انسانی عظمت کا تکبر اور کورونا کی وبا

انسانی عظمت کا تکبر اور کورونا کی وبا
انسانی عظمت کا تکبر اور کورونا کی وبا

  

حضرت انسان کی کا میابیوں اور کا مر انیوں کی کہانی، اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھتے بڑھتے حتمی انتہاؤں تک پہنچنا ہی چاہتی ہے۔ تہذیب ِ انسانی کی معلوم کہانی ”زراعت سے شروع ہوئی تھی انسان نے“کھیتی باڑی“کے ذریعے رہنا شروع کیا اس سے پہلے وحشت اور خونخواری کا دور دورہ تھا تہذیب ِ انسانی کا ”زرعی دور“دس ہزار سال تک جاری رہا۔ زمینداری نظام اور جا گیرداری نظام اسی دور کی یادگاریں ہیں جب ”ملکیت زمین“کے ذریعے انسانوں کا استحصال کیا جاتا تھا پھر تہذیب انسانی نے انگڑائی لی پہیے اور بھاپ کی ایجاد کے ذریعے صنعتی دور کی ابتدا ء ہوئی۔ سٹیم انجن بنا۔ چرخے کی جگہ تکلے نے لی۔ کھڈی نے بنت سازی میں قدم رکھا اشیاء کی پیدا وار میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ زمین سے جڑی تہذیب و تمدن (معاشرے) کے تارپود بکھرنے شروع ہوگئے جس نے معیشت کو نئی شکل دی۔ مرد اور عورت کے تعلقات میں نیا پن آنے لگا پرانی روایات اور بندھن ٹوٹنے لگے ایک نیا معاشرہ تشکیل پانے لگا۔ انقلاب فرانس اسی تشکیل نو کی کہانی ہے

یہ صنعتی دور تین سو سال تک قائم رہا اس دور میں صنعت و حرفت نے ترقی کی مشینی پیداواری دور کی رفتار تیز تھی اسمبلی لائن پروڈکشن کے طریق کار کے باعث مصنوعات کے پیداواری حجم میں ہوشربا اضافہ ہونے لگا پھر ترقی یافتہ یورپی اقوام کے درمیان اپنا اپنا مال فروخت کرنے کیلئے منڈیوں کے حصول کیلئے مسابقت شروع ہوئی۔ ویسے تو خام مال اور لیبر کی فراہمی کیلئے مسابقت تو اس سے پہلے ہی شروع ہوچکی تھی۔ نو آبادیاتی نظام کا قیام ایسی ہی کا و شوں کا نتیجہ تھا۔ آدم سمتھ نے ”دولت اقوام“ نامی شہرہ آفاق تحقیقاتی کتاب لکھ کر اس استحصالی سرمایہ دارنہ نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جبکہ کا رل مارکس نے ”سرمایہ“ نامی ضخیم کتاب لکھ کر نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کی کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کی بلکہ ایک مساویانہ ”اشتراکی نظام“ کے قیام کے بارے میں اپنے خیالات دنیا کے سامنے پیش کئے انقلاب فرانس نے زرعی دور کے خاتمے اور مشینی دور کی ابتدا کا اعلان کیا برطانیہ نے اس دور کی قیادت کی پہلا صنعتی معاشرہ یہاں قائم ہوا۔صنعتی دور کو مغربی اقوام نے بڑھاوا دیا۔ نو آبادیاتی / صنعتی نظام کے منفی اثرات کے باعث دنیا نے دو عظیم جنگیں دیکھیں جن میں لاکھوں نہیں کروڑوں انسان ہلاک، مجروح اور بے گھر ہوئے عظیم تبا ہی ہوئی جس کے بطن سے امریکہ جیسی ایک نئی عالمی طاقت ابھری جس نے صنعتی و مشینی دور کو بام ِ عروج تک پہنچایا۔

