کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ، امریکہ کا دنیا بھر کے ممالک سے مذہبی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

  کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ، امریکہ کا دنیا بھر کے ممالک سے مذہبی قیدیوں ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکہ نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث زیادہ صحت مند ماحول فراہم کرنے کیلئے تمام مذہبی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے عمومی سفی سام براؤن بیک نے امریکی محکمہ خارجہ میں ایک خصوصی بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ رہائی اس لئے ضروری ہے کہ جیلوں کے تنگ غیر صحت مند ماحول میں ان قیدیوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ ایک رپورٹر نے ان سے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے کو کہا کہ بھارت میں ”کرونا جہاد“ کے نام سے ایک ہیش ٹیگ کا رجحان چل رہا ہے جس کے ذریعے وہاں مسلم اقلیت کو ہراساں کرکے وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ایسی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور کیا انہیں علم ہے کہ ضرورت کے اس وقت میں کشمیریوں کو ضروری تحفظ حاصل ہو رہا ہے۔ امریکی سفیر نے جواب میں بتایا کہ بھارت میں مسلم اقلیتوں پر وباء پھیلانے کا الزام درست نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سمیت بھارت میں تمام اقلیتوں کی برابر حفاظت کی جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس سلسلے میں وزیراعظم سے براہ راست بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔ امریکی سفیر نے اس امرپر مسرت کا اظہار کیا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کیلئے ایران نے وہاں ایک لاکھ کے قریب ضمیر کے قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے بہت سے ہائی پروفائل مذہبی قیدیوں کو رہا نہیں کیا جنہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے چین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پروٹیسٹنٹ اور کیتھو لک چرچ سے منسلک قیدیوں کو جلد از جلد رہا کردے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی اور ضمیر کے قیدیوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت روس میں 240، ویتنام میں 128، اریٹیریا میں 40، انڈونیشیا میں 150 مذہبی یاضمیر کے قیدی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ چین میں مسلم اقلیت اویغور کی صورت حال بہت تشویشناک ہے جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان میں سے اکثر وہاں قید ہیں جن کی حفاظت کیلئے ان کی رہائی بہت ضروری ہے۔ کابل میں سکھ کمیونٹی پر حملوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا اس کمیونٹی سے رابطہ قائم ہے۔ اس کے علاوہ شمالی عراق میں بھی قیدیوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی وائرس سے بچاؤ کیلئے رہائی ضروری ہے۔

امریکہ/مطالبہ

مزید :

صفحہ اول -