندھ کے عوام کو سیاسی رشوت سے ...
مسلم لیگ ن دھونس دھاندلی سے اقتدار میں آئی ، سندھ کے عوام کو سیاسی رشوت سے خریدنے کی کوشش نہ کی جائے:بلاول بھٹو

  


گھڑی خدا بخش (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ عوامی مینڈیٹ سے نہیں بلکہ دھونس اور دھاندلی سے اقتدار میں آئی ہے۔ موجود ہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی داخلی پالیسی ہے اور نہ خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے معاملے پر ملک جہاں 2 سال پہلے کھڑا ہواتھا آج بھی وہیں کھڑا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے فوجی عدالتوں کی ضرورت پڑی، 2 سال بعد بھی آج فوجی عدالتوں کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟ حکمرانوں میں وہ اہلیت اور صلاحیت نہیں ہے وہ صحیح وقت پر درست فیصلہ کرسکیں، سندھ میں لاﺅ لشکر سمیت آ کر وزیر اعظم نے سندھ کے عوام کو جھوٹی تسلیاں دیں ، وفاق کے نام پر سندھ کے عوام کو سیاسی رشوت دینے کی کوشش نہ کی جائے.

پی پی کی طرف میلی نظرسے دیکھنے والے سن لیں ،ہم کسی سے نہیں ڈرتے ، اسی سال الیکشن کے لئے تیار ہیں ،وزیر اعظم ہمارا ہی بنے گا:آصف زرداری

گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو کی 38ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نواز حکومت کو کو قومی سلامتی کی نہیں ، پاناما کی پریشانی ہے، یہ ملک کے لئے نہیں صرف کرپشن سے کمائے گئے پیسوں کو بچانے کا سوچتے ہیں۔میاں صاحب اور ن لیگ پورے ملک میں ترقی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کہاں پر دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔وزیر اعظم اپنے لاﺅ و لشکر سمیت سندھ فتح کرنے آئے ، ایک شادی ہال میں عوام کے سمندر سے خطاب کیا۔ میاں صاحب پاکستان پیپلز پارٹی آپ کو یہ کھیل نہیں کھیلنے دے گی۔ وفاق کے نام پر سیاسی رشوت دینا بند کریں۔اگلا سال الیکشن کا سال ہوگا۔ ان حکمرانوں سے خیر کی امید نہ رکھیں، میاں صاحبان اور مسلم لیگ ن پورے ملک میں ترقی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں ۔ میں پوچھتا ہوں ترقی کہاں ہورہی ہے۔ حکمرانوں میں صحیح وقت پر درست فیصلہ کرنے کی اہلیت وصلاحیت نہیں ہے ، یہ کیسی ترقی ہے جو اشتہارات تک محدود ہے۔

گوشواروں میں ابہام : الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم نوازشریف سمیت دیگر ارکان کو نوٹس جاری کر دیے

بلاول بھٹو نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب سن لیں! آپ کو توبےوقوف بناسکتے ہیں،20 کروڑ عوام کونہیں، اگرترقی ہورہی ہے توبیرونی قرضے کیوں بڑھتے جارہے ہے؟ ترقی ہورہی ہے، تو بیرون قرضے کیوں بڑھتے جارہے ہیں، آئی ایم ایف سے نجات کیوں نہیں ملتی؟میاں صاحبان اور مسلم لیگ(ن)پورے ملک میں ترقی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں ۔ اگرترقی ہورہی ہے توبجلی کے بعد گیس کی لوڈشیڈنگ کیوں بڑھتی جارہی ہے؟ اگرترقی ہورہی ہے توملیں اورفیکٹریاں کیوں بند ہورہی ہیں؟ اگر ترقی ہورہی تو مزدور بھوکا کیوں سوتا ہے؟ اگر ترقی ہورہی ہے توعوام آپ سے نجات کیوں پانا چاہتے ہیں؟ ترقی ہورہی ہے تو چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کیوں بڑھتا جارہاہے؟ اگرترقی ہورہی ہے توبیرونی قرضے کیوں بڑھتے جارہے ہے؟ یہ لوگ آپ کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ میاں صاحب عوام آپ سے نجات پانا چاہتے ہیں۔

’’4 دسمبر 1971 کی شام یہ بچہ گھر سے قرآن پاک پڑھنے جا رہا تھا کہ بھارتی بمباری سے شہید ہو گیا اور ۔۔۔‘‘ معروف قبرستان کے گورکن نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر ہر کوئی دنگ رہ گیا

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ میاں صاحب سندھ کے لوگ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ میاں صاحب، سندھ کے لوگ آپ کے جھوٹے وعدوں کو پہچانتے ہیں۔ میاں صاحب،سندھ کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کوسندھ کیوں یاد آیا۔ 2سال پہلے آپ نے مٹھی کے لیے دوارب روپے کا اعلان کیا تھا،کیا ہوا اس اعلان کا؟ ٹھٹھہ کو آپ کے جھوٹے دلاسوں کی ضرورت نہیں۔ جب کچھ دینے کی باری آتی ہے،تو صرف جھوٹے وعدے۔ آپ صرف چندمخصوص علاقوں کوگیس کے منصوبے منظورکرکے کیاثابت کرناچاہتے ہیں؟میاں صاحب، سیاسی رشوت دینا بند کردیں، عمر کوٹ جیسے تاریخی شہر کو 4 سال بعد بھی گیس نہیں دی جاتی،آپ اپنے حواریوں میں گیس بانٹ رہے ہیں، میاں صاحب آپ بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔

’’اس دن میں رات کو قبر پکی کر رہا تھا کہ ساتھ والی پرانی کچی قبر گر گئی،مٹی ہٹا کر دیکھا تو ۔۔۔‘‘ قبرستان میں قبریں پکی کرنے والے مزدور نے اپنی زندگی کا سب سے حیران کن واقعہ سنا دیا

بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ آج کے دن جمہوریت کے بانی کو پھانسی دی گئی۔ عالم اسلام کے حقیقی ترجمان کو پھانسی دی گئی۔پاکستانی نوجوانوں کے روشن مستقبل کو پھانسی دی گئی۔آج بھی بھٹو کا تذکرہ آنکھوں کو اشکبار کردیتا ہے،بھٹو کا جرم یہ تھا کہ اس نے عوام کے ساتھ سچا عشق تھا، اس نے پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی دی۔ آج تک نہ بھٹو کو انصاف ملا نہ ہی اس کے ورثا کو۔امن کے لئے قربانی دے تو وہ بھٹو، آپ کے بچوں کے مستقبل کے لئے قربانی دے تو وہ بھٹو، ہمیں تو قربانی دینا تو ورثے میں ملا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کب تک بھٹو کو پھانسی دیتے رہیں گے، بھٹو ایک نظرئیے کا نام ہے۔ ظلم اور مذہبی انتہا پسند ی کا ایک ایسا بیج بویا جس کا پھل آج تک ہم کاٹ رہے ہیں۔

مزید : قومی


loading...