کمشنر کراچی کا جماعت اسلامی کی جانب سے قائم ہیلپ سینٹر کا دورہ

کمشنر کراچی کا جماعت اسلامی کی جانب سے قائم ہیلپ سینٹر کا دورہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد،ضرورت مندوں اور مستحقین کے لیے جماعت اسلامی اور الخدمت کی جانب سے فیڈرل بی ایریاکے ایک نجی اسکول میں قائم ”ہیلپ سینٹر“کا دورہ کیا اور الخدمت کی کاوشوں سراہتے ہوئے کہاکہ اس مشکل گھڑی میں جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکا ر خراج تحسین کے مستحق ہیں جوعزت نفس مجروح کیے بغیر عوام کی خدمت کررہے ہیں،سندھ حکومت اور انتظامیہ اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں،حکومت سندھ نے راشن کی تقسیم کا وقت صبح 5بجے سے 7 بجے تک مقرر کیا ہے، کوشش ہے کہ انہی اوقات میں ضرورت مندوں اور مستحقین کے لیے راشن کی تقسیم کو ممکن بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ کی جانب سے بھی راشن کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی اور الخدمت سندھ حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔اس موقع پر افتخار شلوانی نے راشن پیکنگ کے عمل میں بھی حصہ لیا۔ پروگرام میں الخدمت کے ڈائریکٹرکمیونٹی سروسز قاضی صدرالدین،منظر عالم، نائب امیر ضلع گلبرگ کامران سراج، انچارچ الخدمت فاونڈیشن ضلع گلبرگ سید احمد، جماعت اسلامی کراچی سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود ہیں۔ اس موقع پر ہیلپ سینٹر کے انچارج سعیدعامر موسی نے افتخار شلوانی کو تفہیم القرآن کا ہدیہ بھی پیش کیا۔قاضی صدر الدین نے افتخار شلوانی کو الخدمت کی جانب سے خدمات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ ضلع گلبرگ کے تحت ریلیف کی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان اور الخدمت کے رضا کار روزانہ ضلع کے مختلف مقامات پر جراثیم کش اسپرے کر رہے ہیں جس میں 133مساجد میں اسپرے کیا جاچکا ہے،قاضی صدر الدین نے کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے نمازیوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ تمام گرفتار شدگان کو فوراً رہا کیا جائے۔ کمشنر کراچی نے یقینی دہانی کروائی کہ تمام بے گناہ افراد کو رہا کردیا جائے گا۔ چھ ہزار سے زائد معاشی طور پر متاثرہ افراد، ضرورت مندوں، مستحقین اور مزدور طبقے کے لیے امدادی سامان اور غذائی اجناس فراہم کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور مزید ضرورت مندوں میں مرحلہ وار سامان تقسیم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مساجد کے باہر اور رہائشی علاقوں سے فنڈ بھی اکٹھا کیا گیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -