ایمرجنسی سروسز اکیڈمی تربیت کا روشن مینارہ

ایمرجنسی سروسز اکیڈمی تربیت کا روشن مینارہ
ایمرجنسی سروسز اکیڈمی تربیت کا روشن مینارہ

  



تربیت یافتہ افراد کسی بھی ادارے میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ کسی بھی نظام کی کامیابی مثالی لیڈر شپ اور ہنر مند افراد ہوتے ہیں۔ پنجاب ایمرجنسی سروس(ریسکیو1122) کا کامیاب ماڈل لاہور سے شروع ہو کے پنجاب کے تمام اضلاع کے علاوہ دوسرے صوبوں میں بھی لمحہ بہ لمحہ قائم ہوتا جا رہا ہے۔جو وہاں کے لوگوں کے لئے بھی احساس تحفظ کی علامت ہے۔اس سارے کامیاب ماڈل کے تانے بانے مثالی قیادت کے بعد ایک ایسی تربیت گاہ سے جڑے ہوئے ہیںجو پاکستان کے لیے قابل فخر اثاثہ ہے۔ کون جانتا تھا لاہور اومنی بس سروس کا اڈا جو گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل ہو چکا تھا، ایک دن ایک اکیڈمی کا روپ دھار جائے گا۔ جی ہا ںیہ وہی جگہ ہے جہاں اہل علاقہ اپنا سارا کوڑاکرکٹ اس ویران اور کھنڈر عمارت میں پھینکتے تھے ۔ بانی ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122ڈاکٹر رضوان نصیر اور ان کے ساتھیوں نے اس اڈے کی ہیت تبدیل کرتے ہوئے اپنے عزم اور محنت سے اسے پاکستان کی جدید ایمرجنسی تربیت گاہ میں تبدیل کر دیا ۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھاکہ یہ بنجر سی زمین اتنی زرخیزہو جائے گی کہ نہ صرف پنجاب، بلکہ پاکستان کے لوگوں کو کم وسائل میں بہترین ریسکیو تربیت فراہم کرنے والے ادارے میں ڈھل جائے گا۔ 2006ءسے لے کراب تک ایمرجنسی سروسز اکیڈمی سے بلا امتیاز رنگ و نسل کم و بیش دس ہزار کے قریب لوگ زندگی بچانے کے فنون سیکھ کر لاکھوں انسانی جانیں بچانے میں بنیادی کردار ادا کر چکے ہیں۔

ریسکیو1122کی اکیڈمی موجودہ حالات میں نہ صرف پاکستانیت کو فروغ دے رہی ہے بلکہ ملی و حدت کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف علاقوں کے لوگوں کو قریب لانے میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔حکومت پنجاب دوسرے صوبوں کی درخواست پر ریسکیو1122کے زریعے متعلقہ صوبوں میں ایمرجنسی منیجمنٹ کے نظام کو قائم کرنے میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔جس کے نتیجے میں دوسرے صوبہ جات میں بھی ریسکیو1122کا کامیاب آغاز ہو چکا ہے۔ متعلقہ صوبوں کو ریسکیو1122تکنیکی معاونت کے علاوہ ، ان کے منتخب کردہ ریسکیو کیڈٹ کوایمرجنسی سروسز اکیڈمی میںمکمل ریسکیو تربیت بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ایمرجنسی میں مدد کا بنیادی حق وہاں کے لوگوں کو بھی میسر ہو سکے۔اب تک آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان میں ریسکیو سروس کے قیام کے لے متعلقہ علاقوں کے بھرتی کئے گئے ریسکیور کو تربیت فراہم کرنے کے علاوہ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں امن فاونڈیشن، پولیس، سوشل سکیورٹی، سبز ہلالی، سرکاری اور کئی غیر سرکاری اداروں کے افراد کو زندگی بچانے اور ایمرجنسی سے نبرد آزما ہونے کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔

ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی عمارت اگرچہ پرانی ہے مگر انسٹرکٹر اور مینجمنٹ کی شب و روز محنت نے اسے ضروری بنیادی ضرورتوںسے مزین کر لیا ہے۔اکیڈمی میں ایمرجنسی میں زندگی بچانے کی ابتدائی تربیت ، فائر فائٹنگ ،ریسکیو اور فلڈ ایمرجنسی سے نمٹنے کی باقاعدہ کلاسز کے ساتھ مختلف حقیقت سے قریب عملی مشقیں بھی کروائی جاتی ہیںتاکہ حادثات میں یہ تربیت کام آ سکے اس کے علاوہ میڈیکل فرسٹ ریسپانڈر، اربن سرچ اینڈ ریسکیو، ڈزاسٹر مینجمنٹ،ہیزمیٹ یونٹ اور ٹریننگ فار انسٹرکٹرز کے ایڈوانس کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔

اکیڈمی میں موجود مختلف ونگ زیر تربیت ریسکیورکو مرحلہ وار زندگی بچانے کی اپنے اپنے شعبہ سے متعلقہ تربیت فراہم کر تے ہیں۔ٹریننگ کے دوران فزیکل فٹنس پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، کیونکہ صحت مند اور قوی ریسکیور مشکل آپریشن بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتے ہیں۔ ریسکیو1122میں شامل ہر فرد اپنے آپ کو ریسکیور کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ چاہے اس کا عہدہ کوئی بھی ہو، اس کے علاوہ ریسکیور اپنی پہچان اپنے کورس کی بنیاد پر بھی رکھتے ہیں۔ اس وقت سترہواں کورس زیر تربیت ہے، جسے Basic-17کا نام دیا گیا ہے۔ اکیڈمی میں عائشہ کمپنی میں خواتین ریسکیورتربیت حاصل کرتی ہے اور ہر فی میل کیڈٹ تربیت کے دوران اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی ہیں۔اکثر اوقات اوور آل پر فارمنس کی بنیاد پر انعام کی حقدار بھی ٹھہرتی ہیں ہر کیڈٹ کے لئے پاسنگ آﺅٹ کا دن ایک تاریخی دن ہوتا ہے ،کیونکہ اس دن سخت اور جان فشاں تربیت کے بعد اکیڈمی سے حلف دیتے ہوئے کیڈٹ پاس آﺅٹ ہوتے ہیں اور اپنے علاقوں میں لوگوں کو دن رات ریسکیو سروس فراہم کرنے کا عہد کرتے ہوئے اپنے کندھوں پر احساس ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔

ہر کورس کی پاسنگ آﺅٹ تقریب میں مختلف شعبوں ، میڈیکل، فزیکل،اور ریسکیو میں اعلیٰ کارکردگی سرانجام دینے والے کیڈٹ اور انسٹرکٹرکو تعریفی اسناد، شیلڈز سے نوازا جاتا ہے، جس سے کیڈٹ کا دوسرے کیڈٹ اور انسٹرکٹر کے درمیان بھی صحت مندانہ مقابلہ کا رجحان فروغ پاتا ہے۔حالات کے بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اکیڈمی مینجمنٹ ریسکیور کے لیے مختلف ریفریشر کورسز کا بھی اہتمام کرتی ہے تاکہ ریسکیور نئے ایمرجنسی کے چیلنجوں سے بہتر طور پر نبرد آزما ہو سکیں۔

ایمرجنسی سروسز اکیڈمی ہر سال ریسکیو چیلنج کا بھی انعقاد کرتی ہے، جس میں ریسکیو کے علاوہ دوسری فائر سروسز اور اداروں کو بھی شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، تاکہ باہمی تعاون اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل سے کسی بھی ڈزاسٹر میںباہمی رابطے اور مشترکہ آپریشن کے ذریعے بہتر کردار ادا کیا جا سکے۔ ریسکیو چیلنج میں مختلف ٹیمیںٹراما چیلنچ ، فائر فٹ، ویل ریسکو، سوئمنگ /واٹر ایمرجنسی کے مقابلہ جات میں حصہ لیتیں ہیںاور بہتر ین ٹیم کوچمپئین کے اعزاز سے نوزا جاتا ہے ۔ گذشتہ ریسکیو چیلنج کی چمپئین ٹیم ریسکیو1122فیصل آباد اور رنر اپ ریسکیو1122لاہور ہے۔

ریسکیو1122کی مینجمنٹ ایک ایسی اکیڈمی کے قیام کے لئے دن رات کوشاں ہے جو صرف پاکستان کے لئے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لئے ماڈل ہو۔اگرچہ یہ ہدف مشکل ہے مگر ناممکن نہیں یہ بالکل اسی طرح ہے، جیسے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیںتھا کہ پاکستان میں ایک ایسی سروس وجود میں آئے گی جو صرف ایک کال کے فاصلے پر ہو گی اور لوگوں کو دن ہویا رات، آندھی ہو یا طوفان، زلزلہ ہو یا حادثہ ، سانحہ ہو یا آگ ہر وقت میسر ہو گی۔انشاءاللہ پاکستان میں ایک ایسی جدید اکیڈمی ضرور وجود میں آئے گی جہاں سے دوسرے ممالک سے لوگ آ کرتربیت حاصل کرنے پر فخر محسوس کریں گے۔

مزید : کالم


loading...