حکمران اتحاد اور اختلافات؟

 حکمران اتحاد اور اختلافات؟
 حکمران اتحاد اور اختلافات؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کیا حکمران اتحاد ابھی سے ایک پیج پر نہیں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو اتحادی حکومت تشکیل پانے کے دوسرے مہینے میں ہی ابھر کر سامنے آنا شروع ہو گیا ہے،بہت سے ایشوز، تجزیے اور تبصرے بتاتے ہیں کہ معاملات ٹھیک نہیں چل رہے اور حکمران اتحاد میں مختلف ایشوز پر اختلافات پیدا ہو جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ چند ہی روز پہلے ایک ٹاک شو میں علی محمد خان صاحب کے منہ سے یہ بات سن کر مجھے بہت زیادہ حیرت نہیں ہوئی کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو ان کی مرضی کی ٹیم نہیں ملی، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو وزیر خزانہ ان کی مرضی کا ملا نہ وزیر داخلہ۔خان صاحب کی یہ باتیں سن کر مجھے حیرت اس لیے نہیں ہوئی کہ اس طرح کی سرگوشیاں پہلے ہی سیاسی ایوانوں میں سنائی دینا شروع ہو چکی ہیں کہ معاملات سب ٹھیک نہیں ہیں،مجھے نہیں معلوم کہ باتوں میں کتنی صداقت ہے لیکن یہ سوال بہرحال ذہن میں ابھرتا ہے کہ وزیر داخلہ اگر وزیر اعظم کا انتخاب یا پسند نہیں ہیں تو پھر انہیں کون کس مقصد کے لیے آگے لے کر آیا ہے، اسی طرح وزیر خزانہ کو کس نے وزیر خزانہ بنایا یا بنوایا اور کس نے اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ مقرر کرایا؟

 نجم سیٹھی صاحب نے اس سے آگے کی خبر دی، انہوں نے بتایا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اب اچھے تعلقات نہیں رہے، ان کے بقول محسن نقوی چاہتے تھے کہ وہ بیوروکریسی کی اپنی پنجاب ٹیم کو اسلام آباد میں لے جائیں جس میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور بھی شامل تھے، وہ انہیں سیکرٹری داخلہ تعینات کرانا چاہتے تھے جبکہ یہ بات وزیر اعظم شہباز شریف کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے وہاں کسی دوسرے افسر کو تعینات کر دیا۔حالیہ الیکشن میں ایک صوبہ پی ٹی آئی لے گئی، دو صوبے پیپلز پارٹی کے پاس اور پنجاب مریم نواز کے حوالے ہے، ان (شہباز شریف) کی حکمرانی اسلام آباد میں ہے تو اسلام آباد اگر محسن نقوی نے ٹیک اوور کر لیا تو ان کے پاس کیا بچے گا؟ اسی طرح محسن نقوی، پنجاب کے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات لیفٹیننٹ ریٹائرڈ سہیل اشرف کو پہلے پی سی بی کا چیف اپریٹنگ افسر اور پھر چیف کمشنر اسلام آباد لگوانا چاہتے تھے، اب تازہ ترین معاملہ یہ ہے کہ وہ ڈی آئی جی لاہور علی ناصر رضوی کو آئی جی اسلام آباد لگوانا چاہتے ہیں،ان کا نوٹیفکیشن بھی وفاق نے جاری کر دیا جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے حیرت کا اظہار کیا گیا اور ابھی تک انہیں پنجاب سے چارج چھوڑنے کی اجازت نہیں ملی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی حکمران کے ارد گرد اس کے دل پسند اور معتمد افسر موجود ہوں تو ہی وہ بہترین حکمرانی یعنی گڈ گورننس کا مظاہرہ کر سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر ایسے لوگ موجود نہ ہوں تو آپ بالکل کوئی کارکردگی دکھا ہی نہ سکیں۔ لگتا یہ ہے کہ وزیر داخلہ نے ملک میں میرا افسر تیرا افسر کی تفریق اور تخصیص پیدا کر دی ہے اور محسوس یہ ہوتا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تفریق مزید گہری ہو جائے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن افسروں کو وہ مانگ رہے ہیں وہ بہتر کیریئر کے حامل اچھے اور کام کرنے والے افسر ہیں۔ 

