کورونا وائرس کیخلاف حکومت پنجاب کے اقدامات

کورونا وائرس کیخلاف حکومت پنجاب کے اقدامات

  

کرونا وائرس دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے نمودارہو ا۔اس وقت اس موذی وائرس نے196 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جیسے ہی اس موذی وائرس نے پھیلنا شروع کیا تو حکومت پنجاب نے اس کے خلاف اقدامات شروع کر دیئے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونیوالی معاشی صورتحال کے پیش نظرپنجاب میں 18ارب روپے کے صوبائی ٹیکس معاف کردیئے گئے اورروزگار کی بندش سے متاثر ہونیوالے 25لاکھ گھرانوں کو 4ہزار روپے فی گھرانہ ادا کیے جائیں گے،جس کیلئے 10ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔کرونا وائرس کی وجہ سے بے شمار لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے اورخاص طورپر دہاڑی دار طبقہ اورمزدور بھائی اس کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں،حکومت کوان کی مشکلات کا بھر پور احساس ہے، حکومت پنجاب ان کے ساتھ ہے۔ صوبے بھر میں 10ارب روپے کی لاگت سے 25 لاکھ گھرانوں کو فی کس چار ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی،یہ امدادی رقم وفاقی حکومت کے دیگر پیکیج کے علاوہ ہوگی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے 14 جنوری کو پنجاب کابینہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد روزانہ کی بنیاد پر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا اور پنجاب میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے میٹنگ کرنا اور انتظامی، مالی اور تکنیکی بنیادوں پر بروقت فیصلے کرنا ہے۔ اس کمیٹی کے تواتر کے ساتھ اجلاس ہو رہے ہیں۔14جنوری کو پاکستان میں کرونا کا نام و نشان تک نہ تھا لیکن سردار عثمان بزدار نے پیشگی انتظامات شروع کروائے تھے،وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے فروری میں عوام کو اس موذی مرض اور وبا ء سے بچانے کے لیے فوری فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا۔ اس فنڈ کا مقصد پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں قائم آئسولیشن وارڈز، ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس اور قرنطینہ سنٹرز کے قیام کے ساتھ ساتھ ٹیسٹنگ کِٹز، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے حفاظتی لباس، حفاظتی ماسک اور دیگر فوری طبی آلات و اشیاء کی فوری خریداری مطلوب تھی۔سب سے پہلے حکومت پنجاب نے21 مارچ کو دو روز کیلیے شاپنگ مالزاور سیاحتی مقامات کو بند کیا۔جس کے بعدحکومت نے اعلان کیا کہ 24 مارچ منگل صبح 9 بجے سے چھ اپریل صبح نو بجے تک تمام سیاحتی مقامات، بازار،شاپنگ مالز، نجی و سرکاری ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ بند رہیں گے۔تاہم میڈیکل سٹورز، سبزی، فروٹ، بیکریاں اور کریانہ اسٹورز کھلے رہیں گے، ادویات ساز اور اشیائے خوردو نوش بنانے والی فیکٹریاں اور سپلائی کرنے والے ادارے کھلے رہیں گے۔ اسی طرح طبی آلات بنانے والی فیکڑیوں کو بھی استثنیٰ حاصل ہو گا۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایکسپو سنٹر میں 1000بیڈ کا کرونا وئرس ہسپتال بنا یا ہے۔اس کے علاوہ880 بیڈوں پر مشتمل 8 ہوٹلوں کی نشاندہی کی گئی ہے،گجرات، فیصل آباد، ٹیکسلا اور تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں قرنطینہ کیلئے مراکز تیار ہیں،قرنطینہ میں موجود متاثرین اور ان کے خاندانوں کو فوڈ پیکیج فراہم کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔شہریوں کے آپس میں ملنے سے بچانے کے لیے پرائیویٹ پراپرٹیز کے اندر تقریبات پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ صوبہ بھر میں ایمرجنسی کے لیے مختص 236ملین میں 217ملین کی خریداری کر لی گئی ہے۔ جس میں 160ملین کے گاؤن، 20ملین کے N95ماسک، 9.3ملین کے گلوز، 1.1ملین کے سرجیکل ماسک خریدے گئے ہیں۔اسی طرح8.4ملین کی عینکیں، 4.46ملین کے شو کور، 0.7ملین کے لونگ شوز، 3.5ملین کے سینی ٹائزر،2.9 ملین کی فیس شیلڈ، 1.2ملین کے ایگزامی نیشن گلوزاور4.84ملین کے سرجیکل گلوز بھی خریدے گئے ہیں۔

