A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

’’ملالہ کوسزادو ‘‘

’’ملالہ کوسزادو ‘‘

Apr 04, 2018 | 14:51:PM

پروفیسر یونس مسعود 

پاکستانی قوم میں جہاں بہت سی خوبیاں ہیں وہاں کچھ خامیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانی قوم بہت زیادہ حاسد بھی ہے جس کی بڑی مثال ملالہ یوسف زئی ہے۔ ملالہ کے خلاف جتنا پروپیگنڈا اسے نوبل پرائز ملنے کے بعد شروع ہوا اتنا نوبل پرائز ملنے سے پہلے نہیں تھا۔ اس سے پہلے ڈاکٹر عبدالسلام کو جو فزکس کے شعبے میں نوبل پرائز ملا اسے بھی اسی قوم نے قادیانی ہونے کی وجہ سے رد کر دیا تھا۔

دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان میں جو کوئی تھوڑا بہت ٹیلنٹ رکھتا ہو اور سیاست میں دلچسپی لینی شروع کردے تو اس کی کردار کشی اسی دن سے شروع ہو جاتی ہے۔ ملالہ نے بھی اس قسم کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس حوالے سے طاہرالقادری اور عمران خان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان دو شخصیات کو سیاست میں آنے سے پہلے پاکستانیوں کی بڑی اکثریت پسند کرتی تھی مگر جونہی انہوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا تو ان کے خلاف الزامات کا طوفان شروع کر دیا گیا۔ اس کے برعکس مولانا طارق جمیل، الیاس قادری، عارفہ کریم رندھاوا، عبد الستار ایدھی، اور دیگر بڑی شخصیات جو سیاست سے دور رہیں تو ان پر الزامات اور ان کے خلاف پروپیگنڈا بھی نسبتاً کم کیا گیا۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ ملالہ کو طالبان نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا، اس لئے اس کے خلاف ان لوگوں نے پروپیگنڈا زیادہ کیا جن کے دل میں طالبان کے لئے نرم گوشہ تھا اور یہ وہی گروہ ہے جس نے طالبان کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کی مخالفت اور طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ اس گروہ نے بعد میں اس پروپیگنڈا میں اس قدر مذہبی رنگ شامل کر دیا کہ پھر پاکستانیوں کی اکثریت نے ان کی حمایت کر دی۔ یہ بالکل ایسے ہوا جیسے ختمِ نبوت کے معاملے پر فیض آباد والے دھرنے کی ہر کسی نے حمایت کی اور اکثر لوگ اس بات سے بے خبر رہے کہ اس گھناؤنے کام کے ماسٹر مائینڈ اور فساد کی جڑ کون لوگ تھے اور ابھی تک نہ ان کی درست نشاندہی ہونے دی گئی اور نہ ہی انہیں کوئی سزا دی گئی۔

ملالہ کے خلاف جتنی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں ان کی اکثریت جعلی اور اس کی کتاب پر ہونے والے بیشتر الزامات بھی درست نہیں ہیں۔ شیئر کرنے والے بہت سے احباب نے نہ تو خود کتاب پڑھی ہے اور نہ ہی ان الزامات پر کسی معتبر مفتی نے کفر اور گستاخی کا فتویٰ لگایا ہے۔

کون محبِ وطن ہے اور کون غدار ہے اس کا فیصلہ ہم سوشل میڈیا کی کچھ پوسٹس پڑھ کر نہیں کر سکتے، اس کا فیصلہ کرنا اعلٰی عدلیہ اور ہماری انٹیلیجنس کے ادارے کا کام ہے۔ ابھی تک ملالہ کے خلاف کسی عدالت نے غداری کا فیصلہ نہیں دیا۔

ملالہ کا آپریشن پاکستان آرمی کے نیورو سرجن لیفٹیننٹ جنرل جنید مشتاق نے باقی اعلٰی افسران کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ ملالہ کی عیادت کرنے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی گئے اور انہی کی ہدایت پر اسے بیرونِ ملک علاج کے لئے بھیجا گیا۔ اب جب اتنے عرصے کے بعد ملالہ پاکستان آئی ہے تو وہی پاک آرمی اسے آرمی کے ہیلی کاپٹر میں سوات، مینگورا اور دیگر علاقوں میں پہنچا رہی ہے اور اعلٰی فوجی افسران اس سے ملاقات کر رہے ہیں۔

مجھے اور آپ سے زیادہ محبِ وطن پاکستانی فوج ہے۔ ملک کا چپہ چپہ اس کی نظروں میں ہوتا ہے اور ہر قسم کی ملک دشمن سرگرمیوں کو ہماری انٹیلی جنس کے ادارے بغور دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ خدا ناخواستہ ذرا سی بھی غفلت کا مظاہرہ کریں تو نہ یہ ملک سلامت رہے اور نہ یہ قوم۔ اس لئے جب یہ اسے غدار ڈیکلیئر نہیں کر رہے تو مجھے یا آپ کو بھی اسے غدار کہنا مناسب نہیں ہے، اور اگر مستقبل میں یا کسی لمحے بھی اس نے کسی طرح کی غداری کرنے کی کوشش کی تب بھی مجھے یا آپ کو کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ہماری انٹیلیجنس اور ہماری فوج اچھی طرح جانتی ہے کہ غداروں کو سبق کیسے سکھایا جاتا ہے۔

نوبل پرائز دنیا کا بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے۔ جب کسی کو یہ اعزاز ملتا ہے تو ساری دنیا سے لوگ اس کے متعلق تفصیلات معلوم کرتے ہیں، اس کی شخصیت، اس کی کہانی جانتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں ملالہ کو ایک مثبت علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اگر اس کی ذات خامیوں اور غلطیوں سے بھرپور ہو تب بھی انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اس کا بھرپور مثبت پروپیگنڈا کیا جا چکا ہے۔ اب اگر ہم اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں تو اس سے نہ اس کی ذات کی خامیاں دور ہو سکتی ہیں، نہ اس کے گناہ دھل سکتے ہیں لیکن یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ اگر منفی پروپیگنڈا جاری رہا یا اس میں مزید شدت آتی گئی تو فتنہ اور انتشار پھیلے گا اور دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوگی۔

اگر آپ واقعی ملالہ کو گستاخ، کافر اور غدار سمجھتے ہیں تو آپ سوشل میڈیا پر بحث کرنے کی بجائے معتبر اور ممتاز مفتیانِ کرام سے اس کے خلاف فتاویٰ جات حاصل کریں پھر عدالت میں اس کے خلاف وہ سارے فتاویٰ جات اور دیگر شواہد پیش کریں تاکہ اگر وہ واقعی اتنی بڑی مجرم ہے تو اسے قرار واقعی سزا مل سکے۔

(بلاگر پروفیسر یونس مسعود بنیادی طور پر درس و تدریس سے منسلک ہیں ،ایم ایس سی ہیں اوراپلائیڈ لینگویسٹک میں ایم فل ہیں،قومی اخبارات میں فکر ی راہنما کالم لکھتے ہیں )

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں