رمضان المبارک میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری!

رمضان المبارک میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری!
رمضان المبارک میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری!

  



حضور اکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ابن آدم کے پاس اگر مال و دولت کی دو وادیاں بھی ہو جائیں تو وہ تیسری وادی کی تلاش میں مگن ہو جائے گا۔ مٹی کے سوا کوئی چیز ابن آدم کا پیٹ نہیں بھر سکتی اور جو شخص اللہ کے حضور توبہ کرے، اللہ اُس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کا اطلاق ہمارے ملک میں عموماً ، بلکہ رمضان المبارک میں خصوصاً ہوتا ہے، جب ہر چیز کا نرخ معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہر کوئی سحری اور افطاری کا بندوبست معمول سے ہٹ کر کرتا ہے، اسی لئے شاید کاروباری طبقہ بھی روٹین سے ہٹ کر منافع خوری کرنا شروع کر دیتا ہے۔

مرکزی حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز پر اڑھائی ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا، لیکن کیا یہ یوٹیلٹی سٹور کافی ہیں اور کیا ان سٹور پر کسی قسم کا کوالٹی کنٹرول سسٹم موجود ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ تو کیا یہ اڑھائی ارب روپے بھی حکومت کے بڑے اہلکاروں ہی کے لئے نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے بھی سستے رمضان بازار لگائے ہیں۔ ان بازاروں پر بھی حکومت پنجاب سبسڈی کے نام پر چار ارب روپے خرچ کر رہی ہے، پنجاب میں اس وقت 235 غلہ و فروٹ منڈیاں ہیں، جہاں پر زمینداروں اور کسانوں سے روز مرہ اشیائے خور و نوش اونے پونے داموں خرید کر آڑھتی اور مڈل مین ڈھیروں منافع کماتے ہیں، جو سبزی اور فروٹ کسان سے 10 روپے کلو میں خریدا جاتا ہے، وہ بازار میں 50/60 روپے کلو میں فروخت ہوتا ہے۔ یہ غلہ اور فروٹ منڈیاں مارکیٹ کمیٹیاں اور ضلعی حکومتیں کنٹرول کرتی ہیں۔

پنجاب کی ضلعی حکومتوں کے پاس 700 سے زائد مجسٹریٹ ہیں اور ہر مجسٹریٹ کے پاس 10/12 ملازمین ہیں، جو اُس کی معاونت کرتے ہیں۔ اتنے بڑے عملے کا کام صرف یہ ہے کہ کہیں بھی ناجائز منافعع خوری نہ ہو۔ پنجاب حکومت نے پورے صوبے میں280/285 سستے رمضان بازار بھی لگائے ہیں، جن میں سبسڈی بھی دی جا رہی ہے، لیکن عملاً کیا ہو رہا ہے ؟.... رمضان کے خاتمے تک بیورو کریسی سب اچھا کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو دیتی رہے گی ۔ پنجاب کی 9/10 کروڑ کی آبادی میں اس رمضان کے مہینے میں سبزیاں، فروٹ اور کھانے، پینے کی دوسری ضروری اشیاءایک اندازے کے مطابق کوئی 30 لاکھ ٹن استعمال ہوں گی۔ جیسا کہ اخبارات اور ٹی وی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ رمضان کے آتے ہی دکانداروں نے سبزیوں، فروٹ اور روز مرہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں فی کلو 15 سے 25 روپے اضافہ کر دیا ہے۔

اگر اس ناجائز منافعے کا حساب لگائیں اور فی کلو اوسطاً20 روپے لگائیں تو اس مقدس مہینے میں دکاندار اور سرمایہ دار عوام کی جیبوں سے 60 ارب روپے نکلوا لیں گے جو ناجائز اور حرام منافع ہوگا، جس سے اسلام کی رو سے اُن کی بقیہ ساری جائز کمائی بھی حرام ہو جائے گی۔ کیا ایک مسلم معاشرے میں یہ جائز ہے۔ کیا اس طرح کی کمائی سے فطرانہ، صدقہ، افطاری یا عمرہ جائز ہوگا؟ وزیراعلیٰ پنجاب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ناجائز منافع خوری کے خلاف اشتہار بھی دے رہے ہیں اور پنجاب کے دکانداروں سے ہمدردانہ اپیلیں کر رہے ہیں کہ رمضان میں قیمتیں معمول پر رکھیں، لیکن سرمایہ داروں میں حکومتی وزیر، مشیر بھی شامل ہیں، کیا وزیراعلیٰ کی اپیل پر کوئی توجہ دے رہے ہیں؟ رمضان میں ہر کوئی زیادہ سے زیادہ منافع خوری کے چکر میں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ معاف فرمانے والا ہے۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے احکامات پر سختی سے عمل کروائے۔ خالی گزارشات سے کام نہیں چلے گا، لیکن اگر وہ احکامات پر عمل نہ کرا سکے تو ناجائز منافع خوری کے گناہ میں وہ بھی برابر کی شریک ہوں گی۔

دُنیا کے ہر ملک میں اُن کے تہوار کے دنوں میں ، جیسے کرسمس ہے، خصوصی سیل لگائی جاتی ہے۔ ہر آدمی اپنی بساط کے مطابق چیزیں سستے داموں خرید کر سکتا ہے۔ مسلم دنیا میں بھی ترکی، یو اے ای اور ملائشیا میں رمضان المبارک میں چیزوں کے دام بڑھانا قانوناً جرم ہے، بلکہ ملائشیا میں تو رمضان میں قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں، لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جس میں مسلمان آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے تو شاید ہم ساری دنیا میں کرپشن اور بددیانتی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اقوام عالم میں لوگ ہم پر ہنستے ہیں کہ یہ کیسا ملک ہے جو نیو کلیئر پاور ہوتے ہوئے بھی الیکٹرک پاور سے محروم ہے۔ یہ کس طرح کا ملک ہے، جس کے پاس لاکھوں، کروڑوں ایکڑ زرعی اراضی ہے، پانی بھی ہے، موسم بھی ہیں، محنتی کسان بھی ہیں، لیکن اپنے بچوں کو پھر بھی ملاوٹ شدہ دودھ پلاتے ہیں۔ اشیائے خور و نوش کی کمی پوری کرنے کے لئے ہر طرح کی ملاوٹ بھی کرتے ہیں، حالانکہ حدیث پاک ہے کہ: ”جس نے ملاوٹ کی، وہ ہم میں سے نہیں“.... ملکی لیڈر شپ کے 500/600 ارب ڈالر یورپی اور امریکی بنکوں میں محفوظ ہیں اور ملک ناکام ریاستوں میں دنیا میں 13ویں نمبر پر ہے۔ پہلے 12 نمبروں میں افریقی ملک ہیں اور ملک کی لیڈر شپ کشکول لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک میں گداگری کر رہی ہے۔ ذرا سوچئے اور توبہ کیجئے، کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔  ٭

مزید : کالم