ڈاکٹر سید عبد الحمید گیلانی نو ناری

ڈاکٹر سید عبد الحمید گیلانی نو ناری
ڈاکٹر سید عبد الحمید گیلانی نو ناری

  

تخلیق کائنات کا مقصداللہ کی پہچان ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ نے حضرت آدم کی تخلیق کر کے ان کو آسمان سے ایک گناہ کی بدولت زمین پر اتارا۔ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور رسول نیکی کا راستہ دکھانے کے لئے بھیجے۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا خاتمہ ہوا۔ پھر اللہ کے نیک بندے اور ولی، قطب اور ابدال آتے رہے، جو لوگوں کو نیکی اور سچے راستے پر لیکر چلتے رہے، ایسے ہی نیک لوگوں میں میر ے والد ڈاکٹر عبد الحمید نو ناری بھی ہیں۔ جب وہ پیدا ہوئے تو پاکستان کو بنے ۱۱ سال ہو گئے تھے۔ ان کا گھرانہ خالصتانہ مذہبی گھرانہ تھا۔ تقسیم بر صغیر کے وقت وہ تنہا پاکستان کی زمین پر آئے۔ ہم نے اپنے کسی داداکو دیکھانا کسی چچا کو۔کیونکہ جس ٹرین پر سکھوں نے حملہ کیا تھا۔ ماسوائے میرے والد کے سب نے شہادت کا درجہ حاصل کیا۔کس نے کیا کھویا، کیا پایااور ان کے نقصان کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں، جو لٹے پھٹے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ والد کی باتیں اور یادیں ہمیشہ ساتھ وابستہ ہیں۔ اور میرا پیچھا کرتی ہیں۔ وہ پرہیز گار، نمازی اور متقی انسان تھے۔ ملازمت کے دوران وہ مری، ٹیکسلا، قلعہ احمد آباد، نوناروٹر نری ہسپتالوں میں رہے۔ جب وہ ستر اہ ویٹرنری ہسپتال میں تھے تو میں تیسری جماعت میں گورنمنٹ سکول ستراہ میں پڑھتا تھا۔ بہنیں بڑی تھیں۔ وہ بھی گرلز سکو ل میں تھیں۔وٹرنری سکول اور ہسپتال کے درمیاں ایک سٹرک تھی۔

اور سٹرک کے اس پار میں سکول جانا تھا۔ وٹرنری ہسپتال ستراہ میں بھی سرکاری کواٹرز تھے۔ جہاں سب اکٹھے رہتے تھے۔ جہاں وٹرنری ہسپتال میں تبادلہ ہوا ہم سب ساتھ ہی شفٹ ہو جاتے۔ تبادلوں کا ایسا سلسلہ جاری رہتا اور ساتھ ہم بھی۔ ایک ہفتہ قبل جب میں گوجرانوالہ کے راستے گاؤں گیا تو ستراہ کے راستے رک گیا۔ بچھڑی یادیں تنگ کر رہی تھیں۔ وہ سکول میں نے دیکھا جہاں میں نے بچپن کے دن گزارے۔ وٹرنری ہسپتال کے کواٹرز اب بوسید ہ ہوچکے تھے۔ جب سے ہم نے ہوش سنبھالااور والد صاحب نے نماز تہجد، روزے رکھتے دیکھا، بلکہ زندگی کے آخری ایام میں بھی انہوں نے تہجد نہیں چھوڑی۔ اسلامی کتابیں پڑھنے کے بے حد شوقین تھے۔ یکم اپریل 2003 ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ستراہ کے بعد ہم پھر مستقل نونار ضلع نارووال میں ان کے چچا حاجی یوسف شاہ کے گھر منتقل ہوگئے۔ والد صاحب تقویٰ اور اللہ سے قربت کی بہت سی منازل طے کر چکے تھے۔ جبکہ لیبر کلاں وٹرنری ہسپتال شکر گڑھ میں تبادلہ ہوا۔ تو ہم گرمیوں کی چھٹیاں ہم وہاں گزارتے تھے۔

وہاں ہندؤوں کے کافی خاندان آباد تھے۔ والد صاحب کے اخلاق پرہیز گاری سے متاثر ہوکر چھ ہندو خاندانوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کی وفات کے بعد ہم جب بھی لیبر کلاں گئے لوگوں نے ہمیں والد کی نظر سے دیکھا اور عزت دی۔ والد سید عبد الحمید گیلانی نو ناری نے ہمیشہ میرے ساتھ اور دیگر فیملی کے افراد کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھا۔ ان کی گفتگو پر اثر اور متاثر کن تھی۔ اسلامی اور دینی باتوں کے علاوہ اور باتیں، مثلاسیاست معاشرتی مسائل یا سماجی باتیں کرتے۔ ہمارے ہوش سنبھالنے اور ان کی وفات تک ہم نے انہیں باقاعدہ تہجد اور اللہ کا ذکر کرتے دیکھا۔ان کی زبان میں اتنی تاثیر تھی کہ جو کوئی ایک بار ملاقات کر لیتا ان کا گرویدہ ہو جاتا اور انکی صحبت میں بیٹھنا پسند کرتا۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عشق تھا۔ حضور ﷺ کا نام آتے ہی انکی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور ہم انکو تسلی دیتے لیکن ان کے آنسو نہ رکتے۔ وہ عاشق رسول تھے۔ اور پاکستان کے کئی مزارات پر جا چکے تھے۔ ہم جہاں بھی ان کے ساتھ جاتے صبح کے وقت بچے اور انکی مائیں اکٹھی ہو جاتیں اور ان سے دم کرواتیں۔ اور بچے پانی پی کر رونا چھوڑدیتے تھے۔ ساری زندگی ہم نے انہیں عباد ت میں مشغول پایا۔ اولاد پر سختی نہیں کرتے،بلکہ روزہ، نماز اور خیرات کی تلقین کرتے۔

فقیر جو مانگنے آتا اسکو گھر بٹھا کر کھانا کھلاتے۔ بعض دفعہ ہم اسکو محسوس کرتے اور گلی میں فقیر کو کھانا کھلانے کا کہتے جس پر والد صاحب فرماتے کہ فقیر اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ تحریک پاکستان میں ان کے آباؤ اجداد نے بہت قربانیاں دیں۔ ان کے والد سید رمضان شاہ جیھٹورال بھارت امرتسر میں تحصیلدار کے عہدہ پر فائز تھے۔ ہمسایوں کے حقوق اور حقوق العباد کا بہت خیال رکھتے اور مہمان نواز ی کی وجہ سے کبھی بھی گھر میں غربت نہیں آئی۔ وہ سادہ زندگی بسر کرتے اور دوسروں کو سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ تقسیم برصغیر کے 40 سال بعد اچانک معلوم ہوا۔ کہ ان کی بہن حمید ہ بی بی زندہ ہیں۔ زندگی کے مشکل ترین دن بھی گزرے۔ لیکن کبھی بھی اللہ سے شکوہ کرتے ہم نے انہیں نہیں دیکھا۔ جب حضور ﷺ کے عشق اور محبت میں ہمیشہ مگن رہتے۔ دنیاوی زندگی سے دور اور آخرت کی زندگی کے پروا کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک دنیاکی آسانیاں عارضی تھیں اور آخرت کی مستقل۔۔۔۔۔والد صاحب کو جب ہم قبر ستان دفن کرکے واپس آگئے تو گاؤں کے چند لوگ وہاں قبر ستان میں رہے۔ جو ان سے عقیدت رکھتے تھے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی قبر سے مسلسل نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں۔ ان عقیدت مندوں نے ہمیں گھر آکر بتایا کہ شاہ صاحب کی قبر سے نور کی شعاعیں مسلسل جاری ہیں۔ والدصاحب نے ستراہ سے تبادلہ کے بعد زندگی کا باقی حصہ قصبہ نو نار میں گزارا۔ ان کے چچا حاجی محمد یوسف شاہ بھی درویش صفت انسان تھے۔ ارد گرد دیہاتوں کے فیصلے کرتے اور لڑائی جھگڑے ہوتے تو لوگوں کے درمیاں صلح و صفائی کرواتے۔1974 میں ہمارے والد کے چچا کا انتقال ہوا۔ تو ہم اسوقت بہت چھوٹے تھے۔ لیکن قصبہ نو نار اور ارد گرد کے نواح دیہاتوں کے افراد حاجی یوسف کی کرامات کا اکثر ذکر کرتے تھے۔

بارش نہیں ہو رہی تھی، قحط سالی تھی کھلے میدان میں اجتماع میں دعاء کی تو گھنٹہ کے بعد بارش ہونی شروع ہوگئی، کیونکہ والد صاحب خاندان میں اکیلے تھے، لہٰذا وہ اولاد سے بے حد محبت کرتے اور اپنے بھائی بہن، چچا، ماموں سب کچھ ہمیں خیال کرتے تھے۔ انکے خالہ زاد بھائی ابھی تک حیات ہیں اور پیر سعید شاہ کا مزار غاز ی آباد کینٹ میں موجود رہے، جوان کے ماموں تھے۔ والد ڈاکٹر سید عبد الحمید گیلانی بھارت جیٹھوال گاؤں کی اکثر باتیں ہمیں بتاتے اور واقعات بھی اس انداز سے بیان کرتے کہ بعض دفعہ آنکھوں میں آنسو آجاتے۔ تصوف سے ان کو خصو صی لگاو تھا اور اکثر معرفت کی باتیں کرتے جو مخصوص افراد اور تقوی و پرہیز گاراشخاص کی سمجھ میں آتی تھیں۔ گفتگو میں نرمی اور مدبر پن تھا۔ با مقصد اور ہمیشہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرتے راز ونیاز اور عشق مصطفےﷺ کے دیوانے تھے۔ مادیت پر ستی سے دور بھاگتے اور آخرت کو اصل زندگی قرار دیتے۔ نومبر2019 ء کو میں کرتار پور بابا گرو نانک کی افتتاحی تقریب میں بھی موجود تھا۔ وہاں سے امرتسر اور والد صاحب کا گاؤں جیٹھوروال قریب ہے۔ بہت سے افراد سکھوں سے وہاں پر ملاقات ہوئی جوکہ جیٹھورال بھارت سے آئے تھے۔ تقسیم ہند کے بعدوالد صاحب ایک دفعہ واپس بھارت گئے اور اپنے بچپن کی یادیں لیکر واپس آئے۔

ان کے والد سید محمد رمضان شاہ بھی ولی کامل تھے۔ ان کے خاندان بھی بھارت میں حکمت کے سبب بہت مشور تھا۔ اور تما م خاندان کے افراد لمبے قد کے تھے۔ رمضان شاہ داد کے مریدین میں بھارت اور پاکستان میں ابھی بھی لوگ موجود ہیں جو ملتے ہیں اور ان کے بھارت میں واقعات کی روداد سناتے ہیں۔ پاکستان بسنے سے بہت سے خاندان بچھڑ گئے اور بہت سے خاندانوں شہید ہوئے۔ جن میں ہمارا خاندان بھی شامل ہے۔ ہمارے خاندان نے پاکستان کو بنتے دیکھا۔ اور ملک کو آزاد کروانے میں بے شمار قربانیاں بھی دیں۔ والد صاحب سید عبد الحمید گیلانی کی باتیں اور یادیں بیسرپا کئے ہوئے ہیں۔ جن کو شائد موت کے بعد ہی نکالا جا سکتا ہے۔ والد صاحب کو یکم اپریل 2003 ء کو قصبہ نونار کے قبرستان میں ہی سپرد خاک کیا گیا، جہاں شیر شاہ سوری سیر کرتے رہے۔ اور عبداللہ شاہ غازی مدفن ہیں۔ جن کی قبر نو گز لمبی ہے۔ نارروال نو گز لمبی قبروں اور مشہور مندروں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ والد کا مزار اسی تاریخی قصبہ میں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -