کارنامے و تکرار نامے

کارنامے و تکرار نامے
کارنامے و تکرار نامے

  



کچھ انسانی رویے ایسے جامد و عام ہوتے ہیں کہ وہ عمر، تعلیم اور رتبوں کے اضافے کے باوجود تبدیل نہیں ہوتے، مثلاً ہر ماں باپ اولاد کو، خاص طور پر بیوی شوہر کو اپنی قربانیوں کا ساری زندگی بتاتے نہیں تھکتی۔ اگر ماں باپ نیک ہوں، اولاد کو رزقِ حلال سے پالیں، قربانیوں اور ایثار سے ان کی اچھی تربیت کریں، اولاد کو نیک نامی اور اچھی تربیت اور حسبِ توفیق مناسب اثاثے دے کر جائیں تو ماں باپ احسان جتاتے زیادہ برے نہیں لگتے، اگر ذکر نہ کریں تو اچھا ہے کہ اولاد کو وقت کے ساتھ ساتھ سب پتا چل جاتا ہے، لیکن اگر کر بھی دیں تو اولاد احسان مندی محسوس کرتی ہے، لیکن اگر ماں باپ گھر کا بٹوارہ کرکے رکھ دیں، آئندہ نسلوں کو بھی مقروض کرکے محل کھڑے کر دیں، آدھی زندگی لڑائی جھگڑوں اور جیلوں میں گزار دیں، آدھے شہر کو دشمن بنا ڈالیں، پھر بھی اصرار کریں کہ انہوں نے اولاد کے لئے قربانیاں دیں اور اولاد کو چاہیے کہ وہ ان قربانیوں کے بدلے میں ہر وقت ان کے گن گائے اور احسان کے نیچے دبی رہے۔ ان حالات میں لگتا تو یہی ہے کہ اگر اولاد ذہنی مریض ہو گی تو تب ان کی باتوں کا یقین کرے گی، ورنہ یا تو نظریں نیچی کر لے گی یا پھر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہت سے سوال کرے گی کہ جن کا جواب ایسے والدین کے پاس ڈانٹ ڈپٹ، تکرار اور کج بحثی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اسی طرح بیوی ساری زندگی کہتی رہے کہ مَیں نے آپ سے شادی کرکے احسان کیا، آپ جیسے نامناسب رشتے کے ساتھ نباہ کیا، آپ کے لئے اولاد پیدا کی، اُسے پالا پوسا، لیکن آپ نے میری عزت اور قدر نہیں کی تو بیچارہ شوہر اور اُس کی اولاد کہہ بھی سکتی ہے کہ شادی کرکے کوئی گناہ نہیں کیا۔ بچے اللہ کی دین ہیں، شادی ہو گی تو بچے بھی ہوں گے، لیکن بچوں کی تربیت کیسی ہوئی، شوہر کی حالت ساری زندگی کیسی رہی اور گردونواح میں خاندان کی عزت کا کیا حشر نشر ہوا، ایسے سوال ہیں، جو شوہر اور بچوں کا بنیادی حق ہے کہ ان کو مناسب اور باعزت جواب ملے۔

یہ ساری تمہید اس لئے باندھنا پڑی کہ چند ماہ سے ٹی وی پر تمام اینکر پرسن اور ناظرین ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب بھی اپوزیشن کے اور غیر جانبدار لوگ حکومت کی کارکردگی پر انگلی اٹھاتے ہیں تو حکومتی نمائندے چاہے مردانہ ہوں یا زنانہ ، نالائق ماں باپ اور بیوی کے ہتھکنڈے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ ان سے پوچھیں آپ حکومت کی اصلاح کیوں نہیں کرتے تو وہ تکرار کریں گے۔ ہم نے 1973ءکا متفقہ آئین دیا۔ آپ کہیں مشرقی پاکستان آپ کی ہٹ ھرمی کی وجہ سے علیحدہ ہوا تو اصرار کریں گے کہ ہم نے این ایف سی ایوارڈ دیا۔ آپ کہیں آپ نے بجلی کا بحران پیدا، وہ بولیںگے کہ ہم نے آئی پی پیز کے معاہدے کئے اور رینٹل پاور پلانٹ لگوانے کی تگ و دو کی اور اگر آپ ان کی کامیابی کا پوچھیں تو آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔

 آپ ان سے پوچھیں، آپ عدالتوں کا حکم نہیں مانتے تو بولیں گے کہ ہم عدالتوں کا شدت سے احترام کرتے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم نے جج بحال کئے اور اب ججوں کی بیوگان کے لئے پنشن 50 فیصد سے 75 فیصد کر دی ہے اور ہتکِ عدالت کے ترمیمی بل کے ذریعے ہم نے عدالتوں کی کارکردگی کو شفافیت اور عزت بخشی ہے۔ وہ گلہ در گلہ کریں گے کہ عدالتیں اور اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کے خلاف ہیں اور اس کی حکومت کو چلنے نہیں دیتے، کیونکہ وہ عوام دشمن ہیں اور دونوں مل کر ہمار ے خلاف اور عوام کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ ان سے کہا جائے کہ کون سی سازش ہو رہی ہے تو برملا سٹیل مل، کنٹینرز، آئی سی ایل، رینٹل پاور، حج سکینڈل، جس میں کاظمی صاحب بے گناہ ہیں، ایفی ڈرین سکینڈل، بحریہ سکینڈل کا ذکر کریں گے کہ ہمارے آدمیوں اور حکومت کو پھنسا یا جا رہا ہے۔

جب ان سے کہا جائے کہ یہ سکینڈل تو حکومت کی شہرت و کارکردگی کے خلاف ہیں تو آپ اس پر ایکشن کیوں نہیں لیتے؟ ان کا اصرار ہو گا، پہلے ارسلان سکینڈل پر استعفے دیں کہ جن کا بیٹا اس میں شامل ہے اور جو کہتا ہے کہ ان کو بیٹے کے کاموں کا پتا نہیں۔ جب ان کو بتلایا جائے کہ سابق وزیراعظم کے دونوں بیٹے بھی سکینڈل میں ملوث ہیں تو وہ جرنیلوں کے خلاف ایکشن لینے پر اصرار کریں گے کہ ان پر کیوں نہیں ہاتھ ڈالتے۔ جب ان سے کہا جائے کہ آپ کی حکومت ہے، آپ ایکشن لیں یا عدالت میں ان کے خلاف درخواست دائر کریں تو پھر تکرار پر اُتر آئیں گے کہ ہم نے ایٹم بم بنایا۔ ان سے پوچھا جائے کہ آپ کے کارناموں سے عوام کو کیا فائدہ ہوا تو اپنی شہادتوں کا ذکر کریں گے۔ ان سے پوچھا جائے کہ شہادتیں عوام نے تو نہیں کیں، جن لوگوں نے کی ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیں اور قاتلوں کوڈھونڈیں۔

 اس پر پھر ان کااصرارہو گا کہ ہمیں کوئی کام ہی نہیں کرنے دیتا، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جتنا تعاون بھٹو صاحب کی حکومت کو اور زرداری حکومت کو ملا، کبھی کسی اور کو نہیں ملا، لیکن ان کی کارکردگی ان کے مخالف جاتی ہے۔ بیچارے نواز شریف نئے مارشل لاءکے ڈر سے ان کے بھائی بھی بنے اور بدنامی بھی برداشت کی۔ اے این پی نے اپنی ساری تاریخ ان کے ہاتھ گروی رکھ دی۔ ایم کیو ایم اپنی انفرادی کارکردگی ان کے کندھوں پہ لاش کی صورت میں محسوس کر رہی ہے، لیکن ان کو اب بھی تعاون کا گلا ہے۔ ان سب نے مل کر کالا باغ ڈیم نہ بنا کر اتنے ووٹ پکے نہیں کئے، جتنے کالا باغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے بجلی اور پانی کے بحران سے ضائع کئے ہیں۔ ان حکمرانوں کو ایسے تجزیوں کی افادیت سے سروکار نہیں۔ انہوں نے اپنی کامیابی کے پیمانے خود تراش رکھے ہیں، جن کا عوام اور میڈیا کو معلوم نہیں، جبکہ انہوں نے اپنی ناکامی کی وجوہات تلاش کر رکھی ہے، جن میں سازشیں ہی سازشیں ہیں، جن کا عوام اور میڈیا کو پتا نہیں چل رہا۔

