مؤرخ لکھے گا

مؤرخ لکھے گا
مؤرخ لکھے گا

  

مؤرخ نے جب لوگوں کی طرف دیکھا تو اس نے لوگوں کو زود و پریشاں دیکھا ایک طرف ضروریات کا ہجوم خوفناک اژدہھوں کی طرح منہ کھولے زبان لپلپا رہے ہیں اور خوف زدہ انسان سمٹتے سمٹتے اپنے وجود کو کھو رہا ہے تو دوسری جانب دوست احباب، زور آور طبقہ، خاص لوگ، زمیندار اور بزنس مینوں کی چمکتی ہوئی قبائیں زیبِ جسم کئے بھیڑئیے مستحق کا خون چاٹ رہے ہیں. 

مؤرخ نے جب یہ دیکھا تو لکھا کہ "نا اہلی بحرانوں کو جنم دیتی ہے"، کوئی ایک مصیبت ہے اس غریب عوام پر، روزی روٹی کی فکر، مہنگائی، بے روزگاری، کچے پکے مکان، دروازے کے ساتھ نیم کا درخت اور اسکی چھاؤں جہاں بیٹھ کر کچھ تھکان دور کر لیتے ہیں اور وہیں سے ایک راستہ جہاں سے روز آنا جانا ہوتا ہے اور آخر کار یہ تجربہ انھیں رفتہ رفتہ اسی راستے کا عادی بنا دیتا ہے اور زندگی کی امنگ رفتہ رفتہ مفقود  ہوتی چلی جاتی ہے. 

پاکستان کی بہت بڑی آبادی اس خود کار عمل کا شکار ہوئی جاتی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ وقت کے پارسا انہیں کبھی گھروں اور کبھی نوکریوں کے نام پر، کبھی غربت سے چھٹکارہ اور کبھی ادھر اور کبھی ادھر کے نام پر اکسا کر سنہرے خوابوں کے بیچ  انھیں دھوکا دیتے ہیں اور خود کسی بیک گراونڈ دھنوں کے ساتھ اس دھن میں کھو جاتے ہیں کہ عوام ان دھنوں کو ڈھونڈتے ہوۓ تھک ہار کر  اپنی قسمت کو کوسنے لگتی ہے اور حکمران ٹولے ایک دوسرے کو تحفظات دیتے چلے جاتے ہیں، تقریر کچھ، عمل کچھ اور گھبرانا نھیں ہے. 

شاعر، ادیب، تخلیق کار معاشرے کے نقیب ہوتے ہیں، معاشرے کے ان نقیبوں کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کی صحیح عکاسی کریں، "انقلاب انقلاب، کرپشن کا خاتمہ، نیا پاکستان، نیا ولولہ، نئے لوگ، اپنوں کو نا نوازنا کے نعرے، کچھ نا بدلا وہی کلہاڑی اور وہی کلہاڑی کے دستے اور سامنے نئی ضروریات کا پہاڑ لیکن ایسےجھوٹ کا نتیجہ نہایت بھیانک ہوتا ہے"، جو تخلیق کار اس بھیانک پیش منظر کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں کیا وہ اس سے بھی زیادہ جرم کے مرتکب نہیں ہوتے ہیں لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور غریب کی آہ ضرور رنگ لاتی ہے.

مؤرخ یہ بھی ضرور لکھے گا کہ"سیاست ایک معروضی عمل ہے یہ ریاضی کی مانند ہے یہ ضبطی طریقے سے نہیں آسکتی یہ کسی مائی، دادا اور نا کسی خاص لوگوں کی خواہشات اور مرضی کے مطابق نہیں چل سکتی بلکہ اس  کے لئے قانون موجود ہے جس کے مطالعے کی خاص ضرورت ہوتی ہے"، عوام پر الزام، عوام بات نہیں مانتی اور نا ہی سنتی ہے یہ عوام  کس بات پر آپ کے ساتھ ہوں کیوں سنیں اور کیسے قانون پر عمل کریں آپ نے دھوکہ آور غلط بیانیوں کے سوا دیا کیا ھے ، مزید بھوک، مزید مایوسی، مزید بے روزگاری ،مزید مہنگائی ،مزید آرڈینینس ، مزید اخلاقی بگاڑ ، زبان میں بد اخلاقی اور بگاڑ اور لوگوں کو تذبزب میں رکھنا ، کوئی معلومات نہیں اور نا عوام کو بتانا کہ کیا کرنے جارہے ہو اور کیوں کرنے جا رہے ہو جب تک آپ اپنے مفاد کو پیچھے رکھ کر عوام کے مفاد کی بات نہیں کرو گے تو عوام آپ کی نہیں سنے گی.

مؤرخ لکھ رہا ہے کہ آج حکومت کا رویہ داخلی اتحاد کا نہیں بلکہ داخلی انتشار کا ہے دعاؤں اور تعویذ گنڈوں سے آپ کب تک حکومت کو چلائیں گے اور ان تعویذوں کی وجہ سے مشکلات بڑ ھ رہی ہیں خدارا ان سے چھٹکارہ حاصل کریں اور قوم کے بارے میں سوچیں، آج ہمیں داخلی اتحاد کی ضرورت ہے آپ لوگوں کو صحافیو ں کو سیاست دانوں کو جیلوں میں ڈال کر انکا استحصال کر کے نا عوام کو اور نا سیاست دانوں کو متحد کر سکتے ہیں ایسے اقدامات اندرونی خطرات کو جنم دیتے ہیں. 

مؤرخ کہہ رہا ہے کہ آج مارکیٹوں میں بازاروں میں کھیتوں میں فیکٹریوں میں عوام کی سلامتی خطرے میں ہے اور تباہ کن غلطیوں کیوجہ سے گندم غائب ہو جاۓ اور چینی اپنے سیٹھوں کے گوداموں کی لونڈی بن جاۓ اور عوام پر ٹیکس کے کوڑے برس رہے ہوں نوجوانوں کی مہک ماند پڑ رہی ہو ، مزدور، کسان، استاد، ڈاکٹر، بزنس مین سڑکوں پر ہوں اور ہر جگہ احتجاج ہی احتجاج ہو اور حکمران کے کان پر جوں تک نا رینگے تو قوم ان کے لئے اژدھا بن جایا کرتی ہے اور ان کے اقتدار کو نگل جایا کرتی ہے اور ملک کی سلامتی پر آنچ اتی ہے کیونکہ جب آپ اندر سے کمزور ہوں تو دشمن اسکا فائدہُ اٹھا سکتا ہے  اور آپکی سلامتی اس غبارے کی مانند ہو جاتی ہے جو ایک مچھر کے رحم و کرم پر ہو. 

آج آپ کے جھوٹے دعوؤں اور غلط پالیسیوں نے ملک کو اس دہلیز پر لاکر کھڑا کر دیا جہاں لہریں اژدہا نظر آنے لگیں اور عوام کو حفاظتی ضمانت دینے والے آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ جس جنگ کا سامان اور پلان اور لیڈر کا کوئی وژن ہی نا ہو تو کوئی معرکہ فتح نہیں ہو سکتا، قوم کو افلاس زدہ کر کے توقع کرتے ہیں کہ آپ کا ساتھ دے، افلاس زدہ آدمی ملک کی سلامتی کے لئے کیسے لڑ سکتا ہے، کیونکہ آج وہ اپنے اور اپنے بچوں کے بچاؤ کی جنگ میں مصروف ہے اور ایسے مسائل میں الجھا ہوا ہے جس کا کوئی سرا نظر نہیں آتا ایک سراب ہے جو ختم ہو کر نہیں دیتا. 

مؤرخ کہتا ہے کہ "آپ سچ اور حقیقت پر مبنی عوام سے محبت اور عوام کی عزتِ نفس کی بحالی اور ان کی انفرادی آزادی کی ضمانت دیں اور ان کے حقوق کے حصول میں نوکر شاہی اور لوٹوں کا کنٹرول ختم کریں ،آپ ان کے مسائل حل کریں اور ان کے زخموں پر مرہم رکھیں تو یہ عوام بہترین سرمایہ اور  آپ کا سب سے بہترین ہتھیار ہے جو کہ ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقتور ہیں". 

مؤرخ کا کہنا ہے کہ قوم کو اعتماد میں لیکر ہر فیصلہ کرو  تاکہ وہ آپ پر بھروسہ کریں جب ایسا ہوگا تو عوام ہر مصیبت میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی اور اگر ایسا نا ہوا تو لوگوں کے ذہن پراگندہ ہو جائیں گے. 

مؤرخ دیکھ رہا ہے کہ وقت آگے بڑھ رہا ہے اور بڑھتا رہے گا اور کبھی نہیں رکے گا اور مؤرخ مشورہ دے رہا ہے کہ آپ مستقبل پر نظر رکھیں، سلامتی کوئی مجرد نظریہ نہیں ایک ایسی مخروط ہےجہاں ایک پتھر پر دوسرا پتھر کھڑا ہوتا ہے، مؤرخ دوبارہ لکھے گا کہ وہ یہ ہی کر سکتا ہے.

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -