وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مفاہمتی پالیسی

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مفاہمتی پالیسی
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مفاہمتی پالیسی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا خیر مقدم کیا، ملاقات میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار،وزیر دفاع خواجہ آصف، امیر مقام، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور اعلیٰ سرکاری افسر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چاروں صوبے وفاق کی اکائیاں ہیں، چاروں صوبے مل کر چلیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے میاں صاحب کو صوبے کے انتظامی امور سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اِس ملاقات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم بھی کیا۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وقت آ پہنچا ہے ہم جمہوری عمل کو بہتر بنائیں۔میاں صاحب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ملاقات سے کئی غلط فہمیاں دور ہوں گی،جو رابطہ نہ ہونے سے پیدا ہو جاتی ہیں یہ کمیونی کیشن کا دور ہے اختلافات ہوں تب بھی رابطہ ہونا چاہئے اس طرح تلخیوں میں کمی آتی ہے،ملکوں کے تنازعات کے فیصلے بالآخر مذاکرات کی میز پر ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ورکنگ ریلیشن شپ ہونی چاہئے۔ پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھری ہے لہٰذا بیرسٹر گوہر کے بیان کی بڑی اہمیت ہے اور پھر علی امین گنڈا پور نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کہا کہ ملاقات مثبت رہی اور یہ کہ میاں صاحب نے تعاون کا یقین دلایا ہے اور مطالبات بھی تسلیم کئے ہیں، اور صوبے کے واجبات بھی ادا کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ بھی اٹھایا ہے کہ انہیں سینیٹ الیکشن سے متعلق کپتان سے مشاورت کرنی ہے اُن سے مشاورت ہو گی تو مسائل حل ہوں گے۔وزیراعظم نے یقین دلایا کہ میری جلد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے گی۔

وزیراعظم نے ملاقات میں یہ بھی کہا کہ ہمیں مل بیٹھ  کر تمام مسائل کا حل نکالنا ہے اور ہماری تمام کاوشوں میں عوامی مفاد پہلی ترجیح ہو گی اداروں میں تقسیم نہیں ہونی چاہئے خواہ وہ وکلاء صاحبان ہوں یا ذرائع ابلاغ۔ ہمارے پرائیویٹ چینلز، ناظرین و سامعین کو معلومات اور تفریح مہیا کرتے ہیں انہیں ایجوکیٹ بھی کرتے ہیں، لیکن بعض پرائیویٹ چینل بعض سیاسی جماعتوں کے زیادہ ترجمان نظر آتے ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے اختلافات بھلا کر کچھ لچک دکھاتے ہوئے ایک میز پر بیٹھنا چاہئے اور افہام و تفہیم سے مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہئے۔وطن ِ عزیز کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے اپوزیشن کے معاشی ماہرین ایک لائحہ عمل بنائیں اور حکومت کے معاشی ماہرین کو پیش کریں ان سے معاونت کریں، ہمارے وزیر خزانہ جناب اور نگزیب بڑے لائق آدمی ہیں۔

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بھی کہا کہ ہمارے خط کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو رقم ادا نہ کرے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سیاست اپنی اپنی، ریاست سانجھی ہے۔انہوں نے سچ کہا ہے کہ قومی مفاد اولین ترجیح ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اُن قیدیوں کا بھی ذکر کیا جن کے خلاف شواہد نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کسی کے خلاف ناانصافی نہیں ہو گی۔علی امین گنڈا پور نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران یہ بڑی اہم بات کی کہ خیبرپختونخوا حکومت اچھی نیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ تُند خو علی امین گنڈا پور مصالحتی پالیسی پر گامزن ہیں جبکہ اسد قیصر جارحانہ پالیسی پر۔ مفاہمتی عمل فی الفور کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتا،بلکہ بتدریج ایسا ہوتا ہے،جہاں تک اسد قیصر کی جارحانہ پالیسی کا تعلق ہے یہ آنکھ مچولی ابھی ہوتی رہنی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی اس ملاقات کا خیر مقدم کیا ہے۔ مشہور ہے کہ وہ مفاہمت کے بادشاہ ہیں اور وہ جمہوریت کے داعی اور اس کی تکمیل کے حامی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن میں تلخیاں کم کرنے اور مسائل کم کرنے کے لئے ان کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی وزیراعظم سے ملاقات مفاہمت کی طرف ایک قدم ہے میاں شہباز شریف نے مفاہمت کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے اس کے لئے فضاء ہموار کر رہے ہیں یہ ملاقات بارش کا پہلا قطرہ  ہے!

مزید :

رائے -کالم -