کرونا وائرس کے پیش نظر صوبے میں بلدیاتی الیکشن 9 ماہ کیلیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے جبکہ پنجاب میں 10ہزارڈاکٹرزاورپیرامیڈیکل اسٹاف بھرتی کیے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے اپنا سرکاری ہیلی کاپٹر محکمہ صحت کے حوالے کر دیا تا کہ وزیرِ صحت، سیکرٹری ہیلتھ سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران و اہلکاروں کو ہنگامی نقل و حمل کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ماضی کی طرح اب بھی مشکل کی اس گھڑی میں پنجاب بڑے بھائی جیسا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب حکومتِ بلوچستان کو ایک ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کی ہے۔اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے 5ارب روپے کاکرونا وائرس فنڈ قائم کر دیا ہے۔پنجاب کابینہ کے ارکان اپنی ایک مہینے کی تنخواہ اس فنڈ میں دیں گے۔مخیر حضرات سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں

وزیراعظم عمران خان نے مختلف شعبہ جات کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی، اس سے حکومت کو 75 ارب روپے کا خسارہ ہوگا۔مزدوروں کیلیے 200 ارب روپے جبکہ ٹیکس ریفنڈ کیلیے 100 ارب روپے رکھے ہیں۔ غریب لوگوں کوماہانہ 3 ہزار روپے دیں گے،یہ سلسلہ 4 مہینے تک جاری رہے گا، اس مقصد کیلیے 150 ارب روپے رکھے ہیں، پناہ گاہوں کے دائرہ کارکو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہاں آکر لوگ کھانا کھا سکیں، یوٹیلٹی اسٹورزکو مزید 50 ارب روپے دیے گئے ہیں تاکہ وہاں اشیا کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے، ری پرکیورمنٹ کیلیے 280 ارب رکھے ہیں۔ بجلی کے 300 یونٹ استعمال کرنے والے افراد تین مہینے کی قسطوں میں بل ادا کرسکیں گے، گیس کے صارفین کے بل بھی قسطوں میں کردیے ہیں، 50 ارب روپے میڈیکل ورکرز کے ضروری سامان کیلیے رکھے ہیں، اشیاخورو نوش پر ٹیکسز یا ختم کردیے ہیں یا کم کردیے ہیں۔اسی طرح این ڈی ایم اے کے لیے 25 ارب روپے رکھے ہیں، اس فنڈ سے ضروری کٹس اور دیگر اشیا باہر سے منگوائی جائیں گی۔اس وقت ہمیں سب سے زیادہ خطرہ جس سے ہے،وہ ملک میں افراتفری سے ہے، سب سے زیادہ خطرہ ہمیں کرونا وائرس سے نہیں بلکہ خوف میں آکر غلط فیصلے کرنے کاہے۔پوش ایریاز میں رہنے والے تو بہت ساسامان جمع کر لیں گے، انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گالیکن اگر غریب کے بارے میں سوچیں کہ وہاں کیا ہو گا؟جو دیہاڑی دار ہے وہ کیا کرے گا؟اس چیز کا خوف وزیر اعظم عمران خان کو خوف ہے اس لیے حکومت کی سب سے پہلی ترجیح غریبوں تک کھانا پہنچانا ہے۔تاکہ اس مشکل گھڑی میں کوئی بھی شہری بھوکے پیٹ نہ سوئے۔

مزید :

رائے -کالم -