کورونا،عالمی تجارت اور کچھ خدشات

کورونا،عالمی تجارت اور کچھ خدشات
 کورونا،عالمی تجارت اور کچھ خدشات

  

پوری دنیا اس وقت کووڈ 19وائرس کی لپیٹ میں ہے،کئی ممالک تباہ حالی سے دوچار ہیں،دلچسپ بات یہ کہ جس ملک سے اس جان لیوا وائرس کا آغاز ہوا، وہاں اس پر قابو پا لیا گیا ہے،اور پورے چین میں زندگی معمول پر آچکی ہے۔ جبکہ امریکہ، اٹلی اور سپین بری طرح اس وائرس کی تباہ کاری کا شکار ہیں، افریقی اور ایشیائی ممالک میں بھی تیزی سے یہ وائرس پھیل رہا ہے، اللہ پاک کا لاکھ شکر کہ پاکستان میں یہ وباء ابھی کنٹرول سے باہر نہیں ہوئی اس کی تباہ کاری بھی کم ہے اور ہولناکی بھی، ماہرین کے خیال میں پاکستان میں پھیلنے والا وائرس اس قدر شدت کا حامل نہیں جو شدت چین اور امریکہ و یورپ میں ظاہر ہونے والے وائرس کی ہے، اس کے باوجود وسائل اور طبی سہولیات کی کمی اور عوامی شعور نہ ہونے کے باعث یہ وائرس خطرناک ہو سکتا ہے۔ بہر حال کورونا کا یہ ایک رخ ہے جو ہمارے سامنے ہے،اس صورتحال کا ایک رخ دنیا سے مخفی ہے ممکن ہے یہ بعض لوگوں کی اختراع ہو سکتی ہے مگر ماضی میں ہونے والی سرد جنگوں کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا جائے تو اس گمان میں کچھ حقیقت بھی دکھائی دیتی ہے۔

دینا میں اب تک غالب اور مقتدر دو بڑے رہے، نائن الیون کے بعد یہ دونوں کھل کر سامنے آئے اور دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے آزماتے رہے اور آزما رہے ہیں، ان میں ایک جنگی گروپ یا دفاعی اور فوجی طاقت ہے جو بلا شبہ امریکہ ہے، نائن الیون سے قبل امریکہ ملک گیری کیلئے ایک ملک یا خطہ منتخب کرتا اور اپنی پوری طاقت اس میں جھونک دیتا تھا، لیکن افغانستان میں مداخلت کے بعد امریکی فوجی قوت مفلوج ہونے کے باوجود پھیلتی گئی، ایران، شمالی کوریا سے محاذ آرائی کے ساتھ مڈل ایسٹ میں اپنی سطوت و حشمت کے جھنڈے گاڑنے کی کوشش سالوں سے جاری ہے، اگرچہ اسرائیل کے سوا امریکہ نے آج تک کسی دوست ملک کی مشکل میں بر وقت مدد سے ہمیشہ گریز کیا، اس کے باوجود دیگر ممالک میں مداخلت سے باز نہ آیا، ماضی میں اس کے مقابل سوویت یونین تھا۔

حالیہ دور میں چین امریکہ کے مقابل آیا مگر چین نے اپنی فوجی قوت اور معاشی طاقت ملک گیری پر ضائع کرنے کی بجائے اندرونی سلامتی استحکام خوشحالی صنعتی زرعی تجارتی ترقی پر مرکوز رکھی، چین دراصل اس وقت دوسرے تجارتی گروپ کا سربراہ ہے، روس اور شمالی کوریا بھی اس گروپ کے مستقل ممبر ہیں، جبکہ امریکہ کو بعض یورپی اور نیٹو ممالک کی حمایت حاصل ہے، چین کی پالیسی ہمیشہ سے معتدل رہی اس نے کبھی دوسرے ملک میں مداخلت نہیں کی بلکہ اس کی خارجہ پالیسی ہر دور میں محتاط رہی،کسی سے کھل کر دشمنی تو دور کی بات دوستی میں امداد بھی چین کھل کر نہیں بلکہ اندر ون خانہ کرتا ہے، بھارت کی دو ریاستوں میں نکسل باڑی اور ماؤ نواز ایک عرصہ سے خود مختاری کیلئے لڑ رہے ہیں دونوں چین نواز ہیں مگر چین نے کبھی ان کی بھی اس طرح مدد نہیں کی جیسے امریکہ اور سوویت یونین اپنے ہم خیالوں کی کرتے رہے، چین نے اب تک صرف دو محدود جنگوں میں حصہ لیا دونوں اس پر مسلط کی گئیں، جب سوویت یونین نے طاقت کے گھمنڈ اور بھارت نے سوویت یونین کی شہہ پر اس سے جنگ چھیڑنے کی غلطی کی۔

تمہید طویل ہو گئی، اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف،دسمبر 2020ء میں چینی صوبہ اوہان میں پراسرار بیماری پھوٹتی ہے، طبی ماہرین اس کو کوویڈ 19کا نام دیتے ہیں، جس کا خالق امریکہ ہے یا نہیں مگر اس حوالے سے آئیڈیا 2018ء میں ایک امریکی مصنف نے دیا جس پر باقاعدہ ”contagionکے نام سے فلم بنائی گئی، اس فلم میں جو تباہی اور بیماری کی علامات دکھائی گئیں وہ ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، مگر دوسری طرف وائرس کی وجہ سے چین کی معیشت جو تجارت پر کھڑی ہے زمین بوس ہونے لگی، چین میں قائم امریکی اور یورپی کمپنیاں بھی اس کساد بازاری کی زد میں آئیں اور کچھ بند ہو گئیں کچھ خسارے میں چلی گئیں، سٹاک مارکیٹ میں ان تمام کمپنیوں کے شیئرز40فیصد تک اپنی قیمت کھو بیٹھے، اس دوران وائرس دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، صورتحال سے فائدہ اٹھاتے چین خسارے کا شکار یا بند ہونے والی امریکی یورپی کمپنیوں کے 30فیصد حصص خرید لیتا ہے،چین نہ صرف وباء پر قابو پانے بلکہ امریکی یورپی کمپنیوں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیتا ہے، ان کمپنیوں کو چین میں رہ کر وبائی مرض کی ادویہ تیار کر کے اربوں کمانے کی بھی پیشکش کی گئی۔

ایسا لگتا ہے کہ چین کا زمینی آسمانی آفات سے نبٹنے کا میکنزم بہت کار آمد اور وہ پہلے سے ہی ایسے حالات سے نبٹنے کیلئے ذہنی اور انتظامی طور پر تیار تھا، چین نے متاثرہ صوبہ میں دو ہفتہ کے مختصر عرصہ میں 12ہزار بیڈز پر مشتمل ہسپتال قائم کر نے کا بھی کارنامہ انجام دیا، اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک میں اس وائرس کو ووہان سے نکلنے نہ دیا گیا اور باقی ملک اس کی تباہ کاری سے محفوظ رہا، چین نے اس وائرس کی دوا تیار کرنے کا دعویٰ تو نہیں کیا مگر وہ اس مرض کے شکار شخص کی قوت مدافعت کو بڑھانے اور انسانی زندگی بچانے میں کامیاب ہو چکا ہے،اس سے بھی دلچسپ یہ کہ اس وائرس کا جینیٹک کوڈ بھی اب تک دستیاب نہیں، نیو ورلڈ آرڈر مغربی اقوام کیلئے تجارتی ہولو کاسٹ ثابت ہو رہا ہے، ابتداء میں ایسا منظر بنایا گیا جس سے اس شبہ کو تقویت ملتی کہ اس کا ذمہ دار امریکہ ہے اور امریکہ نے براہ راست چین پر اس کا الزام عائد کیا جس کی چین نے تردید کی،تازہ ترین صورتحال میں جرمنی،کینیڈا اور برطانیہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہو تے نظر آ رہے ہیں،بھارت ایران افغانستان میں بھی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، پاکستان بھی متاثر ہے روز بروز متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے مگر چین کی طرف سے دوست ملک کو حفاظتی کٹس، آلات، گلوز،ڈریس، ویکسین فراہم کر رہا ہے اس کے طبی ماہرین بھی پاکستانی ڈاکٹروں کی تربیت کیلئے پاکستان پہنچ چکے ہیں جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد پاکستان اس وبا پر قابو پا لے گا۔

کورونا سے چین کو ہونے والے فوائد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا، بظاہر امریکہ کو اس سے کوئی فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا مگر ایسا نہیں،اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، امریکہ چین کی تجارتی طاقت سے بری طرح خوفزدہ ہے، چین امریکہ کا جنگی حریف بھی نہیں، جبکہ امریکی معیشت دیگر ممالک میں مداخلت کی وجہ سے حد درجہ خرابی سے دوچار ہے، امریکہ چینی زراعت صنعت اور تجارت کو نقصان پہنچانے کا خواب عرصہ سے دیکھ رہا ہے، ایران سے اسرائیل کو لا حق خطرہ کے باعث اس کا مخالف ہے، سی پیک بھی اس کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف ہے،جن ممالک میں امریکی افواج برسر پیکار ہیں وہاں سے باعزت انخلاء بھی امریکہ کی ضرورت ہے، ایسے میں کچھ حلقوں کا یہ سوال کہ امریکہ نے یہ ایڈونچر کیا ہو؟ یہ قیاس اور ذہنی اختراع بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر اس میں رتی بھر بھی سچائی ہے تو نیو ورلڈ آرڈر کے تحت تجارت پر غلبہ کی خواہش سے دنیا اور انسانیت اس سے بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے، اس لئے امن پسند قوتیں ان خدشات کو نظر انداز کرنے کی بجائے سر جوڑ کر بیٹھیں اور دنیا کو کسی ایسے معاہدے پر متفق کریں جو کسی عالمگیر تباہی سے بچانے کا ضامن ہو۔

مزید :

رائے -کالم -