تعمیراتی شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے کا اعلان، فکسڈ ٹیکس نظام رائج، امسال سرمایہ کار آمدن کا ذریعہ بتانے، گھر فروخت کرنیوالے کیپٹل گیس ٹیکس سے مستثنی نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کیلئے 30ارب روپے کی سبسڈی

          تعمیراتی شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے کا اعلان، فکسڈ ٹیکس نظام رائج، ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے باعث ہونیوالے معاشی نقصانات کے پیش نظر ریلیف پہنچانے کیلئے شعبہ تعمیرا ت کیلئے پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے شعبے میں فکسڈ ٹیکس نظام لانے کا عندیہ دیدیا۔جس کے تحت رواں سال سرمایہ لگانے والوں کو آمدن کا ذریعہ بتانے سے استثنیٰ، گھر فرو خت کرنیوالوں پر کیپٹل گین اورسیلز ٹیکس نہیں لگے گا، کنسٹرکشن کو صنعت کا درجہ، صوبوں سے مل کر سیلز ٹیکس میں کمی لائی جائیگی۔ شعبہ تعمیرات سے منسلک شعبوں پر ودپولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا گیا۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کیلئے 30ارب کی سبسڈی، تعمیراتی سیکٹر 14اپریل سے کھلے گا،گڈز ٹرانسپورٹ جاری رہے گی،کرونا ریلیف فنڈ کیلئے10ملین لوگ ایس ایم ایس کر چکے ہیں،40لاکھ افراد کو چند روز میں چیک ملنا شروع ہو جائیں گے، ہم یہ فنڈ بڑھانے کی کوشش کریں گے،کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کیلئے بھی پالیسی لا رہے ہیں، خوراک کی قلت نہیں ہونے دی جائے گی، ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں کو پیکیج سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا پاکستان میں ایک طرف کرونا اور دو سر ی طرف بھوک،ہمیں خوف ہے یہاں لوگ بھوک سے مریں گے، یہی صورتحال ہندوستان میں اور دیگر ممالک کو بھی یہی خطرہ ہے۔ملک میں لاک ڈاؤن کی بات کریں تو یہ نہ سو چیں ڈیفنس یا گلبرگ یا امیر علاقے میں لاک ڈاؤن ہوگا لیکن لاک ڈاؤن کامیاب تب ہوگا جب غریب علاقے میں بھی لاک ڈاؤن ہو۔وائرس جب پھیلنا شروع ہوتا ہے پھر امیر اور غریب میں تمیز نہیں کرتا، پھر برطانیہ کا وزیراعظم کو بھی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ضروری ہے بحیثیت قوم ردعمل آئے اسلئے قوم فیصلہ کرے اس کا جواب کس طرح دینا ہے، ہم نے سوچا جب غریب علاقے میں لاک ڈاؤن کریں گے تو وہاں لوگوں کو کھانا پہنچا سکیں گے۔ چین کے شہر ووہان میں کرونا کیخلاف کامیابی کا راز یہی تھا کہ لوگوں کو گھروں میں ہی کھانا پہنچایا گیا۔ کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں جب غریب محلے میں کھانا دینے جاتے ہیں لوگ حملہ کرتے ہیں،ہم نے 1200 ارب کا پیکیج دیا اور 150 ارب روپے جاری کردیا ہے۔جو شہری مدد چاہتے ہیں اس کیلئے ایک کروڑ افراد کی درخواستیں آئی ہیں، اس کے باوجود ہمیں کوئی گارنٹی نہیں 2یا 4ہفتے بعد پاکستان میں کیا صورتحال ہوگی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا وائر س کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے، 14اپریل کو جائزہ لیں گے۔یہ سمجھنا پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں اسلئے اموات کم ہوئی ہیں تو یہ سوچ ہی خطرناک ہے، بالکل خطرہ ہے اور عوام سے کہتا ہوں پوری توجہ دیں اور ہر قسم کی احتیاط کریں۔ زراعت کے بعد تعمیراتی شعبہ ایسا شعبہ جس میں لوگوں کو روزگار دیا جاسکتا ہے۔ تعمیرات ایسی صنعت ہے جس کیساتھ ساتھ معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوگا، لیکن حکومت کی خواہش ہے ہمارے دیہاڑی دار کو روزگار ملے کیونکہ ہمیں نہیں پتہ دو ہفتے بعد کیا ہوگا۔کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بورڈ بھی بنے گا۔ بعدازاں وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وبا سے متعلق ڈیٹا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر جاری کریگا۔ وزیراعظم عمران خان نے خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کرونا وائرس سے متعلق اعدادو شمار کسی صورت نہ چھپائے جائیں۔ صوبوں کو ڈیٹا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے شیئر کریں۔ وبا سے متعلق کوئی بھی معلومات چھپانا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا الحمد للہ پاکستان میں کرونا وائرس کی صورتحال پریشان کن نہیں، حکومتی اقدامات اور تمام اداروں کی محنت سے کنٹرول میں ہے۔ 14 اپریل تک اسی طرح کی پابندیاں جاری رکھی جائیں گی، اس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے فیصلے کریں گے۔

پیکیج اعلان

اسلام آباد، لاہور،کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفر آباد، گلگت بلتستان(سٹاف، جنرل رپورٹرز، بیورورپورٹس، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) ملک بھر میں گزشتہ روزکرونا وائرس کے 184کیسز سامنے آئے جبکہ صوبہ سندھ میں مزید3،خیبر پختونخوامیں مزید 2افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 40 تک جاپہنچی جبکہ مزید کیسز سامنے آنے کے بعد صوبہ پنجاب میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 1069،سندھ 830، خیبر پختونخوا343،بلوچستان175،گلگت بلتستان،190،اسلام آباد70اورآزاد کشمیرمیں 11 ہونے سے ملک بھر میں متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2684 ہوگئی۔وباء سے صحت یاب ہونیوالے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 127تک پہنچ گئی۔صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کراچی میں مزید 2 افراد مہلک وائرس کا شکار بن گئے۔ جاں بحق مریضوں کی عمریں 80 اور 60 سال تھیں جن کے یکم اپریل کو کرونا وائرس کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے تھے، دونوں افراد میں وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا۔ صوبے میں اب تک مہلک وائرس کے باعث انتقال کرنیوالوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔ کرونا وائرس سے اب تک سندھ میں 14، پنجاب میں 11، خیبرپختونخوا 11، گلگت بلتستان 3 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ صوبے سندھ میں کیسز کی مجموعی تعداد 783 ہوگئی۔محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں مزید 18، سکھر 8، حیدرآباد 14اور گھوٹکی میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔ صرف کراچی میں کرونا وائرس کے کیسز کی کل تعداد 342 ہے۔ سندھ میں کرونا سے ہونیوالی اموات میں سے 12 ہلاکتیں کراچی اور2حیدرآبادمیں ہوئیں،جبکہ صوبے بھر میں اب تک 65 افراد کرونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔جمعہ کو اسلام آباد میں کرونا وائرس کے مزید 6 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے۔پورٹل کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کیسز کی مجموعی تعداد 68 ہوگئی ہے۔ بروز جمعہ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں جس کے مطابق علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 190 ہوگئی ہے۔گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے ان کیسز کی فی الحال تصدیق نہیں کی گئی ہے البتہ محکمہ اطلاعات کی جانب سے کرونا سے 8 افراد کے شفایاب ہونے کی اطلا ع دی گئی ہے۔پنجاب میں بروز جمعہ کرونا وائرس کے مزید 8 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 1012 ہوگئی جس کی تصدیق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈی جی خان میں 213 زائرین اور ملتان میں 91 زائرین کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔اس کے علاوہ گوجرانوالہ 14، وہاڑی 8، ڈی جی خان 5، جہلم 28، سرگودھا 10، حافظ آباد 5، لاہور 204، راولپنڈ ی53، اٹک 1، قصور 1، رائیونڈ قرنطینہ 142، ملتان 2، میانوالی 3، بہاولنگر 3، فیصل آباد قرنطینہ 5، منڈی بہاؤالدین 14، ننکانہ صاحب 13، لودھراں 2، فیصل ا?باد 9، نارووال 2، خوشاب 1، لیہ 1، گجرات 91، رحیم یار خان 3 جبکہ بہاول پور اور سیالکوٹ میں ایک ایک مریض ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے بھر میں اب تک کرونا کے 6 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔پنجاب میں اب تک کرونا وائرس سے ہونے والی 11 ہلاکتوں میں سے لاہور میں 5، راولپنڈی میں 4 اور رحیم یار خان، فیصل آباد میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

پاکستان اموات

واشنگٹن،لندن،برسلز،برلن، پیرس،انقرہ،تہران(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) عالمی وباء کرونا وائرس سے دنیا بھر میں 11 لاکھ سے زائد افراد بیمار ہوگئے جبکہ مرنیوالوں کی تعداد 56 ہزار سے بڑھ گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق فرانس میں گزشتہ روز کرونا وائرس سے مزید 1355 اور سپین میں 961 اموات کا اعلان کیا گیا جس کے بعد دنیا بھر میں 24گھنٹوں میں ہلا کتو ں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار ہوگئی۔ عالمگیر وبا کی زد میں آنیوالے مریضوں کی تعداد گیارہ لاکھ اور اموات کی تعداد 56 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سائنس اینڈ انجینئرنگ نے دنیا بھر میں وبا ء سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے ممالک میں 3اپریل کو 5بجے جی ایم ٹی تک نوول کرونا وائرس کے مصدقہ مریضو ں کی تازہ ترین صورتحال جاری کرتے ہوئے بتایا پوری دنیا میں نوول کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد11لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ اس فہرست میں ا مر یکہ2لاکھ45 ہزار 540 مصدقہ مریضوں کیساتھ سب سے اوپر ہے، اٹلی میں 1لاکھ15ہزار242مصدقہ مریض ہیں جبکہ سپین میں 1لاکھ 12ہزار65مریض ہیں۔ اسی طر ح جرمنی میں 84ہزار 794اور فرانس میں 59 ہزار 929مصدقہ مریض ہیں۔ ایران میں 50ہزار468،برطانیہ میں 34ہزار173اور سوئٹزرلینڈ میں 18ہزار 827 مصد قہ مر یض ہیں۔اس کے علاوہ ترکی میں کل مریضوں کی تعداد18ہزار135جبکہ چین میں 82ہزار456ہوگئی ہے۔امریکہ میں کرونا وائرس سے مسلسل دوسرے روز 1 ہزار اموات واقع ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 6 ہزار 88 جبکہ بیماروں کی تعداد 2لاکھ45ہزار 184ہو گئی ہے۔وائرس سے متاثرہ 10ہزار 403 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 5 ہزار 421 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔نیو یارک کے مئیر نے گھر سے نکلنے والے تمام افراد کو ماسک پہننے کی ہدایت کی، امکان ہے یہی ہدایت وائٹ ہاوس کی جانب سے اب پورے امریکہ میں بھی جاری کر دی جائے گی۔وائرس نے امریکہ میں ایک کروڑ افراد کو بیروزگار بھی کر دیا ہے۔بحری بیڑے پر وبا ء پھیلنے سے روکنے میں حکام کی ناکامی کا پردہ فاش کرنیوالے کمانڈر بریٹ کروزئیر کو جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے۔صدارتی امیدوار کی نامزدگی کیلئے ڈیمو کریٹس نے نیشنل کنونشن ملتوی کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار بھی اپنا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا جس کے نتائج بھی منفی ہی نکلے ہیں۔امریکہ میں روزانہ بڑے پیمانے پر کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے۔ مزید 25 ہزار کیسز کی تصدیق ہوئی اور 700 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس وقت ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 65 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 5800 سے زیادہ ہے۔جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق اٹلی میں گزشتہ روز 760 اموات ہوئیں۔ اٹلی میں کل ہلاکتیں 13915 اورسپین میں 10348 ہوگئی ہیں۔ اٹلی میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار اور سپین میں ایک لاکھ 12 ہزار ہوچکی ہے۔برطانیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 569، بیلجیم میں 183، جرمنی میں 176، نیدرلینڈز میں 166 اور ایران میں 124 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 5387، ایران میں 3160، برطانیہ میں 2921، نیدرلینڈز میں 1339، جرمنی میں 1107 اور بیلجیم میں 1011 تک پہنچ گئی ہے۔کئی دوسرے ملکوں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں ترکی میں 79، سویڈن میں 69، برازیل میں 57، سوئزرلینڈ میں 48 اور کینیڈا میں 47 اموات شامل ہیں۔ جرمنی میں مریضوں کی تعداد 84 ہزار، فرانس میں 59 ہزار، ایران میں 50 ہزار اور برطانیہ میں 33 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ سوئزرلینڈ اور ترکی میں تعداد 18 ہزار، بیلجیم میں 15 ہزار، نیدرلینڈز میں 14 ہزار اور کینیڈا اور آسٹریا میں 11 ہزار ہے۔چینی حکام کے مطابق ان کے ملک میں گزشتہ روز 6 ہلاکتیں ہوئیں اور 35 نئے کیس سامنے آئے۔ اس طرح کل ہلاکتیں 3318 اور مجموعی کیسز 81589 ہیں جو اب چار ملکوں سے کم ہیں۔دریں اثناء چین میں آج ہفتہ کے روز کرونا کیخلاف لڑتے ہوئے جانیں دینے والے افراد کی یاد میں ایک قومی سوگ کی تقریب کا انعقاد کیا جا ئیگا۔ چین میں کورونا کے خلاف لڑتے ہوئے محکمہ صحت کے 14 کارکنان بھی ہلاک ہوگئے تھے۔چین کی سٹیٹ کونسل کا کہنا ہے صبح 10 بجے سے شروع ہونیوالی تقریب میں ملک بھر میں تمام افراد تین منٹ کیلئے خاموشی اختیار کریں گے۔ اس کے علاوہ ہوائی حملے کا سائرن بجایا جائیگا اور لوگ اپنی کاروں، ٹرینیوں اور دیگر قسم کی گاڑیوں کے ہارن بجائیں گے۔ادھردنیا بھر میں کرونا متاثرین میں 2 لاکھ 10 ہزار ایسے لوگ شامل ہیں جو مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔ 40ہزارسے زائد کرونامتاثرین کی حالت تشویشناک ہے۔ کرونا وائرس سے سب سے ز یا د ہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئیں جبکہ سب سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں، غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

کرونا دنیا

مزید :

صفحہ اول -