شکریہ لاہور !

شکریہ لاہور !
شکریہ لاہور !

  

مجدد الف ثانیؒ نے کہا تھا کہ بلاد اسلامیہ میں لاہور شہر قطب ارشاد کی حیثیت رکھتاہے۔ جو تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہے، رفتہ رفتہ کل عالم اسلام کی تحریک بن جاتی ہے۔

مجدد نے جس دور کا ذکر کیا وہ برصغیر میں مسلم خوشحالی اور عروج کا دور تھا اور ہم جس دور کا ذکر کرنے جا رہے ہیں وہ ن لیگ اور لٹیروں کی ظلمت کا دور ہے۔ ایک عرصہ قبل تک لاہور علمی، ادبی، شعری اور فنی حوالوں سے ایک جیتا جاگتا شہر تھا۔

لیکن اسے اب ٹریفک کا شہر، بغیر سہولتوں کے ہسپتالوں کا شہر، کرپٹ مافیا کا گڑھ اور ٹھیکے داروں کا شہر کہا جاتا ہے۔ جہاں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔

اس کرپشن کو ختم کرنے کے لیے عمران خان نے جس تبدیلی کا اظہار چند سال پہلے کیا تھا آج اس کے ثمرات مل رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ہوئی لاہور میں رکنیت سازی میں لوگوں کی توقعات سے زیادہ شرکت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

زندہ دلان لاہور نے اپنے قومی ہیرو عمران خان کا فقید المثال استقبال کر کے نئی سیاسی تاریخ رقم کر دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ کرپشن کرنے والے پرانے سیاسی پنڈتوں کا دور گزر چکا اور اب ملک میں تبدیلی کا وہ نیا سورج طلوع ہو گا جس کا خواب عمران خان نے 21برس پہلے دیکھا تھا، عمران خان نے مجھ ناچیز کو بطور صدر سنٹرل پنجاب تحریک انصاف یہ کہا تھا کہ لاہور میں ممبر سازی مہم تمام اضلاع سے ہٹ کر اور کامیاب ترین ہونی چاہیے ، اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے ہر ٹارگٹ کو آسانی سے پورا کیا اس حوالے سے میں تمام پارٹی کارکنوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کیا ہے جس پرپارٹی لیڈر شپ ان پر بجا طور پر فخر کر سکتی ہے ،میں تمام مقامی پارٹی رہنماؤں کی کاوشوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہر موقع پر ساتھ دیا،میرے خیال میں اگر یہی عزم رہا تو جاتی امراء کے شاہی محلات بہت جلد عجائب گھر میں تبدیل ہونگے اورشریفوں کی باقیات عبرت کی نشانیوں کے طور پر دیکھی جائیں گی، عمران خان کی لاہور آمد پر نظر آنے والی تبدیلی کی لہر رکنے والی نہیں، آئندہ انتخابات میں کرپشن کرپٹ مافیا کو بہالے جائے گی لوٹ مار کی کمائی سے مضبوط قلعے تعمیر کرکے خود کو محفوظ سمجھنے والوں کو اندازہ ہوچکا ہے کہ عوامی نفرت کا ریلا آئے تو کچھ نہیں بچتا،دھونس دھاندلی اور دولت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اقتدار میں آکر ذاتی مفادات کا سودا کرنے والے سیاسی تاجر بے نقاب ہوچکے ہیں ،الیکشن میں درباریوں اور حواریوں کو فنڈز کی بندر بانٹ کیلئے اداروں کی لوٹ سیل لگانے والے کا کوئی حربہ نواز لیگ کی ساکھ بحال نہیں کرسکتا،مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھرمار کرنے والی کٹھ پتلی حکومت عوام کی جیبوں پرڈالنے سے باز نہیں آرہی، لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے گزشتہ 5سال میں کئے گئے ،حکمرانوں کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے، بیشر علاقوں میں گھنٹوں بجلی کو ترستے لوگ جھوٹوں اور فریبیوں کی جان کو روتے نظر آتے ہیں۔

عمران خان انہی کرپٹ سیاستدانوں کو آگے لے کر چلے ہیں، لاہور میں انہوں نے 15مقامات پرمختلف کیمپوں سے خطاب بھی کیا ، ممبر سازی مہم کا آغاز لبرٹی چوک سے کیا گیا۔

کارکنان کا جوش و خروش، قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گئیں ،جلو موڑ پر روایتی پگڑی پہنائی گئی، آتش بازی کی گئی،عمران خان نے ممبر شپ مہم کی کامیابی اور والہانہ استقبال پر لاہوریوں کا شکریہ ادا کیا ممبر سازی مہم کے دوران متعدد جگہوں پر خطاب کرنے سے عمران خان کا گلا بیٹھ گیا ،

یوحنا آباد کیمپ تحریک انصاف رہنماؤں منشاء سندھو، چوہدری یوسف میو، میاں علی مرتضیٰ،شنیلا روتھ، آصف کھوکھر، عامر سیموئیل سمیت دیگر نے لگایا تھا، یہاں عمران خان نے کرسچن کمیونٹی سے خطاب میں کہا کہ ایسٹر کے موقع پر میں بھی آپ کی خوشیوں میں شامل ہو نے آیا ہوں ،دونوں شریفوں نے تیس سال میں پنجاب کی پولیس کو تباہ کیا ،شریفوں نے میرے اور میرے ساتھیوں پر دہشتگردی کے جھوٹے کیس بنائے ہیں، ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر فرعون کا وقت آتا ہے وہ پکڑ میں آتاہے ، ایک پوچھ رہا ہے مجھے کیوں نکالا دوسرا بھی جلد قانون کے کٹہرے میں ہوگا۔

اسی طرح ہمارا قافلہ ٹھوکھر نیاز بیگ سے جناح ہسپتال چوک پہنچا ، جہاں پرتباک استقبال کیا گیا، یہ کیمپ تحریک انصاف رہنماؤں نذیرچوہان سمیت دیگر نے لگایا تھا ،پھر ہم جناح ہسپتال سے اکبرچوک پہنچے ، یہ ممبر شپ کیمپ اعجازاحمدچوہدری، ڈاکٹر شاہد صدیق خان، شبیرسیال، فیاض بھٹی، عبدالکریم کلواڑنے لگایا تھا، پھر ہم اکبرچوک سے دبئی چوک پہنچے، یہ کیمپ تحریک انصاف کے رہنماؤں شفقت محمود، میاں محمود الرشید، ڈاکٹر مراد راس سمیت دیگر نے لگایا تھا۔

الغرض پورے لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں، رہنماؤں اور لیڈرشپ نے میلے کا سماں باندھ رکھا تھا۔

عوام کا جوش و خروش دیکھ کر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اب عوام اس تخت لاہور پر قابض حکمرانوں سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ دونوں بھائی ڈان بنے بیٹھے ہیں۔ ن کی دورِحکومت میں سرکاری سکول، ہسپتالوں کی صورتحال ابتر ہے چار چار مریض ایک بیڈ پر پڑے ہیں ، نوازشریف ، شہباز شریف اسحاق ڈا ر بھی بیرون ملک علاج کروانے جاتے ہیں، کھربوں روپے ہر سال لاہور میں خرچ ہو رہا ہے مگر ایک بھی ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں ان کا علاج ہوسکے ،انہوں نے کہاکہ عوام کے لئے پینے کا پانی ، نہ ہی انصاف ، نہ نوجوانوں کے روز گار ہے اور انہوں نے اپنی جیبیں بھری ہیں۔

ان سے جان چھڑانے کے لیے ہمیں الیکشن 2018ء تک اسی عزم سے کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے لیے چھوٹے چھوٹے گول سیٹ کر لیں اس لیے ہمارا پہلا گول 29اپریل کا لاہور میں جلسہ ہے۔ ہمیں تمام اختلافات بھلا کر اس دن کے لیے کام کرنا ہے۔

میرے دل کے دروازے ہر اُس شخص کے لیے کھلے ہیں جو پارٹی مفاد کے لیے اور اس ملک کے مفاد کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ میرے آفس کے دروازے کھلے ہیں میں 24گھنٹے درکار ہوں اس مشن کے لیے، میں سیاست کو مشن سمجھ کر کر رہا ہوں اور اس کے لیے مجھے کوئی بھی قیمت چکانا پڑی میں اس کے لیے تیار ہوں۔ لیکن میری صرف ایک درخواست ہے کہ آگے بڑھیں، پیچھے کھڑے رہ کر کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

میں تمام ساتھیوں، دوستوں اور تحریک انصاف کے لوگوں سے دست بستہ درخواست کرتا ہوں کہ 29اپریل کو لاہور کے پی ایم ایل این کے قلعے کو گرائیں اور وہاں عوامی قلعہ تعمیر کردیں اور یہ ثابت کردیں کہ جب عزم کر لیا جائے تو پھر پیچھے نہیں ہٹا کرتے، اسی میں ہم سب کی کامیابی ہے۔

میں نے ہزار مخالفتوں، مقدموں اور مسائل کے باوجود پارٹی مفاد میں جو ہوا وہ کیا ، اس کے بدلے میں مجھے جو ملا وہ توقعات سے بڑھ کرملا ہے، اس شہر لاہور سے ہمیں ہزاروں نئے کارکن ملے ہیں جو جذبے کے ساتھ ہمارے سے کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں ۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حالیہ رکنیت سازی میں لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کریہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ آج بھی عمران خان پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ جو عوام کو کسی صورت مایوس نہیں کرے گا، جو ملک کو اندھیروں سے نکال کر باہر لائے گا، جو دنیا بھر میں پاکستان کا قد کاٹھ اونچا کرے گا، جو کرپشن کو فروغ نہیں دے گا، جو عام آدمی کے مسائل کو ختم کرے گا، جو ملک سے بے روزگاری ختم کرے گا، جس کے نہ تو ذاتی کاروبار ہیں اور نہ ہی آف شور کمپنیاں ہیں جو ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ لہٰذاعوام 29اپریل کے جلسے کوٹارگٹ رکھیں، اس میں بھرپور شرکت کر کے یہ ثابت کریں کہ عوام ان کرپٹ حکمرانوں سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -