’’ اچانک خون میں لت پت کفن پہنے ہوئے ایک عورت میرے سامنے آئی اور کہا کہ ۔۔۔ ‘‘وہ کون تھی اور اسکے ساتھ کیا ہوا ،جان کر آپ غم سے بے ہوش ہوجائیں گے

’’ اچانک خون میں لت پت کفن پہنے ہوئے ایک عورت میرے سامنے آئی اور کہا کہ ۔۔۔ ...
’’ اچانک خون میں لت پت کفن پہنے ہوئے ایک عورت میرے سامنے آئی اور کہا کہ ۔۔۔ ‘‘وہ کون تھی اور اسکے ساتھ کیا ہوا ،جان کر آپ غم سے بے ہوش ہوجائیں گے

تحریر: فیصل وقاص

آپ سب لوگوں کی زندگی میں بھی کوئی نہ کوئی ایسا خطرناک یا پُر سرار واقعہ رونما ہو ا ہو گا جس نے آپ کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہو،ایسا ہی ہولناک واقعہ جو میرے ساتھ پیش آیا میں آج بھی اسے یاد کروں تو میرے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

میں ایک ایسے حویلی نما گھر میں کام کرتاتھا جس میں دو روحیں بھی رہتی تھیں ۔اس گھر میں سترسالہ بیوہ رہتی تھی جس کی میں دیکھ بھال کا کام کرتا تھا۔اس بیوہ عورت کے خا وند کی موت بھی اسی گھر میں واقع ہوئی تھی اور یہاں سب کا ایسا خیال ہے کہ اس آدمی کی روح آج بھی اسی گھر میں موجود ہے۔

میں نے اسی گھر میں آنکھ کھولی ۔مجھے نہیں پتہ میرے ماں باپ کون تھے،بڑھیا نے بتایا تھا کہ وہ مجھے کھیتوں سے لاوارث کے طور پر اٹھا کر لائی تھی۔

میں شروع ہی سے روحوں ،جنوں اور چڑیلوں کی کہانیوں پر یقین نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کبھی مجھے ایسی باتیں حقیقت پر مبنی لگتی تھیں۔حالانکہ وہاں میرے ساتھ ایک بوڑھی عورت جو کہ رات کی شفٹ میں کام کرتی تھی (جو اب اس دنیا میں نہیں ہے)،اس نے بتایا تھا کہ اس گھر میں دو روحیں رہتی ہیں ان میں سے ایک تو بیوہ کے خاوند کی ہے اور دوسری روح ایک عورت کی ہے جو نہ معلوم کون ہے ۔ لیکن میں نے کبھی بھی اس عورت کی روح کو نہ ہی وہاں محسوس کیا اور نہ ہی دیکھا تھا،صرف آدمی کی آوازیں کبھی کبھار سنی تھی جو کہ میں اپنا وہم سمجھتا تھا۔

بیوہ عورت کا گھر ایک خالی بہت بڑے کھنڈر نما حویلی کی طرح کاہے ،ایسی عمارتیں اکثر ڈراؤنی فلموں میں نظر آتی ہیں۔یہ حویلی بہت زیادہ بڑے بڑے کمروں پر محیط ہے ،یہ کمرے بہت بڑے بھول بھلیوں کی طرح کے ہیں ۔ایک کمرہ دوسرے اور وہ اگلے کمرے میں جا کر نکلتا ہے۔ یہ حویلی عورت اور اس کے خاوند نے کوئی 1960کی دہائی میں تعمیر کروائی تھی۔یہ عمارت وہاں کے علاقے کی مشہور ہے کیونکہ اس عمارت میں بہت ہی خوبصورت آرٹ پر مبنی کام کیا گیا ہے۔ایک باغ بھی ہے جس میں بہت پرانے پرانے پودے اور درخت ہیں۔لوگ اس عمارت کی خوبصورتی کی تعریفیں بھی کرتے ہیں لیکن رات کو اس میں آنے سے ڈرتے بھی ہیں۔

ایک رات کھانے کے بعد میں کچن کی صفائی کر رہا تھا، گھر کی مالکہ ٹی وی چینل کی نیوز چلا کر ٹی وی لانج میں کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔مجھے کرسی کی پیچھے والی سائیڈ دکھائی دے رہی تھی۔اس لمحے مجھے کسی عورت کی سسکیاں لے لے کر رونے کی آواز سنائی دی ۔اس آواز کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ آواز ٹی وی میں سے آ رہی ہے لیکن جب آواز کی پچ بلند ہوئی تو میں نے غور کیا تو وہ آواز ٹی وی میں سے نہیں آ رہی تھی ۔میں بھاگ کر بڑھیا کے پاس گیا کیونکہ مجھے لگا وہ رو رہی ہے ۔

میں نے ہمدردانہ جذبات سے بڑھیا سے پوچھا ’’ کیا ہواہے ؟‘‘

اس نے مجھے کھا جانے والے انداز سے گھور کے دیکھا اور کہا ’’اپنی بکواس بندکرو مجھے ٹی وی دیکھنے دو‘‘

مجھے ابھی تک عورت کے سسکیاں لے لے کر رونے کی آواز آ رہی تھی ۔میں نے بڑھیا سے پوچھا ’’ آپ کو کسی عورت کے رونے کی آواز سنائی دے رہی ہے‘‘تواس نے کہا نہیں ۔لیکن یہ کوئی عام رونے کی آواز نہیں تھی بلکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی عورت پر تشدد کر کے اسے کاٹاجا رہا ہو اور وہ انچی اونچی اپنی درد بھری آواز سے مدد مانگ رہی ہو۔بعض دفعہ ایسا لگتا کہ جیسے کوئی حادثاتی صورت میں مررہا ہو اور مرنے سے پہلے درد سے کراہ رہا ہو۔لیکن آواز کی گونج پوری عمارت میں سے آ رہی تھی مگربڑھیا کو نہیں سنائی دے رہی تھی ۔اس بات کی وجہ سے میں الجھن کا شکار ہو گیا اور مجھے گھبراہٹ بھی محسوس ہو رہی تھی۔میں بے چینی کے عالم میں آواز کی تلاش میں نیچے ہال کے اندر بھی گیا اور وہاں ہر طرف دیکھا ،مگر رونے والی عورت کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔پھر میں کبھی اوپر کسی کمرے میں اور کبھی باہر گیا۔ آواز ہر جگہ سے میرے کانوں میں گونج رہی تھی ۔ میرے ذہن میں تجسس بڑھتا جا رہا تھا کہ آخر یہ کون ہے اور کیوں ر و رہی ہے۔

عورت کے کراہنے کی اور سسکیاں بھری آواز کی تلاش میں بیوہ عورت کے بیڈ روم میں پہنچ گیا۔ایسے لگ رہا تھا آواز یہاں سے ہی آ رہی ہے اور شدت میں اس قدر اضافہ ہو چکا تھا کہ قابل بیان نہیں ۔

کمرے میں ایک دم لائٹیں کبھی بند ہوتیں اور کبھی جلنے لگتیں ۔پھر دروازہ خود بخود بند ہو گیا ۔میرے پاؤں ڈر سے زمین پر منجمند ہو گئے ۔میں بہت زیادہ گھبرا گیا اور جلدی سے آیت الکرسی پرھنے لگا ۔میرے جسم سے پسینے چھوٹ رہے تھے اور کانپتی ہوئی آواز سے میں نے چلاّ چلاّ کر پوچھا’’ ک۔۔کک ۔۔کون ہے؟‘‘ اسکے ساتھ ہی مجھے سفید کپڑوں میں ملبوس عورت نظر آ ئی ۔اس کے جسم سے خون نکل رہا تھا ۔وہ کراہتے ہوئے میری طرف آئی ’’میرے بچے تو اس قاتل عورت کے پاس کیوں رہتا ہے،یہ تیری ماں کی قاتل ہے،تیرے باپ کو اس نے مار ڈالا اور تجھے اپنا نوکر بناکر رکھا ‘‘اسکی بات سن کر میرا سر گھوم گیا ،خوف سے پورا جسم کانپااور میں بیہوش ہو کر گر گیا۔

جب مجھے ہوش آیا تو میں ایک بستر پر موجود تھاجہاں سامنے ڈاکٹر بھی تھا لیکن میں اس قدر ڈراہواتھا کہ اسے یہ نہ بتا سکا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔میں نے چند دنوں بعد اس گھر اور بڑھیا کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور دوسرے شہر چلا گیا ۔ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ اس پراسرار خون میں لت پت عورت کی بات کی کھوج لگاتا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...