حکومتی امداد پروگرام جدید، ان پڑھ اور سادہ لوگ کدھر جائیں

حکومتی امداد پروگرام جدید، ان پڑھ اور سادہ لوگ کدھر جائیں

  

تجزیہ: ایثار رانا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار غریب آدمی اور خصوصاً دیہاڑی دار مزدوروں کا ذکر اچھا لگتا ہے۔ حکومتی پیکیج کا ملکی معیشت کو سامنے رکھ کر جائزہ لیں تو یہ ان حالات میں ایک بہت اچھی کاوش ہے۔ لوگ 8171پر اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیج رہے ہیں، لیکن یہاں ایک بھونڈامذاق شروع ہوتا ہے۔ جب گھروں میں تپڑی پھیرنے والی، ایک ٹھیلے پر پھل لگانے والا اپنے پرانے ماڈل کے فون سے اپنا نمبر بھیجتا ہے تو اسے جوابی پیغام ملتا ہے کہ آپ ضلعی حکومت سے رابطہ کریں۔ اب یہ کون اسے بتائے کہ یہ ضلعی حکومت کی چڑیا کس شاخ پر بیٹھتی ہے۔ پھر اگر اسے کوئی یہ بتاہی دے کہ ضلعی انتظامیہ کیا ہے تو وہ لاک ڈاؤن کے باعث کہاں جائے۔ وہ کس ضلعی افسر سے ملے، کس انتظامیہ کے در کو کھٹکھٹائے، جب میں نے اس حوالے سے ایک حکومتی ذمہ دار سے عرض کی جناب یہ ان پڑھ بے سہارا مخلوق کہاں جائے، کس ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرے تو انہوں نے کہا کہ ان سے کہیں کہ ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور وہاں اپنا اندراج کریں۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ بزدار اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض چوہان سے میری درخواست ہے کہ اس مذاق کا تدارک کریں اور کوئی ایسا نظام تشکیل دیں جس سے ان ان پڑھ افراد کی براہ راست مدد ہوسکے، ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ میسج کرنے پر ضلعی انتظامیہ یا حکومتی ذمہ دار خوداس سے براہ راست رابطہ کرے۔ اس سلسلے میں مسجد کمیٹیوں، زکواۃ کمیٹیوں کی مدد لی جاسکتی ہے۔ کاش ہمارے ملک میں ضلعی حکومتوں کو پنپنے دیا جاتا، بہرحال اس موقع پر اس بات کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ یقین کریں اس موقع پر ہم اخبار فروشوں کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے ایک ایک گھر سے واقف ہوتے ہیں، پولیو ورکرز ڈینگی ورکرز کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جو بھی کریں بس احساس پروگرام کے اس پراجیکٹ کو آسان کردیں تاکہ ضرورت مندوں اور لاچاروں کی براہ راست آسان طریقے سے مدد ہوسکے۔

تجزیہ

مزید :

تجزیہ -