فی الحال معاملہ یہ ہے کہ وزیر داخلہ،وزیر اعظم کو راس آ رہے ہیں نہ ہی مریم نواز کو، وہ اوپر اوپر سے سارے معاملات کلیئر کروا رہے ہیں، ان کا کس جماعت سے تعلق ہے یہ بھی واضح نہیں،ابھی تک وہ بہت کچھ لے کر بھی آزاد ہیں، لگتا ہے وہ آئندہ سیاست میں کوئی بڑا عہدہ لینا چاہ رہے ہیں۔ دوسری طرف انہیں وزیر اعظم نے ای سی ایل کمیٹی میں بھی نہیں ڈالا حالانکہ وزیر داخلہ کا ہی محکمہ ای سی ایل کے معاملات کو ڈیل کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ اختلافات بڑھتے بڑھتے کہاں تک پہنچیں گے؟ نتائج کیا نکلیں گے؟ کیا وزیر داخلہ اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا ان سوالات کے جواب خود بخود سامنے آ جائیں گے۔

حکومت کو داخلی محاذ پر ایک اور چیلنج کا بھی سامنا ہے اور لگتا ہے کہ وزیر داخلہ کی موجودگی نے اس چیلنج کی شدت کو دوچند کر دیا ہے، پی ٹی آئی کی صورت میں اپوزیشن جس طرح بپھری ہوئی ہے ملک کو درپیش مالی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا تقاضا ہے کہ مفاہمت اور مصالحت کی سیاست کو فروغ دیا جائے لیکن محسن نقوی صاحب کی تقرری کے بعد ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ تحریک انصاف پہلے دن سے ان (محسن نقوی) کی جانب داری پر سوال اٹھاتی رہی ہے، ایک نگران سیٹ اپ میں اہم عہدے پر فائز کسی شخص کو اگر کوئی نئی حکومت ایک اہم وزارت سے نواز دے تو اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ متعلقہ شخص ایک خاص ایجنڈے کے تحت انتخابات کی نگرانی کے لیے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا اور پھر وہ وفاق میں آ کر اپنی باتیں منوانے کی کوشش کرے تو لا محالہ سوچ اس طرف جاتی ہے کہ انہیں کس مقصد کے لیے آگے لایا گیا، ان حالات میں جو یہ سوچ ابھری ہے کہ وزیر اعظم کے ہاتھ بندھے ہیں تو یہ بات کس حد تک درست ہے؟

یاد آتا ہے 24 مارچ کو رانا ثنااللہ نے بیان دیا تھا کہ محسن نقوی کی وزارتِ داخلہ اور محمد اورنگزیب کی وزارتِ خزانہ میں تقرری حکومت کے مستقبل کی ضامن ہے اور دونوں کی تقرری حکومت کی صحت کے لیے بہتر ہے، رانا صاحب نے مزید کہا تھا کہ شہباز شریف کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ان دنوں میں ہی معاملہ تلخ ہو جاتا اور پھر اتحادی حکومت میں 5 سال کی حکومتی مدت مکمل ہونے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ اس سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ اب پھر سوال یہ ہے کہ اگر ابھی سے سب ٹھیک نہیں ہے تو پانچ سال کیسے پورے ہوں گے؟ 

اسی تناظر میں مختصر سی بات خارجہ معاملات پر، صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے مشکل فیصلوں میں حصہ دار بن کر اپنی عوامی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی، یہ صورت حال مسلم لیگ (ن)، وزیر اعظم شہباز شریف حتیٰ کہ مملکت پاکستان کے لیے بھی خوش آئند قرار نہیں دی جا سکتی، پھر ملک کو عملی طور سے دیوالیہ پن کا سامنا ہے، امریکہ اور اس کے زیر اثر عالمی مالیاتی ادارے جب سی پیک منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں تو اس کے سیاسی، سٹریٹیجک اور سفارتی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مالی مشکلات کی وجہ سے پاکستان کے لیے امریکہ کی رضا مندی اور چین کا تعاون دونوں یکساں طور سے اہم بلکہ ناگزیر ہے، ان حالات میں اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ بنانا کتنا کارگر ثابت ہو سکتا ہے؟ اس تناظر میں لوگ سوچ رہے ہیں کہ داخلہ معاملات کی طرح خارجہ امور میں کوئی نیا مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -