کورونا اور بھٹو کی برسی

کورونا اور بھٹو کی برسی
کورونا اور بھٹو کی برسی

  

گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں آج بھٹو خاندان کے شہدا کا سالانہ عرس نہیں ہو سکے گا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے، سندھ میں خود پیپلز پارٹی کی حکومت نے لاک ڈاؤن کیا ہے یہ سال اور وقت 4 اپریل 1979ء کی یاد دِلا رہا ہے جب آج کے دن بھٹو کو پھانسی کے بعد تدفین کے لئے لایا گیا تھا اور ان کی نمازِ جنازہ کی بھی اجازت نہیں تھی،جس فوجی افسر بریگیڈیر(ر) سلیم نے دینی فریضہ کے طور پر دوبارہ غسل اور نمازِ جنازہ کی اجازت دی، ان کو جبری ریٹائرمنٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آج ذوالفقار علی بھٹو کو یہاں بسیرا کئے 41برس ہو گئے، ہر سال لگنے والا میلہ نہیں لگ سکا، ہم اپنی بات کرنے کے لئے ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کی تحریر سے شروع کرتے ہیں۔

”4اپریل1979ء کو صبح ِ صادق سے بھی پہلے پہلے راولپنڈی سنٹرل جیل میں انہوں نے میرے والد کو قتل کر دیا۔ چند میل دور سہالہ کے ایک ویران پولیس ٹریننگ کیمپ میں اپنی والدہ کے ساتھ مقید، مَیں نے اپنے والد کی موت کے اس لمحے کو محسوس کیا۔ ویلیم اعصاب کی مسکن گولیوں کے باوجود جو میری والدہ نے مجھے وہ کرب انگیز شب گزارنے کے لئے دی تھیں،مَیں اپنے بستر سے گھبراہٹ کے عالم میں اُٹھ بیٹھی۔”نہیں پاپا نہیں“ میرے رندھے ہوئے گلے میں سے چیخ نکل گئی۔ مَیں سرد ہوتی گئی اور موسم گرما کی حدت کے باوجود میرا جسم کپکپانے لگا،مجھے سانس لینا دوبھر ہو گیا اور مَیں سانس لینا بھی ”نہیں“ چاہتی تھی۔ میری والدہ اور میرے پاس ایک دوسرے کی تسلی کے لئے الفاظ بھی میسر نہیں تھے۔ تاہم وقت گزرتا گیا اور ہم بے سرو سامان پولیس کوارٹروں میں سمٹی ہوئی بیٹھی رہیں۔ ہم دونوں صبح سویرے میرے والد کی میت کے ہمراہ جانے کے لئے تیار ہو گئیں۔

”مَیں عدت میں ہوں اور غیروں سے نہیں مل سکتی۔ تم باہر جا کر اس سے بات کرو“۔ میری والدہ نے جیلر کی آمد پر بیزاری سے کہا۔انہوں نے اپنی عدت کی وجہ سے چار ماہ اور دس دن تک غیر محرموں سے الگ رہنے کے عمل کا آغاز کر دیا تھا۔

مَیں اُٹھی اور سامنے کے ٹوٹے پھوٹے فرش والے کمرے میں چلی گئی، جو ہماری بیٹھک کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔اس کمرے سے کائی اور سڑانڈ کی بدبو آ رہی تھی۔”ہم وزیراعظم کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہیں“مَیں نے سامنے کھڑے خوفزد چھوٹے جیلر کو بتایا۔

”وہ انہیں دفنانے کے لئے پہلے ہی لے جا چکے ہیں“ اس نے کہا۔

مَیں نے محسوس کیا جیسے اس نے میرے سر پر لٹھ مار دی ہے۔”ان کے گھر والوں کے بغیر؟“ مَیں نے تلخی سے پوچھا۔ فوجی حکومت کے جرائم پیشہ افراد کو بھی یہ علم ہے کہ میت کے ہمراہ جانا،اس کے لئے دُعائے مغفرت کرنا،دفنانے سے پہلے چہرہ دیکھنا ہمارے خاندان کا مذہبی فریضہ ہے۔”ہم نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے درخواست بھی کی تھی“۔

”وہ انہیں لے گئے ہیں“اُس نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔

”انہیں کہاں لے گئے ہیں؟“

جیلر خاموش کھڑا رہا۔

”سب کچھ سکون سے ہو گیا“ وہ بالآخر بولا، ”جو کچھ بچا کھچا سامان تھا، مَیں لے آیا ہوں“۔

میرے والد کی کال کوٹھڑی کا بچا کچھا سامان ایک ایک کر کے میرے حوالے کیا۔میرے والد کی قمیض شلوار، لمبی قمیض اور ڈھیلا پاجامہ جو انہوں نے آخری دِنوں میں پہنا،کیونکہ بطور سیاسی قیدی انہوں نے سزا یافتہ مجرم کی وردی پہننے سے انکار کر دیا تھا۔کھانے کا ٹفن بکس…… اگرچہ کچھ دِنوں سے انہوں نے مطلقاً کچھ نہیں کھایا تھا، بستر کے کپڑے جن کی اجازت اُس وقت ملی تھی جب چار پائی کے ٹوٹے ہوئے تاروں نے ان کی کمر کو چھلنی کر دیا تھا اور ان کا پانی پینے کا پیالہ۔

”ان کی انگوٹھی کہاں ہے؟“مَیں نے جیلر سے استفسار کیا۔

”کیا ان کے پاس کوئی انگوٹھی تھی؟“

مَیں نے اسے اپنے تھیلے میں ہاتھ مارتے دیکھا اور پھر اپنی جیبوں میں، آخر اس نے میرے والد کی انگوٹھی میرے حوالے کر دی، جو آخری دِنوں میں ان کی نحیف انگلیوں میں سے پھسل پھسل جاتی تھی۔

”پُرسکون، ہر چیز بہت پُرسکون رہی“ وہ بڑ بڑایا۔

پھانسی پُرسکون کیسے ہو سکتی ہے؟

یہ اقتباس محترمہ بے نظیر بھٹو کی آپ بیتی ”دُختر مشرق“ سے لیا گیا اور یہ الفاظ بھی انہی کے ہیں کہ کس طرح سابق وزیراعظم کو پھانسی کے بعد خاموشی اور جلدی سے لے جایا گیا۔”قائد عوام“ کی نمازِ جنازہ کی ایک تصویر بھی وائرل ہے اور چند لوگ نماز ادا کر رہے ہیں۔ کہا تو یہی گیا تھا کہ میت کو جیل میں غسل دے کر کفن پہنایا گیا اور جیل کے عملے نے نمازِ جنازہ ادا کی تھی،لیکن اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔البتہ گڑھی خدا بخش والی تو تصویر بھی موجودہے اور پھر اس وقت ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر(ر) سلیم کا اپنا انٹرویو بھی ہے۔اس میں انہوں نے بتایا کہ ہدایت تو یہی تھی کہ جونہی میت پہنچے فوری تدفین کر دی جائے، مگر انہوں (سلیم) نے ایک مسلمان کی حیثیت سے وہاں موجود بھٹو فیملی کے حضرات کی درخواست پر میت کو غسل دے کر نمازِ جنازہ ادا کرنے کی اجازت دے دی تھی اور اس پاداش میں ان کو جبراً قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔

یہ سب اِس لئے یاد آیا کہ آج(4 اپریل) گڑھی خدا بخش ویران ویران ہو گا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہے، خود پیپلزپارٹی کی اپنی صوبائی حکومت بھی مجبور ہے کہ انسانی زندگیاں زیادہ عزیز ہیں، ہمیں یہ تو یقین ہے کہ حفاظتی انتظامات کے تحت بھٹو اور ان کے اہل خانہ کی ان قبروں (مزاروں) پر قرآن خوانی اور پھول چڑھانے کا اہتمام ضرور کیا گیا ہو گا، تاہم سالانہ جلسہ ممکن نہیں، جو روایت اور جیالوں کے خون گرمانے کا بہانہ ہے۔ یہ سلسلہ تسلسل سے جاری رہا،اس میں کبھی وقفہ نہیں آیا،اور4 اپریل سے پہلے ہی تیاریاں بھی شروع کر دی جاتی تھیں،مگر اس مرتبہ تو اب تک ہمیں کوئی خبر بھی دکھائی نہیں دی کہ 4اپریل کو برسی ہے اور کورونا کی وجہ سے کیا صورت حال ہو گی۔بہرحال قرآن خوانی تو لازم ہے۔

آج کے اس دور میں جیالے بھٹو دور کا موازنہ کرتے رہتے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو اس وقت منتقل ہوا جب ملک معاشی، اقتصادی اور معاشرتی طور پر بدترین حالت میں تھا۔94ہزار قیدی بھارت کی قید میں تھے اور قریباً پانچ ہزار مربع میل زمین بھی اس کے قبضے میں تھی، جیالوں کے مطابق بھٹو نے نہ صرف ملک کو پاؤں پر کھڑا کیا،بلکہ خوشحالی بھی آئی۔ شملہ معاہدہ ہوا اور بھارت کی قید سے فوجی جوانوں سمیت تمام جنگی قید بھی واپس آئے۔ہم نے اپنے صحافتی فرائض کے حوالے سے گڑھی خدا بخش میں کئی بار برسی کی تقریب کی کوریج کی اور جیالوں کا جوش دیکھا ہوا ہے،لیکن کورونا نے ایسے کرنا چاہئے کہ یہ حضرات آج اپنے دفاتر اور گھروں میں قرآن خوانی کا اہتمام تو کر ہی لیں۔ محترمہ کی کتاب سے ان کے اپنے لکھے ہوئے الفاظ قارئین کی نذر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دور کی بے بسی کا اندازہ کر لیا جائے کہ دورِ آمریت میں بیٹی اور بیوی کو میت کا چہرہ بھی دیکھنے نہ دیا گیا تھا۔

مزید :

رائے -کالم -