لاک ڈاؤن کے دوران شہر میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے

لاک ڈاؤن کے دوران شہر میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہر کے مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگ گئے،جس کی وجہ سے شہر میں کورونا کے علاوہ دیگر وبائی امراض بھی پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جو کہ ایک خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ان خدشات کا اظہار نیشنل فورم فار انوائرنمٹ اینڈ ہیلتھ کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کی ماحولیاتی کمیٹی کے کنونیر محمد نعیم قریشی نے گذشتہ روز جاری اعلامیے میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ایمرجنسی صورتحال میں صفائی کا خصوصی انتظام کیا جانا چاہئے اور میونسپل اداروں کو اس کام کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل عملے کو تمام حفاظتی ساز و سامان بھی مہیا کیا جائے تاکہ وہ اس مشکل صورتحال سے نمٹ سکیں۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران سندھ حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ، میونسپل ادارے، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، کے ایم سی کو بند نہیں کیا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ ان اداروں کو اپنا کام جاری رکھنا ہے اور صفائی ستھرائی بہت ذیادہ اہم ہے۔ این ایف ای ایچ کے صدر نے کہا کہ کراچی جیسے شہر میں جہاں روزانہ 12000ٹن کچرا جمع ہوتا ہے وہاں صفائی نہ ہونا لوگوں کی صحت کو نقصان پہچانے کے متعرادف ہے۔ اور ایک ہفتے میں 60ہزار ٹن سے زائد کچرا مختلف جگہوں پر موجود ہے جس سے تعفن کے ساتھ کیڑے مکوڑے،مچھر،مکھیان بڑھ گئی ہیں اور یہ صورتحال کئی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی سندھ، لوکل گورنمنٹ کے وزیر اور چیف سیکریڑی سے مطالبہ کیا کہ شہر میں فوری طور پر کچرا اٹھانے کا کام شروع کیا جائے اور اسے بھی کورونا کیخلاف جنگ کا حصہ بنایا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -