ہائی کورٹ کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ،ٹرائل کورٹ سے عمر قید پانے والا ملزم رہا،بری ہونے والے کوعمر قید کی سزا سنادی گئی

ہائی کورٹ کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ،ٹرائل کورٹ سے عمر قید پانے والا ملزم ...
ہائی کورٹ کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ،ٹرائل کورٹ سے عمر قید پانے والا ملزم رہا،بری ہونے والے کوعمر قید کی سزا سنادی گئی

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہورہائیکورٹ نے قتل کیس میں عمرقیدکے ملزم محمد سرفرازڈوگرکوبری کرنے کا حکم دے دیا جبکہ اسی مقدمہ میں ٹرائل کورٹ سے بری ہونے والے مجرم عبداسلام کوعدالت عالیہ نے عمرقیدکی سزاسنادی۔

شمالی کوریا کے ہیکرز کا 18ممالک کے بینکوں اور کاروباری اداروں پر سائبر حملہ ، 81بلین ڈالر سے زائد رقوم چوری کر لیں

ملزم سرفراز ڈوگر کی جانب سے اعظم نذیر ایڈووکیٹ نے مو ¿قف اختیارکیا کہ تھانہ مدینہ ٹاو ¿ن فیصل آبادنے 18فروری 2008ءکوعبدالستارکے قتل کامقدمہ درج کیا، جس میں مدعی مقدمہ سرفرازڈوگرتھاجس کے بعد مقتول کے ورثا نے ملی بھگت کرکے مدعی مقدمہ کو ملزم نامزدکردیا جبکہ پولیس نے ملزم سرفرازڈوگرکو بے قصورقراردے دیا ، اسی مقدمہ میں رانا عبدالسلام سمیت دیگرکا چالان کرکے ٹرائل کورٹ پیش کیا۔ایڈیشنل سیشن جج فیصل آبادنے پولیس کے بے گنا ہ کرنے اورناکافی شواہد کے باوجود 22مئی 2012ءکوسرفرازڈوگرکوعمرقیدکی سزاسنائی جبکہ اسی مقدمہ میں چالان ہونے والے ملزم رانا عبدالسلام کوبری کردیا۔

وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کے سرفرازڈوگرکو عمرقید اوررانا عبدالسلام کو بری کرنے کے حکم کو کالعدم قراردیا جائے۔ عدالت میں سرکاری وکیل نے بریت اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ ٹرائل کورٹ نے وکلاءکے دلائل اورچشم دید گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مذکورہ بالافیصلہ سنادیا۔

مزید : لاہور


loading...