مجھے بچپن کے کزن کا واقعہ یاد آرہا ہے، وہ ہم سب میں خواب دیکھنے کا شوقین اور کارکردگی دکھانے کا رسیا تھا، چنانچہ وہ ہماری کرکٹ کی ٹیم میں بھی زبردستی شامل ہو جاتا، آو¿ٹ ہونے پر ماننے سے انکار کر دیتا اور اپنی باری نہ ملنے کا اتنا شور مچاتا کہ ہم انکل اور آنٹی کے ڈر سے اسے دوبارہ، بلکہ کئی بار باری دے دیتے۔ وہ جب کئی بار آو¿ٹ ہو چکتا تو کزنوں میں سے کچھ کا پیمانہ صبر انکل کے مارشل لاءکے باوجود جواب دے جاتا، چنانچہ ہم سب اس کو آو¿ٹ ڈکلیئر کر دیتے۔ وہ انکل کے پاس جا کر اتنا شور مچاتا کہ انکل تفتیش کے لئے آ پہنچتے۔ ہمارا کزن یہی شور مچاتا کہ یہ مجھے بار بار آو¿ٹ کر دیتے ہیں اور مجھے چوکا چھکا نہیں مارنے دیتے اور آخر میں انکل سے فیصلے کروا لیتا کہ تم اس کے بیٹ پر گیند مارا کرو تاکہ یہ آو¿ٹ نہ ہو اور چوکے چھکے بھی مارنے کا شوق پورا ہو جائے اور باری بھی لے لے۔

ہمارا سارا بچپن اس کزن نے ایسے ہی خراب کیا۔ پیپلز پارٹی کو بھی تیسری چوتھی باری دی جا چکی ہے، تعاون بھی ہے، لیکن کھیل میں کون ان کے بلے پر گیند مار کر تالیاں بجائے، اس کے لئے ان کو کارکردگی بھی دکھانی ہے اور گیند کو بھی سمجھنا ہے، صرف سازشوں کی تکرار اور انکل کی مداخلت سے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی جا سکتی۔ اس سے بہتر ہے کہ کوچ بن جایا جائے اور دوسروں کو آو¿ٹ کرنے کا شوق پورا کیا جائے یا تماش بین اور ناظرین کی صفوں میں بیٹھ کر اچھی بری کرکٹ کا نظارہ کیا جائے اور سیکھا جائے،تاکہ آپ نہیں تو آئندہ نسل ہی اچھی کرکٹ کھیل سکے اور اسے کارکردگی پر میچ میں چانس مل جائے، ناکہ بڑوں کے نام سے چانس لیا جائے۔ ہمارا ایک اور کزن بھی تھا بیچارا جو بڑا لائق تھا، لیکن زندگی میں کامیاب نہ ہو سکا اور اب خود کو نمایاں کرنے کے لئے اکثر لوگوں کو بتاتا رہتا ہے کہ میں پلے گروپ سے لے کر پرائمری کلاس تک فسٹ آتا تھا، مڈل اور میٹرک میں اسکول میں ٹاپ کیا تھا، بورڈ اور یونیورسٹی میں ریکارڈ ہولڈر تھا، بعد میں ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا، بس سی ایس ایس میں تینوں بار میرے مخالفوں اور حاسدوں نے مجھے پاس نہ ہونے دیا اور اب بھی میری شہرت کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ ہمیں اس ذہین کزن پر بڑا ترس آتا ہے، خدا اس کے لئے بہتر راستے نکالے۔ اب وہ بس خاندانی وجاہت کے صدقے حسینائیں اپنے گرد لئے نمایاں زندگی گزار رہا ہے اور خاندان اور دوست صرف اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم