ڈینئل قتل کیس، رہائی کے بعد احمد شیخ ساتھیوں سمیت زیر حراست

  ڈینئل قتل کیس، رہائی کے بعد احمد شیخ ساتھیوں سمیت زیر حراست

  

کراچی،واشنگٹن (سٹاف رپورٹر،این این آئی) حکومت سندھ نے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں سزا بھگتنے والے چار مجرمان کی اپیلوں پر 18 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے جمعرات کے روز ان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔فیصلے پرردعمل دیتے ہوئے سندھ حکومت نے رہا ہونیوالے افراد کی بریت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں جیل میں سے ہی 3 ماہ کیلئے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق ان افراد کو ایم پی او 1960سیکشن 3 (1) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان افراد کونقص امن کے آرڈیننس کے تحت حراست میں رکھنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق ان افراد کی رہائی سے امن و امان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے۔محکمہ پراسیکیوشن کے ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے او رآج بروز ہفتہ اپیل دائر کردی جائے گی۔ واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے امریکی صحافی ڈینیل پرل قتل کیس میں ملزمان فہدنسیم احمد، سیدسلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کو رہا کرنے جب کہ احمدعمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ جبکیامریکہ نے ڈینیئل پرل کیس کا فیصلہ افسوناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ ملزموں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلیس ویلز نے پاکستانی حکومت کے اپیل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈینیئل پرل کے قتل کے ملزموں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے تمام ملزموں کی سزاؤں کو ختم کرنا دہشت گردی کو بڑھاوا دینا ہے۔امریکی صحافی ڈینئیل پرلگے اغوا اور قتل کا فیصلہ 18 سال بعد گزشتہ روز سنا یا گیا۔تین مرکزی مزمان کو اپیلوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے بری کردیا۔سندھ ہائی کورٹ میں دو روکنی بنچ نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کیس میں مجرمان کی جانب سے دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا یا۔

ڈینئل پرل

مزید :

صفحہ آخر -