ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران مساجد میں محدود نمازیوں کیساتھ جمعہ کی ادائیگی، کراچی کے شہریوں کا پولیس پرحملہ 2زخمی، شرپسندی پر امام مسجد گرفتار

  ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران مساجد میں محدود نمازیوں کیساتھ جمعہ کی ...

  

اسلام آباد/لاہور/پشاور/کوئٹہ/کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ سے متعلق حکومتی احکامات پر عوام نے کافی حد تک عمل کیا، نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی کے باعث مساجد میں پیش امام، موذن اور انتظامیہ سمیت 5 افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی، لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز گھروں میں ہی ادا کی،وفاقی دارالحکومت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام مساجد میں نماز جمعہ کی مساجد میں ادائیگی پر پابندی کے باعث شہریوں نے گھروں میں نماز ظہر ادا کی جبکہ نماز جمعہ کی ادائیگی اور بڑے اجتماعات پر پابندی کے باعث باجماعت نمازوں کے اجتماعات انتہائی محدود رہے۔ اسلام آباد میں پابندی اور لاک ڈاؤن میں سختی رہی شہریوں کی نقل و حرکت اور مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی میں شرکت کو محدود رکھنے کیلئے تمام مساجد کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ لاہور پولیس نے بھینماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے مساجد آنے پر پابندی کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کروایا۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رائے بابر کی ہدایت پر شہر بھر کی مساجد اور دیگر اہم مقامات پرسکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔پولیس افسروں نے مساجد،عبادت گاہوں اور اہم مقامات کے سکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیا۔ڈولفن سکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ کی ٹیموں نے مساجد،عبادت گاہوں اور اہم مقامات کے گرد موثر پٹرولنگ کو یقینی بنایا۔پشاور کے شہریوں نے گھروں میں کروناوائرس کے خاتمے کیلئے بچے، خواتین، معمر افراد،معذور افراد نے خصوصی دعائیں مانگی جبکہ صوبے بھر میں پٹواریوں نے بھی مساجد کے پیش اماموں سے ملاقات میں صوبائی حکومت کے احکامات سے آگاہ کیا۔بلوچستان میں صوبائی حکومت کی جانب سے لوگوں سے گھروں پر رہ کر نماز ادا کرنے کی اپیل پرمساجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے والے افراد کی تعداد کم رہی۔دوسری جانب کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پابندی کے باوجود نماز جمعہ کا اجتماع منعقد کرنے پر پولیس کارروائی کیلئے پہنچی تو امام مسجد کے اْکسانے پر لوگوں نے اہلکاروں پر حملہ کردیا۔مشتعل شہریوں کے تشدد سے 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دیگر اہلکاروں کو ایک شہری نے گھر میں پناہ دے کرتشدد سے بچایا۔بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر امام مسجد کو حراست میں لے لیا۔

نماز جمعہ

کراچی(این این آئی) علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا ی اور دیگر ٓا ئمہ کرام نے لیاقت آباد نمبر 8 سمیت سندھ کی دیگر مساجد میں جمعہ کی نماز کے دوران پولیس کی کارروائی اور تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد پر تالے علمائے کرام کی گرفتاریاں نمازیوں کی پکڑ دھکڑ و مقدمات اور اب لوگوں کو جمعۃ المبارک کی نماز سے روکنے کے لیے آمرانہ اقدامات قابل مذمت ہیں، قوم مساجد کو تالے جمعہ نماز پر پابندی اور شعائر اسلام کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان عالمی وباء کرونا وائرس کے پھیلنے،،لاک ڈاؤن،اور آئمہ کرام اور نمازیوں کی گرفتاریوں اور ضمانتوں پر رہائی اور نماز جمعہ و دیگر نمازوں پر پا بندیوں کے بعد ملکی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے اور متفقہ لائحہ عمل اور قومی بیا نیے کیلیے 10 اپریل کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کردیا۔علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین نے کہا ہے کہ آئسولیشن میں رکھے گئے لوگوں کے ساتھ مریضوں کی بجائے مجرموں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ حکومت نے پہلے مشتبہ مریضوں کو کلاس روم کی طرح ایک ہی جگہ پر رکھا اور اب ان سے ہر طرح کا تعلق واسطہ ختم کر دیا گیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ان مریضوں کی تمام تر ضروریات کو پورا کرے اور ان کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ انہیں وباء سے بچاؤ کیلئے ضروری سامان اور گزارہ الاؤنس دیا جائے مگر حکومت کی طرف سے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔علماء مشائخ نے وزیراعظم کے ٹائیگر فورس کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے امدادی فنڈ کی تقسیم کے فارمولے کو ناکام قراردیا۔

علماء مشائخ فیڈریشن

مزید :

صفحہ اول -