قومی زبان اُردو کی کسمپرسی

قومی زبان اُردو کی کسمپرسی
قومی زبان اُردو کی کسمپرسی

  

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کے لئے دائر درخواست پر وفاق سے دو ہفتے میں جواب طلب کر لیا ہے…… تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اس پر وفاق کا کیا موقف ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے کہا کہ عدالت جو حکم صادر کرے، وفاق نے عمل کرنا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 251 کے تحت اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاق سے دو ہفتے میں جواب طلب کر لیا اور سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کر دی……ایک اعتبار سے، یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ایک پاکستانی شہری نے، سپریم کورٹ کے اردو بارے فیصلے کے عملی نفاذ کے لئے ہائی کوٹ اسلام آباد کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ یہ منطق سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنے برس ہو گئے ہیں، ابھی تک سپریم کورٹ کا فیصلہ”برائے نفاذ اردو“ کیوں عمل میں نہیں لایا گیا؟ عدالت عظمیٰ پاکستان کے فیصلے کو اس طرح نظر انداز کرنا، بیورو کریسی کی ناکامی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔

عدلیہ تو اپنے فیصلے آزادی سے کرتی ہے اور انتظامیہ کا کام اس کا نفاذ ہوتا ہے، خواہ کوئی بھی فیصلہ ہو۔ اس طرح عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے نفاذ میں دیر کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ 1973ء کے آئین کا آرٹیکل 251 اردو کو قومی زبان تسلیم کرتا ہے۔ تب نفاذ کے لئے صرف 15 برس کا عرصہ طے ہوا تھا اور اب اس تحریری اور بنیادی دستاویز کو نافذ ہوئے نصف صدی کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا نفاذ اردو کے متعلق فیصلہ 8 ستمبر 2015ء میں آیا تھا، کئی درخواستیں تھیں، وکیل کوکب اقبال کی درخواست 2003ء میں دائر کی گئی تھی۔ دوسری اہم درخواست محمود اختر نقوی کی تھی جو 2012ء میں دائر کی گئی تھی۔ مقدمہ 7 ماہ چلتا رہا، پھر تاریخی فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدلیہ نے بال حکومت کی کورٹ میں پھینک دی۔ تحریک نفاذ اردو والوں کی یہ ایک بڑی فتح تھی۔

یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اب ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ تعلیم کا شعبہ مکمل طور پر صوبوں کو دے دیا گیا ہے۔ نصاب تیار کرنے اور ذریعہ تعلیم طے کرنے کے اختیارات صوبوں کے پاس آ چکے ہیں۔ مرکز میں اب کوئی ادارہ اردو کے حق میں فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں رہ گیا۔ سندھ سے قومی اسمبلی کی رکن ماروی میمن نے 2010ء میں ایک بل قومی اسمبلی میں لانے کی کوشش کی تھی، جس میں اردو کے ساتھ ساتھ بلوچی، سندھی اور پشتو کو بھی قومی زبانیں تسلیم کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا، لیکن وہ تحریک ناکام ہو گئی تھی۔ آج کل بھی کچھ عوامی نمائندے ایسی سوچ رکھتے ہیں۔مزید برآں! حکومتی نظامِ تعلیم کے باہر بے شمار انگریزی میڈیم سکول بن چکے ہیں۔ کئی تعلیمی چینز (Chains) بن چکی ہیں۔ مثلاً بیکن سکول سسٹم اور سٹی سکول وغیرہ…… ایک سروے کے مطابق 2000ء کے بعد ایسے سکولوں کی تعداد میں 105 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ ادارے زیادہ تر شہری علاقوں میں ہیں۔اس طرح تعلیمی لحاظ سے دیہی پاکستان اور شہری پاکستان میں فرق پیدا ہو گیا ہے۔ نوکریاں زیادہ تر انگریزی ذریعہ ئ تعلیم والے نوجوان لے جاتے ہیں۔ اردو کے نفاذ سے یہ فرق ختم ہو جائے گا۔

یہ امر بھی نہایت افسوسناک ہے کہ ابھی تک اعلیٰ ملازمتوں کے لئے امتحانات بھی انگریزی میں لئے جا رہے ہیں، حالانکہ لاہور ہائی کورٹ نے 2017ء میں ایک فیصلہ دیا تھا کہ 2018ء میں منعقد ہونے والے سول سروسز کے امتحانات، اردو میں لئے جائیں، لیکن پبلک سروس کمیشن کے حکام نے اپیل دائر کر دی اور فیصلہ تبدیل کرا لیا…… دوسری طرف ماروی میمن، جنہوں نے علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دلانے کی کوشش کی تھی جو 2014ء میں پھر ناکام ہوئی اور ان کے پیش کردہ بل کو آرٹیکل 251 کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا گیا…… بہتر ہے کہ اردو زبان میں علاقائی زبانوں کے وہ الفاظ شامل کرنے شروع کئے جائیں، جو آسانی سے اردو میں جذب ہو سکتے ہیں۔ ان علاقائی زبانوں کے معروف الفاظ کو اردو میں شامل کر لینا ہی مسئلے کا حل ہے۔ یہ کام اردو ڈکشنری بورڈ کے سپرد کیا جانا چاہئے۔ بورڈ نے اردو زبان کی 22جلدوں پر مشتمل لغت 52 سال بعد مکمل کی ہے۔ اُردو زبان کو ترقی دینے کے لئے بہت سے سرکاری اداروں نے کافی کام کیا ہے۔پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، ادارہ فروغ اردو اور نیشنل بک فاؤنڈیشن قومی زبان کی ترقی و توسیع میں مصروف ہیں۔ دنیا کی معروف تاریخی، سائنسی، فلسفیانہ اور ادبی کتب کے اردو زبان میں کافی تراجم کئے جا چکے ہیں ……ایک نظر آئین پاکستان کے آرٹیکل 251 برائے نفاذ قومی زبان پر ڈالتے ہیں:

-1 پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور یوم آغاز سے پندرہ برس کے اندر ادر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لئے استعمال کرنے کے انتظامات کئے جائیں گے۔

-2 شق 1 کے تابع انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لئے استعمال کی جا سکے گی، جب تک کہ اس کے اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔

-3 قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر، کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے، قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کے لئے اقدامات تجویز کر سکے گی۔

یاد رہے! قومی یکجہتی اور اسلامی تشخص کو ابھارنے میں قومی زبان کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ قومی زبان میں سوچنا، سمجھنا، تجزیہ کرنا۔اس سے نئی نئی ایجادات کی راہیں کھلیں گی۔پاکستان قومی زبان اردو کو اولیت دی جانی چاہئے تھی جو کہ نہیں دی گئی۔ اب عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے کام آسان کر دیا ہے۔ صرف اردو کا سرکاری سطح پر نفاذ کرانا، اردو کو سرکاری/ دفتری زبان کے علاوہ تدریسی زبان کے طور پر بھی متعارف کرانا، اللہ کا شکر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مارچ 2020ء سے پرائمری سطح تک تو اردو زبان کو تدریسی زبان کے طور پر لاگو کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس کے ساتھ ہی میٹرک تک کے لئے نصاب اور کتب کی تیاری کا مرحلہ جاری ہے…… خیبرپختونخوا سے محترم جمشید آفریدی کی تحریر ”انگریزی کا ٹیسٹ“ کے عنوان سے پیش ہے…… ”آج پرائمری سکول ٹیچر کا ٹیسٹ تھا،جس میں اردو اور اسلامیات کا ایک لفظ بھی نہیں تھا۔ غلام قوم کا ٹیسٹ بھی ان کی زبان میں تھا جو ظلم اور جبر پر مبنی ہے، کیونکہ ہم نے سائنس اور ریاضی اردو میں پڑھا ہے۔ اب یہ انگریزی کے عجیب و غریب نام ہم نہیں جانتے۔ یہی سوالات اردو میں ہوں تو ہم آسانی کے ساتھ جواب دے سکتے ہیں۔ اب ہمیں یا تو تمام عمر بے روزگار رہنا ہوگا یا پھر نئے سرے سے سائنس اور ریاضی پڑھیں گے۔یاد رہے اسلامیات ایک لازمی مضمون ہے۔ پاکستان کی تخلیق کی بنیاد بھی اسلام ہے تو کیا استاد کو اسلام کی مبادیات پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہئے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ جب موجودہ حکومت یکساں نصاب کا نعرہ، یکساں قومی زبان میں لا رہی ہے، پرائمری کی تمام تعلیم اردو میں دینا چاہتی ہے تو پھر ان اساتذہ کا ٹیسٹ انگریزی میں کیوں لیا گیا؟ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قومی زبان اردو میں ان دو مضامین کی تدریس کرنے سے، بچوں کی تعلیمی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ نوجوانوں میں بددلی اور مایوسی پھیلانے کا سبب نہ بنے۔مزید براں! اگر یہ ٹیسٹ حکومت کی لاعلمی سے اشرافیہ نے مرتب کیا ہے تو اس کی تحقیق کی جائے۔ تحقیق میں جس کا جرم ثابت ہو، اس کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ ایک صوبے کی کہانی ہے جو نہایت ہی افسوسناک ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو اسلام کی تعلیم دینا چاہتے ہیں (اور یقیناً چاہتے ہیں) تو پھر ہمیں اس کے لئے انگریزی زبان کی بجائے ”اردو“ زبان کو اپنانا ہوگا۔ اس وقت قرآن حکیم اور احادیث کے بے شمار ترجمے اردو میں بھی ہو چکے ہیں۔ اسی طرح قرآن حکیم کی تفسیریں بھی بہت بڑی تعداد میں مارکیٹ میں ملتی ہیں، جن کو پڑھنا، سمجھنا اور پھر ان پر عمل کرنا، آسان ہوگا۔ خواہ مخواہ بدیسی زبان کے گنجلک میں نسل نو کو الجھائے رکھنا، کسی طرح بھی مناسب نہیں ……دین تو آسان ہے، ہم اس کو مشکل سے مشکل تر کیوں بنا رہے ہیں؟ تدریسی مضامین میں عربی کو لازمی کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ تو قرآن حکیم کی زبان بھی ہے اور جنت کی زبان بھی۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے برطانوی ہند حکومت کے وقت دفتری زبان (فارسی) کو انگریزی میں بدلا گیا، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ دینی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے کے لئے ہمیشہ ”قومی زبان“ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔ قیام پاکستان کو 72 برس تو بیت چکے ہیں، لیکن تا حال ہم اپنی قومی زبان اردو کو نافذ کرنے میں مختلف رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے۔ یاد رہے قومی زبان اردو ہماری ملی و قومی ناگزیر ضرورت ہے،جو قومی یکجہتی اور اسلامی تشخص پیدا کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوگی۔ حکامِ بالا کی طرف سے اس جانب خصوصی طور پر توجہ دینے کی توقع کی جاتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -