’’گلگت بلتستا ن‘‘ خیبر پختونخوا اور ڈاکٹر شفیق جالندھری

’’گلگت بلتستا ن‘‘ خیبر پختونخوا اور ڈاکٹر شفیق جالندھری
’’گلگت بلتستا ن‘‘ خیبر پختونخوا اور ڈاکٹر شفیق جالندھری

  

ڈاکٹر شفیق جالندھری ابلاغیات کے ماہرین میں شمارہوتے ہیں ، ملک کے نامور کالم نویسوں میں ان کا نمایاں مقام ہے ۔ ان کی

کتابیں،صحافت اور ابلاع ، صحافت اور صحافی ، امریکہ نامہ مقبولیت حاصل کر چکی ہیں حال ہی میں ان کی کتاب گلگت بلتستان سامنے آئی ہے، جس کی تقریب رونمائی کی صدارت وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کی،اظہارِ خیال کرنے والوں میں جاوید انور ، رؤف طاہر ،ڈاکٹر نوشینہ سلیم، سجاد میر ،ڈاکٹر مجاہد منصوری اور دیگر شامل تھے۔

اس تقریب کی خوبی یہ تھی کہ مقررین نے سیاست کی بجائے ادبی باتیں کیں فواد چودھری کا بھی لگتا ہے کہ ادب کے ساتھ تعلق واسطہ ہے ، انہوں نے بھی سیاست کو نہیں چھیڑا، بلکہ ڈاکٹر شفیق جالندھری کی ادبی کاوشوں کو سراہا، فواد چودھری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جہاں دنیا کی 8چوٹیوں میں سے 5پاکستان میں ہیں۔

ڈاکٹر شفیق جالندھری نے خوبصورت اندازمیں گلگت بلتستان کو تحریر کیا ہے۔ حکومت نے بلتستان پر بھرپورتوجہ دی ہے تاکہ شعبہ سیاحت سے زرمبادلہ میں اضافہ ہو ۔سی پیک سے شاہراہ ریشم سے ترقی کے باب میں ایک اور اضافہ ہوا ہے ۔ڈاکٹرشفیق جالندھری نے گلگت بلتستان کے ذریعے عوام میں شناسائی کا وسیلہ تلاش کیا ہے۔

ڈاکٹر شفیق جالندھری کی کتاب گلگت بلتستان سے ہٹ کر بات کی جائے تو شعبہ ابلاغیات میں بہت سے اشخاص ایسے ملتے ہیں جو ابلاغیات کے ساتھ ساتھ مخلص بھی ہوں اور دوسروں کا خیال بھی اپنا سمجھ کر کرتے ہوں۔ ایسا درویش صفت انسان میں نے بہت کم دیکھا ہے جاوید انور کا تقریب رونمائی میں کہنا تھا کہ ڈاکٹر شفیق جالندھری کی اس کتاب کی بدولت معیشت مضبوط ہوگی ۔

سیاحت کی ترقی میں یہ کتاب سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے گلگت بلتستان کا مقابلہ انہوں نے دبئی اور قطر کی ریاست کی سیاحت کے ساتھ کیا اور ’’گلگت بلتستان‘‘کو زرمبادلہ میں اضافے کا سبب قرار دیا ۔ رؤف طاہر نے ڈاکٹرشفیق جالندھری کی کتاب کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ساری کتابیں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں ’’گلگت بلتستان‘‘ ان کے مشاہدات کا نچوڑ ہے اور سفرنامے کی طرز کی کتاب ہے ڈاکٹر شفیق جالندھری کی کاوش ’’گلگت بلتستان‘‘ میں جس کمال سے وہاں کی ثقافت، کلچر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کا تذکرہ عام قاری کے لئے دلچسپی کا سبب ہے۔ ڈاکٹر مجاہد منصوری نے شعبہ ابلاعبات میں ڈاکٹر شفیق جالندھری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ شعبہ ابلاغیات میں ان کے لاتعداد شاگرد ہیں ’’گلگت بلتستان‘‘ لاجواب کتاب اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

مجاہد منصوری نے خیبر پختونخوا کی اصلاحات اور مثبت اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ۔ مشہور اینکر پرسن ،کالم نویس سجاد میر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شفیق جالندھری نے گلگت بلتستان لکھ کر پاکستان کے اس حصے کی پہچان کروائی ہے،جو سی پیک منصوبے کا اہم حصہ ہے انہوں نے ڈاکٹرشفیق جالندھری کے ساتھ پرانی دوستی کا تذکرہ کیا اور ان کے ساتھ طویل وابستگی کے دوران کچھ واقعات بھی بیان کئے ۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ خیبر پختونخوا کی کچھ اہم باتوں کا بھی ذکر کر گئے انہوں کہا کہ ڈاکٹرشفیق جالندھری ابلاغیات کے بے تاج بادشاہ ہیں پاکستان میں ابلاغیات کے موضوع پر ان کی ریسرچ اہمیت کی حامل ہے ان کی یہ نئی کتاب پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم ہے ۔

ڈاکٹرنوشینہ سلیم نے بھی اظہارِ خیال کیا ۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض راجہ اسد علی نے سرانجام دیئے، کتاب کی تقریب رونمائی کا اہتمام مولانا ظفر علی ٹرسٹ نے کیا تھا ۔

اس تقریب میں جو بات نمایاں تھی یہ تھی، مختصر تقریب اور سیاسی رہنماؤں کی تعداد غیر معمولی ہونے کے باوجود غیر سیاسی رہی ،ادب، مصنف اور صوبہ گلگت بلتستان کی ترقی پر اظہار خیال ہوتا رہا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آئے تو پہلے انہوں نے ڈاکٹر شفیق جالندھری کی کتاب پر اظہار خیال کیا اور کتاب کی اہمیت اور افادیت کو سی پیک منصوبہ سے جوڑا پھر لاہور میں زندگی کے جو برس انہوں نے گزارے، وہ واقعات بیان کئے، خصوصی طور پر ڈاکٹرشفیق جالندھری کی اس تقریب میں دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ کتاب سیاحت کی ترقی ،خوشحالی اور زرمبادلہ میں اضافے کے لئے ایسی کتابیوں کی ضرورت پر زور دیا جو پاکستانی کی سیاحت کو پروان چڑھائیں۔

ڈاکٹرشفیق جالندھری کی اس کتاب کو انہوں نے ملک کے لئے اہم قرار دیا۔ تقریب کے دوران سٹیج سیکرٹری نے ’’زمیندار‘‘ اخبار اور روزنامہ ’’زمیندار‘‘کی مقبولیت کا تذکرہ بھی خوبصورت انداز میں بیان کیا۔

تقریب کے آخر میں ڈاکٹرشفیق جالندھری نے وزیراعلیٰ کی حوصلہ افرائی پر اظہارِ تشکر پیش کیا۔ مصنف نے بتایا کہ ذاتی تجربات و مشاہدات کی روشنی اور اس خطے سے تعلق رکھنے والے افرادکو اچھوتے انداز میں بیان کیا گیاہے ۔

ڈاکٹرشفیق جالندھری کی یہ کتاب شعبہ صحافت اور سیاحت کے لئے سرمایہ ہے اور ملک میں زرمبادلہ میں اضافہ کا باعث بنے گی اور ایسی کتابوں کی ملک بھر میں طلباء وطالبات اور شہریوں کی رہنمائی کے لئے اشد ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -