حفاظتی کٹس نہ ملنے سے میو ہسپتال کی 2نرسیں کرونا کا شکار، انتظامیہ نے رپورٹس غائب کر دیں

حفاظتی کٹس نہ ملنے سے میو ہسپتال کی 2نرسیں کرونا کا شکار، انتظامیہ نے رپورٹس ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر)میو ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی، اپنے ہی ہسپتال کے سٹاف سے سوتیلی ماں والا سلوک کرنے لگی، کرونا وارڈ میں ڈیوٹی کرنے والی نرسز حفاظتی کٹس نہ ملنے سے کرونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہو گئیں، میو ہسپتال آئسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی کرنے والی 7میں سے 2نرسز کا ٹیسٹ پوزیٹو آیا ہے، ہسپتال انتظامیہ نے پہلے دونوں نرسز کی رپورٹس غائب کر دیں، 31مارچ کو دوبارہ ٹیسٹ ہونے پر ان کا ٹیسٹ پھرپوزیٹوآیا ہے، جس پر ایک نرس کو (اے وی ایچ) روم سے زبردستی کرونا وارڈ میں شفٹ کردیا گیا جہاں پہلے سے 90مریض موجود ہیں، ایم ایس میو ہسپتال بھی کرونا کے مرض کا شکار ہونے والی نرس کو وارڈ میں شفٹ نہ ہونے پرسنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔ ہسپتال میں سٹاف نرسز بغیر کسی حفاظتی کٹس اور اقدامات کے کرونا کاؤنٹرز اور وارڈز میں ڈیوٹی دینے پر مجبور ہیں۔جبکہ سٹاف نرسز کو مسلسل لمبی ڈیوٹیز دینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔جس سے باقی سٹاف شدید مایوسی کا شکار ہے کہ اگر کل کو ہمیں کرونا کا مرض ہوگیا تو ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوگا۔دوسری جانب پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ عام شہریوں کے علاوہ اس وباء کے خلاف فرنٹ لائن سپاہیوں کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بھی تاحال حفاظتی سامان نہیں دیا گیا جس کا رزلٹ میوہسپتال میں دو نرسزکو کرونا کا مثبت ٹیسٹ ہے جس کی ذمہ دارمیو ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت ہے۔ ڈاکٹروں، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف نے شکوہ کیا ہے کہ ہمیں حفاظتی سامان نہیں دیا گیا۔پنجاب حکومت نے اپنے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں بھی یہ اشیاء نہ ہونے کے برابر فراہم کی ہیں۔ لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں اگر محدود تعداد میں یہ حفاظتی سامان مہیا کیا گیا ہے تو صرف ایمرجنسی یا آئسولیشن کے عملہ کو مہیا کیا گیا ہے۔ باقی ڈاکٹر اس کے بغیر کام کر رہے ہیں حتیٰ کہ کئی ہسپتالوں میں سکریننگ پر مقرر عملہ کو بھی یہ حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا گیا۔

نرسیں کرونا

مزید :

صفحہ آخر -