کورونا وائرس میں جماعت اسلامی اور الخدمت کا کردار

کورونا وائرس میں جماعت اسلامی اور الخدمت کا کردار

  

جمعتہ المبارک کے دن کرونا کے مریضوں کے علاج معالجہ دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹرز،نرسز پیرا میدیکل سٹاف پر مبنی طبی عملہ کو عوام الناس اور سرکاری سطح پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سیلوٹ کیا گیا تو دوسری جانب اسی روز لاہور کے مئیو ہسپتال میں کورونا کا معمر بے یارو مددگار مریض تڑپ تڑپ کر خالق حقیقی سے جا ملا ایک طرف بینڈ باجے کے ساتھ طبی عملے کو مئیو ہسپتال میں سیلوٹ پیش کیا جا رہا تھا تو دوسری جانب تڑپتے مریض کو رسیوں میں جکڑ دیا گیا کوئی ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ اس کے قریب تک نہ گیا اور اب میؤ ہسپتال انتظامیہ کے طبی عملہ کا کہنا ہے کہ مریض کو دماغی سوزش تھی اسے رسیوں میں باندھنا ضروری تھا دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ مریض کی موت دل کے دورہ سے ہوئی اس معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے، جیسے چینی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف بنائی گئی تھی اور آج تک کوئی کردار سامنے نہیں آسکا باقی آپ خود سمجھدار ہیں کہ ان قائم کردہ کمیٹیوں کا کیا بنتا ہے۔ ملک کے نامور سیاستدان اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین بر ملا اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ جس معاملے کا حل احسن طریقے سے نہ کرنا ہو اس معاملے پر کمیٹی بنا دی جاتی ہے۔دوسری جانب عوام الناس کی جانب سے سوشل میڈیاپر بار بار یہ موقف دہرایا جا رہا ہے کہ اگر کسی ایم این اے،ایم پی اے،وفاقی وزیر،سینیٹر کو راشن کی ضرورت ہو تو وہ رابطہ کر سکتا ہے کیونکہ عوام ان کے لیے بہت پریشان ہیں اس وقت ملک پر کرونا بیماری کا آسیب ذہنی طور پر چھایا ہوا ہے کہیں مکمل،کہیں جزوی لاک ڈاؤن ہے کاروباری زندگی سمیت تمام نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ڈیلی ویجزز،دیہاڑی دار،ٹرانسپورٹرز،چھابڑی فروش، مزدوروں پر براہ راست اثر پڑا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ملک میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں افراد بے روز گار ہوئے اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ تعداد کروڑوں میں ہو گئی ہے حکومت پاکستان نے 3 ہزار روپے ماہانہ امداد ان بے روز گار غریبوں دیہاڑی داروں تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے گھروں میں کھانا پہنچانے اور 3 ہزار روپے مالی امداد دینے کے لیے کرونا ریلیف ٹائیگر فورس کے زریعے تقسیم ہو گی یاد رہے وزیر اعظم عمران خان صاحب تحریک انصاف کے نوجوان ورکرز کو تحریک انصاف کے ٹائیگر ز کہتے تھے لہذا یہ وہی ٹائیگر ز ہیں جس کا نام ٹائیگرز فورس رکھا گیا ہے لہٰذا 200 ارب روپے کا ریلیف فنڈاس ٹائیگر فورس کے ذریعے تقسیم ہو گا باقی آپ خود سمجھدار ہیں بھلا ہو ملک میں دینی جماعتیں اور درد دل رکھنے والی فلاحی تنظیموں ہیں۔جماعت اسلامی اور اس کی فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان اسی طرح اخوت،سیلانی،ایدھی اور دیگر فلاحی تنظیمیں خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہیں الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے لاکھوں رضا کار اس وقت ملک کے کونے کونے میں عوام الناس کو راشن،مزدوروں دیہاڑی داروں کو تین وقت کا کھانا دینے کے علاوہ ان کی مالی امداد کر رہی ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی ہدایت پر جماعت اسلامی کے کارکنون نے محلہ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں اور یہ کمیٹیاں اپنے علاقے کے بے روز گار غریب سفید پوش خاندانوں میں راشن تقسیم کر رہی ہیں الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی نے ملک بھر میں اپنے ہسپتال،سینکڑوں ایمبو لینسز،کرونا ائسو لیشن اور قرنطینہ سنٹر قائم کر رہے ہیں آفرین ہے جماعت اسلامی الخدمت فاؤنڈیشن پر جو مصیبت اور دکھ کی اس گھڑی میں سر بکف مجاہدوں کی طرح حقوق اللہ حقوق العباد کا عملی نمونہ پیش کر رہی ہے۔جماعت اسلامی ایک دینی سیاسی جماعت ہے۔اس کے علاوہ ملک میں کسی دینی سیاسی جماعت کے ورکرز عوام میں کہیں نظر نہیں آ ر ہے جن ممبران اسمبلیز نے منتخب ہونے سے پہلے اپنے اپنے حلقوں میں کروڑوں روپے لگا دئیے آج ان کی جیبوں سے عوام کے لیے پھوٹی کوڑی بھی نہیں نکل رہی حکومت نے کرونا ریلیف رنڈ قائم کر دیا ہے لیکن پہلے ہی سے پسے ہوئے عوام کس حیثیت میں حکومت کو فنڈز دیں گے کیو نکہ انہیں ایک تو حکومت پر اعتبار ہی نہیں ہے کہ وہ یہ فنڈ مستحقین پر خرچ کرے گی ہماری اس ضمن میں گزارش ہے کہ عوام الناس حسب روایت الخدمت فا ؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کو دل کھول کر عطیات دے جو کہ امانت دیانت،خدمت خلق،حقوق اللہ اور حقوق العباد کی خدمت فرض عین عبادت سمجھتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -