ہسپتال کیلئے حفاظتی اشیاء کی فراہمی کیلئے ڈیڑھ ارب کی خریداری کی گئی ہے: محمود خان

ہسپتال کیلئے حفاظتی اشیاء کی فراہمی کیلئے ڈیڑھ ارب کی خریداری کی گئی ہے: ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت جمعہ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کو صوبے میں کرونا کی تازہ ترین صورتحال، کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے کیلئے ضروری آلات اور حفاظتی اشیاء کی خریداری اور آنے والے سیزن میں گندم کی خریداری سے متعلق اُمور پر بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ابھی تک ہسپتالوں میں ضروری آلات اور طبی عملے کی حفاظت کیلئے حفاظتی اشیاء کی فراہمی کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کی خریداری کی گئی ہے جس میں وینٹلیٹرز، سرجیکل ماسکس، این۔95 ماسکس اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔ صوبے میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کیلئے ٹیسٹنگ کی استعداد کار کو خاطر خواہ حد تک بڑھایا گیا ہے اور اس کو مزید بڑھانے پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے میں کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد کار کو مزید بڑھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں اور اگلے دو سے تین ہفتوں کے درمیان ٹیسٹنگ کی استعداد کار کو روزانہ دو ہزار تک بڑھایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور میڈیکل سپرٹنڈنٹس کو فوری طور پر اضافی فنڈز فراہم کئے جائیں اور اضلاع کی سطح پر قائم قرنطینہ اور آئسولیشن مراکز میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبے میں موجود دیگر صوبوں اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے لوگوں کو تمام تر ضروری سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ جب تک تبلیغی حضرات ہمارے صوبے میں قیام پذیر ہیں تب تک اُن کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے۔انہوں نے مستقبل میں صوبے کو گندم کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کیلئے گومل زام ڈیم اور چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ دریں اثناء کابینہ اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے کہاکہ کابینہ نے صوبے میں گندم اور آٹے کی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آنے والے مہینوں کیلئے گندم کی خریداری کیلئے تمام دستیاب آپشنز استعمال کئے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر گندم درآمد بھی کیا جائے گا۔ تاہم کابینہ نے مقامی سطح پر گندم خریدنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ کابینہ نے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد صوبے میں عام تعطیل اور بازاروں کی بندش میں ایک ہفتے کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔کابینہ نے ہسپتالوں میں طبی عملے کی بیک اپ کیلئے یومیہ اُجرت کی بنیادوں پر بھرتی کئے جانے والے پیشہ ور لوگوں کیلئے تنخواہ پیکج کی بھی اُصولی منظوری دے دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان پیشہ ور افراد میں ڈاکٹرز،پتھالوجسٹس، پلمونالجسٹ، نرسز اور پیرا میڈکس شامل ہوں گے جن کی بھرتی کیلئے منگل کے دن باقاعدہ اشتہار شائع کیا جائے گا۔ بھرتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان لوگوں کو ضرورت کی بنیادوں پر مختلف اضلاع میں تعینات کیا جائے گا۔ اجمل وزیر نے مزید بتایا کہ اب تک صوبے میں 311 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں اور 9 اموات ہوئی ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن اور سماجی رابطوں کو کم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات کے بڑے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن صوبے کے شہری اور گنجان آباد علاقوں میں یہ وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جس پر کابینہ نے احتیاطی تدابیر کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبے کے تدریسی ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام پر کا م تیزی سے جاری ہے اور اگلے دو سے تین ہفتوں میں ٹیسٹ کی مجموعی استعداد کار کو 2000 تک بڑھا یا جائے گااور اس مقصد کیلئے نجی شعبے کے ہسپتالوں کو بھی انگیج کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے احکامات کی روشنی میں تعمیرات کی صنعت کو مراعات دینے کیلئے صوبائی ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا اُصولی فیصلہ کرلیا۔ اُنہوں نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے معاشرے کے کمزور طبقے کیلئے منظور کردہ ریلیف پیکج کے تحت صوبے کے 21 لاکھ 43 ہزار خاندانوں کو پہلے مرحلے میں 12 ہزار روپے یکمشت جبکہ دوسرے مرحلے میں 6 ہزار روپے یکمشت ادا کئے جائیں گے۔ مشیر اطلاعات نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت صوبے میں موجود ملک کے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے افراد کے بارے میں بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ فی الوقت صوبے میں 5300 تبلیغی حضرات موجود ہیں، جن میں سے 70 فیصد کا تعلق دیگر صوبوں سے ہے جبکہ ان میں 300 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ صوبے میں موجود تبلیغی جماعت کے لوگوں کو بھر پور سہولیات فراہم کی جائیں اور زائرین کی طرح ان کیلئے بھی خصوصی انتظامات کئے جائیں۔

مزید :

صفحہ اول -