راز تو کھلا پڑا ہے

راز تو کھلا پڑا ہے
راز تو کھلا پڑا ہے

  

رہنمائی بھی وہیں سے ملے گی، راستہ بھی وہیں سے کھلے گا،منزل بھی وہیں سے نمودار ہوگی،راز سے پردہ وہیں سے اٹھے گا، حقیقت بھی وہیں سے معلوم ہوگی، کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے……اسی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔اللہ پاک نے تو انسان پر واضح کر دیا ”اللہ ذرا برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا“ (سورۃ النساء آیت 40)

حدیث قدسی ہے: نبی پاک ﷺ نے فرمایا ”اللہ پاک کہتا ہے،اے میرے بندو مَیں نے اپنے اوپر بھی ظلم حرام کیا ہے اور تم پر بھی کیا ہے،لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔“ (صیح مسلم)

ذرا غور کرو، ذرا غور کرو……کرونا میں راز کیا ہے حقیقت تو کھلی پڑی ہے فلسطین،کشمیر،برما، ہندوستان اور سنکیانگ کے مظلوم لوگوں پر ہونے والے مظالم دیکھیں اور طاقت کے زعم میں مبتلا واشنگٹن،برما،بیجنگ،دہلی اور یروشلم کے زمینی خداؤں کی چیخیں اور لاک ڈاؤن کے ساتھ دوہائیاں کے ہمارے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے وسائل نہیں ہیں،اللہ اکبر کبیرا……مسلمان انسانوں کو اپنے کتوں سے بھی کم تر سمجھ کر مارنے والے اور اپنے چڑیا کھروں کا مسلمانوں کی بستیوں سے بھی زیادہ اہمیت دینے والے آج بے بسی کی تصویر بنے نظر آرہے ہیں۔مسلمانوں کی بستیوں پرکرفیو لگا کر انسانوں سے ان کابنیادی حق چھیننے والے آج اپنے اوپر کرفیو نافذ کررہے ہیں۔خون بہانا جائز اور شراب بہانا جرم بنا دیا تھا، گائے کی زندگی کو انسانی زندگیوں سے قیمتی مان کر انسانوں کو بے دردی سے مار رہے تھے۔

فلسطین سے لے کر کشمیر اور افغانستان سے لے برما تک جن کے ہاتھ خون سے رنگے تھے انہیں امن کا نوبل انعام دے کر دھرتی پر اپنے خدا ہونے کا دعویٰ کئے جا رہے تھے۔ درندے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور ایک دوسرے کے ساتھ قہقہے لگا کر انسانیت کی تذلیل پر فخر کرتے دکھائی دیتے تھے اور آج سب کو اپنی اپنی جانوں کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔بھول گئے تھے کہ تمہارے پاس ڈراؤن ہیں تو مظلوموں کے پاس بددُعائیں ہیں، تمہارے پاس لاکھوں کی فوج اور اسلحہ ہے تو کرفیو سے قید بے بس لوگوں کے پاس سجدہ ہے، تمہارے پاس کیمیکل ویپن ہیں تو ظلم سہنے والوں کے پاس آنسوؤں کی طاقت ہے،جو اِس دُنیا کے اصل مالک تک پہنچ گئی تو تم بے بسی سے دیکھتے رہ جاؤ گے۔ٹرمپ،مودی، نیتن یاہو اور آن سوچی کو کہو ڈراؤن اور اسلحہ بردار فوج سے کورونا کا مقابلہ کریں، تمہیں گھر وں میں بند ہونے سے بچائیں، کیسے کیسے دعوے کرتے تھے کہ ہم نے مسلمانوں دہشت گردوں کا صفایا کر کے امریکہ، اسرائیل، برما اور انڈیا کو محفوظ کر لیا ہے، چھپ کے کیوں بیٹھے ہو کدھر ہے ٹیکنالوجی، کہاں ہیں دُنیا کی سب سے بڑی اکانومی کی طاقت، کدھر گئی وہ سپر پاور کی رعونت، اب تو کہتے ہو چھپ کر گھر میں بیٹھنا ہی کورونا کا مقابلہ ہے……ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دُنیا کو دکھاؤ کہ ہم اس دنیا کے سب سے طاقتور لوگ ہیں۔آہ وہ جنہیں دوسروں کے آنسو نظر نہ آتے تھے آج ان کی اپنی آنکھیں سڑکوں پر بکھری لاشیں دیکھ کر اشک بارہیں،جو دوسروں کو گھروں میں قید کر کے خود کو آزاد تصور کرتے تھے آج انہیں خود باہر نکلنے سے خوف آتا ہے۔

اب ذرا اپنی اسلامی دُنیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بھی حال دیکھ لیں ……سعودی عرب جو مسلمانوں کی مقدس جگہ ہی نہیں روح زمین پر سب سے مقدس مقام ہے وہاں پرنس سلمان اقتدار میں آکر بھول گیا کہ وہ خادمین حرمین شریفین ہے اس نے خود کو کلکتہ یا بنکاک کا مئیر سمجھ لیا اور جوئے خانے، سینما ہالز اور دوسری ساری برائیاں کرنے کی کھلے عام اجازت دیدی، مغرب کی آنکھ کا تارا بننے کے لئے خرافات سے اپنی آنکھیں ہی بند کر لیں۔ ہر مسلمان شاہ کے اس فعل پررنجیدہ ہوا، لیکن شاہ نے اسے اپنی کامیابی سمجھا اور آج اللہ کی ناراضگی کا یہ عالم ہے کہ کعبۃ اللہ کا طواف رُک گیا، نبی پاکؐ نے اپنے روزے پر حاضری دینے والوں کو خود سے دور کردیا کہ یہ سب بھی حاجی بن کر اس برانڈ کو استعمال کر کے لوگوں کو خوب لوٹ رہے تھے۔جتنا بڑا حاجی یا الحاج ہوتا تھا اتنا بڑا چھرا پھیرتا تھا۔

پاکستان کے لوگ بھی اگر اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھ کر اپنے آپ کو نہیں سدھارتے اور توبہ نہیں کرتے تو پھر اس سے بھی زیادہ پکڑ آسکتی ہے۔مسجدوں کے میناروں سے اذانیں ہوتی رہیں اور کوئی پانچ منٹ مسجد کو دینے کو تیار نہ تھا۔ سب اپنے دھندوں میں مصروف رہتے تھے۔مولوی دکھ سے کہتے تھے مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے لوگ نہیں آتے آج یہ حال ہے خود مولوی کہہ رہے ہیں گھروں پر نماز پڑھا کریں اور وہ لوگ جو اذان سنی ان سنی کر دیتے تھے آج گھروں کی چھتوں پر اذانیں دے رہے ہیں۔ہر طبقہ ظلم ڈھا رہا تھا،بلکہ ماسک اور سینی ٹائزر کی قیمتیں دیکھ کر لگتا ہے کچھ سبق نہیں سیکھا اور ظلم ڈھا رہے ہیں۔ بڑے تاجر سے لے کر گوالے تک سب بے رحمی کا نمونہ ہیں، جہاں رحم نہ ہو وہاں عذاب آتے ہیں، تم رحم کرو اہل ِ زمیں پر، خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر……حضرت ابوموسی اشعری ؓ فرماتے ہیں رسولؐ اللہ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ یقینا ظالم کو ڈھیل دیتا ہے،پھر جب اس کو پکڑتا ہے تو پھر اس کو نہیں چھوڑتا“ یہ ارشاد فرما کر آپؐ نے سورۃ ہود کی یہ آئت تلاوت کی ” اور تیرا رب جب کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہوا کرتی ہے،فی الواقع اس کی پکڑبڑی سخت اور دردناک ہوتی ہے“۔

جس دھرتی سے انصاف اٹھ جائے وہاں پھر ظلم بچتا ہے۔

ظلم صرف قتل و غارت ہی نہیں بے ایمانی اور اپنے آپ سے انصاف نہ کرنا بھی ظلم ہے۔ہر انسان کے لئے ایک حد مقرر ہے جب اس حد سے باہر جائیں گے تو پھر پکڑ ہوگی۔میرا جسم میری مرضی……کدھر ہے یہ مرضی کورونا کو کہو نہ میرا جسم میری مرضی، جسم جس نے بنایا ہے مرضی بھی اسی کی چلے گی،ہر کوئی سرکشی کو اپنا حق ماننے لگا تھا ملا منبر پر بیٹھ کر اپنی مرضی سے فتوے اور فیصلے سناکر دوسروں کو کافرقرار دے کرظلم کو آواز دے کر خود اپنے لئے عذاب مانگ رہے تھے۔آج منبر پر واعظ کے لئے اگر پانچ منٹ مقر ر ہوگئے ہیں، تو سوچو تم لوگوں نے اس منبر کے تقدس کا کہاں خیال رکھا۔ اس سے انصاف کیا یا ظلم ڈھایا۔نفرت و خون ریزی کا درس دیتے رہے،وہ الزامات جو چوراہوں پر کسی پر نہیں لگائے جا سکتے تھے تم لوگوں نے لاؤڈ سپیکر کھول کھول کر دوسروں پر لگائے، جس کی نماز چاہا رد کر دی، جس کی چاہا اپروول دے دی۔سجدہ وہ خدا کو کر رہے ہوتے تھے نماز خدا کی پڑھ رہے ہوتے تھے قبول ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ملا کرتے تھے اور آج وہی نماز گھروں میں پڑھنے کا خود کہہ رہے ہیں۔

راز کھلے پڑے ہیں، آنکھوں کو سب کچھ نظر آ رہا ہے……کورونا اور کچھ نہیں ایک آفت ہے، عذاب ہے ہماری کرنیوں کا ثمر ہے جسے ہم بھگت رہے ہیں۔ہم انسان اگر اپنی حدود کاتعین کر لیں اور اپنے آپ سے انصاف کریں تو اللہ قہار کی بجائے رحمان ہی رہے۔ہم جب خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ہماری کوئی حد بھی ہے تو پھر وہ ہمیں ہماری حد میں رکھنے کی ایک ہلکی سی جھلک دکھاتا ہے۔آئیں سب مل کر توبہ استغفار کریں اور اپنے ساتھ انصاف کریں کیونکہ اللہ پاک فرماتا ہے ”جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہ بڑے ظالم لوگ ہوتے ہیں“ سورہ البقرۃ،229……کورونا کا راز کھلا پڑا ہے،جہاں گھر میں رہنے کے ساتھ ساتھ سب سچے دِل سے عہد کریں کہ وہ جس بھی شعبے سے منسلک ہیں اور جو بھی لین دین کرتے ہیں اس سے انصاف کریں گے اور ظلم نہیں کریں گے۔اللہ کو اپنے بندے کی پشیمانی پسند ہے اور وہ بڑا رحیم و کریم ہے ہم کو اس سے محفوظ رکھے گا۔

مزید :

رائے -کالم -