گزری صدی کی 60دھائی میں ہی امریکہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے صنعتی دور کو نئی وسعتوں سے ہمکنار کیا۔ صنعتی دور کا پھیلاؤ 90سال تک جاری رہا پھر 60کی دھائی میں انفارمیشن اینڈ کمیو نیکشن ٹکنالوجی کے دور کا آغاز ہو اجس نے اگلے 30سالوں میں انتہائی بلندیوں کو چھولیا اور انسان نے اعلان کیا کہ سیلولر کمیونیکشن کے ذریعے ”گلوبل ویلیج“ قائم ہوگیا ہے یعنی پوری دنیا ایک ”عالمی گاؤ ں“ بن گئی ہے لاریب یہ ایک عظیم الشان کا میابی تھی کہ ہم ایک فون کے ذریعے، بغیر کسی مادی واسطے اور رابطے کے بات چیت کر سکتے ہیں کمیونیکشن کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس کامیابی اور انسان کی فتح کو بڑ ھاوادیا۔ ہزاروں سالوں کی انسانی کا و شوں کی انتہا”عالمی گاؤں“ کا قیام ہے جس پر ہم اترارہے ہیں لیکن کیا حضرت انسان کو یہ معلوم ہے کہ اس گا ؤ ں کے مالک نے ہزاروں سال پہلے انسان کے ساتھ کمیونیکشن کیسے کی تھی؟ وحی کے ذریعے۔ وحی کیا ہے؟ وربل کمیونیکشن۔ آواز کے ذریعے، الفاظ کے ذریعے، بغیر کسی مادی واسطے کے۔ یعنی انٹرنیٹ کی طرح۔ لاسلکی ابلاغ۔ واہ رے انسان۔

امریکہ نے صنعتی دور کو آئی سی ٹی تک اور پھر مصنوئی ذہانت اور اس سے بھی آگے پہنچا دیا ہے ترقی و تعمیر کی جانچ کے جتنے بھی انسانی پیمانے موجود ہیں وہ ان سب کو کراس کر چکا ہے۔ ایجادات اور دریافتوں کی دوڑ میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اس نے سپریم عالمی طاقت ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا پھر ہم نے دیکھا کہ ایک ان دیکھے بے جان کو رونا وائرس نے حملہ کر دیا۔ پوری دنیا کے 200 سے زائد ممالک اس ان دیکھے دشمن کی گرفت میں آچکے ہیں آج کے دن اس عفریت کا بڑا شکار دنیا کا چودھری، امریکہ ہی ہے۔ اس وبا کا مرکز قرار پاچکا ہے۔ اس کی معیشت ہی نہیں معاشرت بھی زیر و زبر ہو گئی ہے دنیا کی سپریم طاقت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا زیر و زبر ہوگئی ہے ترقی، پیدا واریت، پیدائش دولت اور ایجادات میں معراج حاصل کرنے والا انسان ان دیکھے، بے جان وائرس کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آرہا ہے۔ اس کا علاج اسے ابھی تک معلوم نہیں ہے اس کا خاتمہ کرنا تو دور کی بات ہے اس سے بچنے اور چھپنے کے حوالے سے بھی بے بس نظر آرہا ہے۔

ہم نے اشیا ء خوردونوش ہی نہیں بلکہ ضرورت کی تمام اشیاء اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ پیدا کر لی ہیں یہ اشیاء گوداموں میں موجودہیں تمام انسانوں کی ضرورت کے مطابق ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ سامان ہمارے پاس موجود ہے لیکن وباء نے ہمیں اس قدر بوکھلادیا ہے، ڈرادیا ہے، حواس باختہ کر دیا ہے کہ ہمارا ترسیل اشیاء کا نظام زیر و زبر ہوگیا ہے امریکہ و مغربی ممالک میں تو لوٹ مار اور قتل و غارت گری کی خبریں بھی آنے لگی ہیں۔

پاکستان کی مثال ہی دیکھ لیں۔ ہم اشیاء خورد و نوش کی پیدا وار میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ گندم، چاول، گنا، جوار، مکئی، دالیں وغیرہ ہماری اپنی فصلیں ہیں ان کی سالانہ پیدا وار ہماری ضروریات سے زائد ہے۔ دوودھ، مکھن، گھی، انڈے، مرغیاں، گا ئیں بھینسیں و غیرہ بھی ہماری اپنی ہیں قدرت نے ہمیں ان کی فراوانی دے رکھی ہے لیکن کیا یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ تکلیف اور دکھ کے دورِ حاضر میں یہ سب کچھ دستیاب نہ ہونے کا خوف پوری قوم کو گرفت میں لے چکا ہے ایک افراتفری تو کورونا کے حملے نے مچا رکھی ہے ویسے حملے سے زیادہ حملے کا خوف ہے 23 کڑور کی آبادی میں دو اڑھائی ہزار افراد ہی اسکا شکار ہوئے ہیں ویسے اس سے کئی گنا زیادہ شہری روزانہ ملیریا، ٹائیفائیڈ، ہیضہ وغیرہ کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں لیکن کورونا نے ہمیں جبراًخوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے انسان کی ترقی، عظمت اور تسخیر کائنات کا ولولہ و تکبر غائب نظر آرہا ہے۔ پوری دنیا، بشمول مشرق و مغرب ترقی یافتہ اور ترقی پزیر، تمام اقوام خاتمے کے خوف کا شکار ہو چکی ہیں۔

ترقی کے آلات واوزار مکمل طور پر ناکارہ ثابت ہو گئے ہیں انسان کا ترقی کا تکبر خاک میں ملا ہوا نظر آرہا ہے صرف ایک چیز کی طلب ہے اور وہ ہے نان جویں، دو وقت کی روٹی کا ملنا بھی مشکل نظر آرہا ہے۔ دورنہ جائیے اپنے اردگرد جائزہ لے کر دیکھیں۔ تجزیہ کریں تو ایک ہی بات نظر آئے گی پوری قوم کو ہاؤس ریسٹ کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ ہاتھ ملتے ہوئے، ناک منہ چھپائے ہوئے، انہیں گھروں میں قید ہوجانے کی ترغیب دی جا رہی ہے ویسے کو رونا کا خوف ہی، اس قدر ہے کہ لوگ خود بھی سہمے اور چھپے پھرتے ہیں لیکن روٹی نہ ملنے کا خوف اس سے بھی شدید ہے کورونا تو پتہ نہیں کب حملہ آور ہوگا اور کب ہلاک کرے گا۔ لیکن بھوک تو ہردن، تین مرتبہ لگتی ہے اگر اس کا سامنا نہ کیا تو یہ یقینی طور پر ہلاک کر سکتی ہے اس لئے عوام رزق کی تلاش میں پریشان پھرتی نظر آرہی ہے اشیاء موجود ہیں۔ روپیہ پیسہ بھی ہے لیکن ایک عجیب افراتفری کا عالم ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ نہ ہونے کا تاثر ہے کیا یہ قدرت کا انسان سے انتقام نہیں ہے کیا یہ انسان کو اس کے تکبر اور رب کی نا شکری کی سزا نہیں ہے؟ ذراسوچئے اس سے پہلے کہ تو بہ استغفار کی مہلت بھی ختم ہو جائے، آئیے ہم اپنے رب حقیقی اور مالک ِ کائنات کے حضور سر بسجود ہوں، اس سے معافی کے طلبگار ہوں اس کی رحمت اور عفو کی صفت کو پکاریں کہیں دیر نہ ہو جا ئے۔ اے ہمارے مالک ہمیں معاف کر دے۔ہم کمزور اور نا تواں ہیں ہماری لغزشوں اور نا فرمانیوں سے درگزر فرما۔ ہمیں کورونا کے عذاب سے نجات دے۔امین یارب العالمین

مزید :

رائے -کالم -