چھوڑا کچھ نہیں بس موخر ہوا ہے!

چھوڑا کچھ نہیں بس موخر ہوا ہے!
 چھوڑا کچھ نہیں بس موخر ہوا ہے!

  

جب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہوا ہے گھریلو لڑائیاں کم ہو گئی ہیں، گھریلو اخراجات میں کمی ہوگئی ہے، لوگ دین کی طرف پلٹ آئے ہیں، ہر ایک کی تخلیقی صلاحیتیں جلا پا رہی ہیں، کم کھایا جا رہا ہے،سادہ کھایا جا رہا ہے، ادھر حکومت بھی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے، اپوزیشن بھی بات بات پر تنقید کے ڈونگرے نہیں برسارہی ہے، ذخیرہ اندوزوں نے ذخیرہ اندوزی چھوڑی دی ہے، منافع خوروں نے منافع خوری ترک کردی ہے، بے جا کی دوڑ دھوپ میں کمی آگئی ہے!.... کیا واقعی ایساہے؟ کیا سب نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے؟ یاپھر چھوڑا کچھ نہیں، بس موخر کیا ہے!

ایسا لگتاہے کہ کہیں تو ابھی تک موخر بھی نہیں ہواہے، بس داؤ لگنے کا انتظار ہے، ان لوگوں کا خیال ہے کہ دو ہفتوں میں سب نارمل ہو جائے گا توساری کسر نکالیں گے لیکن اگر دو ہفتوں میں صورت حال نارمل نہ ہوئی تو کیا کریں گے؟ کرونا کی آفت کا ایک فائدہ تو سب کو لینا چاہئے کہ وہ اس وقت کو غنیمت جانیں اور مل جل کر رہنے کا ہنر سیکھیں، ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے گر جانیں، تحمل اور برداشت سیکھیں اور سادہ زندگی گزاریں کیونکہ کورونا ایسے لوگوں کو کچھ نہیں کہے گالیکن جو کوئی گھر والوں کواپنی ناراضگی دکھائے گا اور اس کے اظہار کے لئے لئے گھر سے باہر جائے گاتو نہ صرف اپنی زندگی خطرے میں ڈالے گا بلکہ واپسی پر خدانخواستہ گھر میں کورونا بھی لا سکتا ہے۔ اسی طرح ہم سب کو اپنے بزرگوں کا بھی خیال کرنا چاہئے کیونکہ اب تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسا کیا جانے لگا ہے جہاں اولڈ ہومزکوان سے پیچھاچھڑوانے کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

پاکستان میں شائد کسی حکومت کو پہلی بار یہ فکر لاحق ہوئی ہے کہ اگر عوام کا سارا دارومدار حکومت کی استعداد کار پر آن پڑا تو کیا ہوگا؟ ہماری بیوروکریسی نے تو کبھی ایسا نہیں سوچا ہوگا کہ اسے عوام کی جملہ ذمہ داریاں اٹھانا پڑیں گی، ضرورت کی ہر شے کو اس کے دروازے پر پہنچانا ہوگا، مگر اب ایسا ہو رہا ہے اور انتظامیہ کے افسران بالا ہر قسم کے اللے تللے چھوڑ،جملہ کھانچوں کو بالائے طاق رکھ کر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی سپلائی کو یقینی بنانے میں جتے ہوئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب تک انتظامیہ اس ذمہ داری میں کامیاب رہتی ہے کیونکہ انتظامیہ کی ناکامی عوام کی ناکامی، عوام کی ناکامی حکومت کی ناکامی اور حکومت کی ناکامی ریاست کی ناکامی تصور ہوگی۔ اس لئے ان حالات میں انتظامیہ کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، وہ جس قدر ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دے گی، عوام کی زندگی اسی قدر آسان ہوگی۔حکومت کی توجہ اس جانب بھی رہنی چاہئے کہ پاکستانی دیہاتوں سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں بیرون ملک، خاص طور پر یورپ جاتی ہے۔ یہ پردیس پلٹ نوجوان دھڑا دھڑ اپنے اپنے گاؤں واپس آرہے ہیں۔اگر ان کی اکثریت بغیر ضروری ٹیسٹ کے ایئرپورٹوں سے نکل آئی تو ہمارے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح زائرین کی اکثریت بھی دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، چنانچہ حکومت کے لئے درپیش چیلنج کا دائرہ مزید بڑا ہو سکتا ہے کیونکہ ہمارے دیہی علاقوں میں ابھی بھی علاج معالجے کی سہولیات ناکافی ہیں اور وہاں کی آبادیوں میں صحت کے اصولوں کی پاسداری کا بہت بڑا فقدان بھی ہے۔ حکام بالا کے پیش نظر رہنا چاہئے کہ کبھی بیرون ملک سے آنے والے اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کے لئے طرح طرح کے تحفے لایا کرتے تھے اور اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کئے تو اب کے وہ پورے گاؤں کے لئے کورونا وائرس لاسکتے ہیں!

مفروضے یہ ہیں کہ اگلے دو ہفتوں میں پاکستان میں کورونا وائرس کی شدت کا اندازہ ہو جائے گا اس لئے عوام کو زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزارنا چاہئے تاکہ کم سے کم اس وائرس سے متاثر ہوں۔ اسی طرح ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدای پیکج ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، پھر ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ انتظامیہ کی چابکدستی سے اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی رہے گی اور سب سے اہم مفروضہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس وائرس سے محفوظ رہے گی، شائد اسی لئے وزیر اعظم نے کورونا ٹائیگر فورس کا اعلان کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مفروضے کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں اور جب تک درست ثابت نہیں ہوتے آپ لوگ گھروں میں چھپے رہئے!

مزید :

رائے -کالم -