کشمیری عوام سے محبت کی سزا

کشمیری عوام سے محبت کی سزا

  

چالیس سال قبل 4اپریل 1979ء کو پاکستان کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ایک جھوٹے مقدمہ میں عدالتی قتل ہوا۔ اس کے خلاف دنیا بھر میں شدید ردِّعمل ہوا۔ پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا کے خلاف نفرت انگیز طوفان برپا ہوا۔ عالم اسلام اور ہمالیہ کی گود میں واقع وادیئ مقبوضہ کشمیر میں ناقابلِ تصور اشتعال پھیل گیا۔ اہلِ کشمیر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے تین رو ز تک سری نگر کا نظام درہم برہم کر دیا۔ اور جہازوں کی آمدورفت منسوخ ہو گئی۔

اس کی ایک بنیادی وجہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی کشمیری عوام کے لیے بے پناہ محبت تھی۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقوق کے لیے ہر بین الاقوامی فورم اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں پوری دنیا کے سامنے آواز اٹھائی۔ افسوس اس آواز کو ایک ملٹری ڈکٹیٹر نے قتل کر دیا۔ بھارت کے دوغلے پن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ "انڈیا اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان کی عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے اور اسے ان کے حقوق کی خاطر پاکستان پر حملہ کرنا پڑے گا تو وہ اس بات کا جواب دے کہ اس نے کشمیریوں کے لیے کیا کیا ہے۔ مشرقی پاکستان، پاکستان کا لازمی جزو ہے۔ جبکہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے انڈیا کیوں کشمیریوں کو ان کی مرضی سے جینے کی اجازت نہیں دیتا "

اس عدالتی قتل کے بعدجنرل ضیاء پاکستان میں احتجاج کو ا نتہائی سختی سے دبانے میں ایک حد تک کامیاب ہو گیا۔ بدترین سنسرشپ نافذ کر دی گئی۔ پی پی پی کے اپنے اخبار ”مساوات“اور دیگر جرائد کو بند کر دیا گیا اور اسی کڑی سنسر شپ کی وجہ سے بھٹو خاندان اور جمہوریت کی حمایت میں مکمل پابند ی عائد کر دی گئی۔ ان حالات کے پیش نظر میر مرتضیٰ بھٹو نے لندن سے ویکلی ”مساوات“ کا اجرا کیا تاکہ عوام کو جبر کے حالات سے باخبر رکھا جائے۔

جیل میں لکھی گئی جناب بھٹو کی تحریر سمگل ہو کر لندن آئی۔ تو ”مساوات“ ویکلی نے 372 صفحات پر مشتمل دستاویز شائع کی۔جسے دہلی کے اشاعتی ادارے ”وکاس“ نے ”اگر مجھے قتل کر دیا گیا“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی۔ یہ کتاب بے حد مقبول اور فروخت ہوئی۔

اسی اثنا میں جنا ب بھٹو کی ایک اہم ترین دستاویز ملی۔ یہ لندن میں اشاعت پرزیادہ لاگت کی وجہ سے میر مرتضیٰ بھٹو نے مجھے کہا کہ اس اہم دستاویز کو کتابی شکل میں شائع کرنے کے لیے دہلی جاؤں۔چنانچہ میں مئی 1979ء میں دہلی گیا اور بیسویں صدی اور عوام اخبار کے اشاعتی ادارے سے رابطہ کرکے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ ”میرا پاکستان“ کے نام سے اردو اور انگریزی میں یہ کتاب بڑی مقبول ہوئی اور آج بھی اس کاحوالہ دیا جاتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ سے میں نے لندن ہی میں انٹرویو کا وقت لیااور سری نگر پہنچ گیا۔ سری نگر کے وسط میں واقع جہانگیر ہوٹل میں میرا قیام تھا۔ سری نگر کے روزنامہ ”آفتاب“ نے میری آمد کی خبر شائع کر دی تھی۔ وہاں پہنچتے ہی فون آنا شروع ہو گئے لوگ بھٹو صاحب سے عقیدت ومحبت کی وجہ سے ان کے اور پاکستان کے حالات معلوم کرنا چاہتے تھے۔ ان میں ایک خاتون سلمیٰ بی بی کا فون آیا انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا آپ کا تعلق پاکستان سے ہے۔

”جی ہاں! یہ سن کر وہ بڑے جذباتی انداز میں بولیں، آپ پاکستانی بڑے بے غیرت ہیں، بھٹو کو پھانسی دی گئی اور آپ کچھ نہ کر سکے۔ بعدازاں وہ اپنے بھائی کے ہمراہ ہوٹل آئیں اور جذباتی ردِّعمل کی معذرت کی۔

قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے ”اگر مجھے قتل کر دیا گیا“ میں لکھا ہے کہ اگر مجھے قتل کیا گیا تو ہمالیہ رو دے گا۔ جنرل ضیا کے حامیوں نے اس کا مذاق اڑایا تھا۔ اور کہا کے ہمالیہ بھی کبھی روتا ہے۔

جناب بھٹو کے عدالتی قتل پر ساری دنیا میں شدید ردِّعمل ہوا اور حقیقتاً ہمالیہ ہی اتنا رویا تھا کہ ہمالیہ کی گود میں مقبوضہ کشمیر میں سیلاب آ گیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ نے کشمیر کاز کے لیے عالمی سطح پر جو آواز بلند کی تھی اسی کی وجہ سے کشمیری عوام جنون کی حد تک ان سے عشق کرتے تھے۔ وادیئ کشمیر میں اس خونِ ناحق کے خلاف اتنا شدید ردِّعمل ہوا کہ سری نگراور وادی میں سارا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔ تین دن تک سری نگر آنے والی پروازیں منسوخ ہو گئیں۔مشتعل عوام نے احتجاجی مظاہرے کیے اور سرکاری و غیر سرکاری عمارات کو کئی کروڑ کا نقصان ہوا۔ سری نگر میں میرا قیام 5دن تھا۔ شیخ عبداللہ کا انٹرویو میں نے پہلے دن ہی کر لیا تھا۔ واپسی روانگی سے ایک دن قبل شیخ عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر مجھے کھانے پر بلوایا۔ اس دعوت میں ان کے اہل خانہ اور ان کے پرنسپل سیکرٹری بھی موجود تھے۔ دو گھنٹے کی اس ملاقات میں سارا وقت وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو او ران کے خاندان کے بارے میں باتیں ہوئیں۔ شیخ صاحب نے کہا بھٹو بڑے بہادر اور خوددارشخص تھے۔ ان کی پھانسی سے سری نگر اور وادی میں جو ردِّعمل ہوا اس کا تصو ربھی نہیں کیا جا سکتا۔ تین رو زتک مسلسل ہنگاموں سے ریاست کا سارا نظام درہم برہم رہا۔ بھٹو صاحب کے چہلم کے موقع پر کئی سرکردہ لیڈروں کو حفاظتی اقدام کے طور پرگرفتار کر لیاتھا۔

شیخ عبداللہ نے ”مساوات“ ویکلی کے لیے اپنے انٹرویو میں بھی پھانسی کے بارے میں کہا:

”جنرل ضیا کی فوجی حکومت اور عدلیہ نے بھٹو صاحب کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔“

درحقیقت مقبوضہ کشمیر کے عوام ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے حقِ خودارادیت اور امنگوں کا مظہر سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا نے بھٹو کو قتل کرکے ان کے حقِ خودارادیت کو پھانسی دی ہے۔ بھٹو شہید کی پھانسی پر ہر کشمیری غمگین اور اداس تھا۔ ہر گھر میں ان کی تصاویر آویزاں تھیں۔ بوڑھے، بچے، جوان، عورتیں اور مرد سراپا احتجاج تھے۔ سری نگر میں جناب بھٹو کی شہادت پر بے شمار لٹریچر فروخت ہو رہا تھا۔ اردو اور فارسی میں بھی طویل نظمیں لکھی گئیں، کتابچے شائع ہوئے، سری نگر میں بھٹو شہید میموریل کمیٹی تشکیل دی گئی اور ایک چوک کا نام بھٹو شہید کے نام سے منسوب کیا گیا۔

قیام کے آخری روز دہلی روانہ ہونے کی شام محاذِ رائے شماری کے سرکردہ راہنما اور فارسی کے معروف پروفیسر حاجنی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اشکبار آنکھوں سے ملتے ہوئے انتہائی جذباتی لہجے میں کہا۔

”جنرل ضیاء اور اس کے ٹولے کو ایک گولی سے اڑا دیا گیا۔ تو اس سے ہمارے سینوں کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی۔ ہماری تشفی اس وقت ہو گی، جب بھٹو کو قتل کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے۔ جو انہوں نے جیل کی کال کوٹھری میں بھٹو کے ساتھ روا رکھا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ جنرل ضیا اور اس کے ساتھیوں کو ایک سال جیل میں ررکھ کر ان کی انگلیاں، کان، آنکھیں اور ہاتھ پاؤں آہستہ آہستہ کاٹ کر اس سنگین جرم کی سزا دی جائے۔“

کشمیری خاتون سلمیٰ نے جن الفاظ کے ساتھ میرا خیرمقدم کیا تھا اور پروفیسر حجانی نے جن کلمات سے الوداع کیا تھاوہ کشمیری عوام کے حقیقی جذبات کے عکاس ہیں۔سری نگر میں پانچ روزہ قیام کے دوران درجنوں اہل علم، سکالرز،ادیبوں،شاعروں اور صحافیوں کے علاوہ عام لوگوں سے ملاقات ہوئی جو بڑے دکھی، مایوس اور برہم تھے۔ اور ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی اس خونِ ناحق کا سوگ منا رہے تھے۔ انہوں نے بڑے دکھی دل سے کہا۔

”ذوالفقار علی بھٹو کشمیریوں کی آواز تھا اور پاکستان کے ایک سفاک آمر نے ہماری آواز کو قتل کر دیا ہے۔“

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -