الیکشن کا نیا انداز

الیکشن کا نیا انداز
الیکشن کا نیا انداز

  



عہد حاضر کی اقوام اور ممالک میں پاکستان کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک، جس کے شہری اس کے ایٹمی طاقت ہونے، دنیا کی اونچی ترین آٹھ چوٹیوں، پانچ دریاﺅں، بہترین زرعی زمین، بھرپور معدنیات اور گوناگوں قدرتی عنایات پر فخرکرتے ہیں۔آج بے حد مسائل کا شکار ہے۔اس کی اقتصادی، سماجی، سیاسی، اخلاقی،دینی اور دفاعی قوت و حالت پر لاتعداد سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ملک کی بنیادی اکائیوں کے مابین تعاون کی بنیاد اسلام کی گرفت کمزور پڑرہی ہے اور صوبائی ، علاقائی اور گروہی مفادات عروج پر ہیں۔کسی بھی فلاح و بہبود یا نیکی کے کام میں عوام اور حکمران اپنا جائز حصہ ڈالنے کی بجائے تباہی و بربادی اور شرکے کاموں سے اپنا ناجائز حصہ بھی دندناتے ہوئے وصول کررہے ہیں۔شعبدہ بازوں نے اپنی اپنی باریاں متعین کررکھی ہیں اور دوسروں کے لئے غدار، چور اور لٹیرے کی اصطلاحات وضع کررکھی ہیں۔

پرانی بوتل میں نئی شراب اور بھیانک چہرے سرخی غازہ کے ساتھ جوان دوشیزہ کا روپ دھار کر عوام کے سامنے آ رہے ہیں،جن کا شعور صرف اس حد تک ہے کہ میری وفاداری بشرطِ استواری ،جس کا جلسہ بڑا ہم اس کے ساتھ،جو چڑھتا سورج، ہم اس کے پجاری،جودے پیسہ، ہمارا کردار ویسا۔پس اس طرح ایک گہری کھائی میں گررہے ہیں اور گرنے کی رفتار200کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔جس آزادی کا خواب ہم نے دیکھا تھا، وہ کالے انگریز اور سفید آقا کی نذر ہوگئی۔باقی رہ گیا کلچر تو ہمیں لوٹ لیا مل کر انڈیا کی رقاصاﺅں نے.... سوہنے سوہنے گالوں نے....کالے کالے بالوں نے ، کیونکہ یہی تو کہا تھا سونیا گاندھی نے جو آج سچ ثابت ہورہا ہے۔ملک بھر کے سینما انڈین فلمیں پیش کررہے ہیں۔ملکی زرعی ترقی کی یہ حالت ہے کہ پیاز،سبزیاں اور پھل بھارتی پنجاب سے آ رہے ہیں۔

سندھ طاس کا معاہدہ شرمناک سہی، لیکن اب تو چناب،جہلم اور سندھ بھی ہاتھ سے جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ملکی کرنسی تو ڈالر کے مقابلے میں جنگ ہاررہی تھی، اب اسے علاقائی کرنسیوں نے بھی پچھاڑ کے رکھ دیا ہے۔غیر ممالک میں پاکستانی ڈاکٹرز اور انجینئرز کی ڈگری کو اعزاز کے ساتھ قبول کیا جاتا تھا۔اب پارلیمنٹ میں بیٹھے ہمارے مسلط حکمرانوں کی ڈگریوں کی طرح ناقابل قبول ہورہی ہیں۔مذہبی ٹھیکیداروں کی توند کے اندر کا خمار آنکھوں اور دماغ پر ہائپرٹینشن پیدا کرچکا ہے،جس میں رواداری، برداشت اور اعتدال نام کی کوئی چیز نہیںہے۔کسی بھی موضوع پر ہمارے مقتدر حلقوں اور مذہبی جنونیوں کے لانگ مارچ، یکم اپریل کی طرح قوم کو بے وقوف بنا کر ختم ہوجاتے ہیں۔”اپنی انکم سپورٹ پروگرام.... اپنے پیٹ کے لئے سستی تندوری روٹی سکیم....اپنے عزیزوں کے لئے ٹیکسی پراجیکٹ....غریب کی دانش فروخت سکولنگ پراجیکٹ....ریلوے کا انجن میوزیم میوچل فنڈ....آغاز حقوق چسکی و چٹکی بلوچستان....عدالت کا جھٹکا عوام ٹھمری مٹکا....آزاد نہیں عذاب عدلیہ زیادہ باد.... اور اس سب کچھ کے بعد بھی”وچوں وچوں کھائی جاتے اوتوں رولاپائی جا۔پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد“۔

آئیں مل جل کر ان تلواروں اور تیروں کو،شیراور شریفوں کی زنجیروں کو،عمرانی کی جوان تصویروں کو ،توندوالے بکروں کی تقریروں کو ایک الیکشن کی ٹھوکر سے بحیرہ¿ عرب کی نذر کردیں اور بنیاد رکھیں، ایک نئے پاکستان کی جو آپ کا اور میرا ہو۔آئیں مل جل کر علاقے کے غریب ،تعلیم یافتہ محب وطن ایک ایسے فرد کا انتخاب کریں،جو کسی بھی پارٹی سے وابستہ نہ ہو،جو باضمیر ہو،جو الیکشن لڑنے کی خواہش نہ رکھتا ہو اورنہ ہی اس کے پاس اتنی رقم ہو کہ الیکشن لڑ سکے۔ہم سب مل جل کر ایسے فرد کے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں۔ہر بڑے چوک میں اس سے حلف لیں کہ وہ صرف اور صرف پاکستان کا وفادار ہوگا، کسی زندہ یا مردہ شخصیت کا نہیں۔سیاسی مذہبی جماعتوں کے جلسوں کا بائیکاٹ کریں اور اپنے کھڑے کئے گئے امیدوار کے جلسوں میں جائیں۔عوام الیکشن کے تمام نظام کو اپنی طاقت سے بدل ڈالیں۔یہی حل ہے پاکستان بچانے کا بصورت دیگر:

تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

مزید : کالم


loading...