پسندیدہ زندگی

پسندیدہ زندگی
پسندیدہ زندگی

  



 گزشتہ دنوں ( اکتیس جولائی )امریکی ڈرامہ نویس، ناول نگار، اور سب سے بڑھ کر نہایت ولولہ انگیز اور پُر لطف مضا مین لکھنے والے کورویدال ، جو اگر گزشتہ زمانے میں ہوتے تو بلاشبہ ایک عالم کہلاتے، نہایت جاندار زندگی گزار نے کے بعد خالق ِ حقیقی سے جا ملے۔ قلم سے ان کا رشتہ تمام زندگی رہا اور ، جیسا کہ ان کی وفات پر شائع ہونے والی تحریر بیان کرتی ہے، وہ اپنے نظریات اور آراءکا اظہارنہایت سلجھے ہوئے انداز میں، جو امریکی تعلیم یافتہ طبقے کا خاصا ہے، ذہانت اور طنز کے دلکش مرقع سے کرتے۔

سلطنتیں اپنے بارے میں دیومالائی قسم کے نظریات کا پرچار کرتی رہتی ہیں اور دوسروںسے توقع رکھتی ہیںکہ وہ ان کو الہامی سچائی کے مترادف مانیںگے۔ ایسی افسانہ طرازی کے بغیر ریاستیں خود کو کمزور اور ناتواں پاتی ہیں۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے ، اس نے اپنے مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے نہایت مکارانہ نظریات کی ملمع کاری کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا ہے کہ تاریخ ِ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے آزادی اور جمہوریت اور دنیا کو کمیونزم کی برائی سے بچانے کے نام پر اس نے جس طرح جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنا، تیسری دنیا کی بدترین آمریت کی حمایت کرنا اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنا روا سمجھا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

ویدال نے فن ، ادب ، واشنگٹن کے سیاسی منظر نامے اور اپنے وقت کے مشہور افراد کے بارے میں لکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے عالمی امور میں امریکی منافقت کا پردہ بھی چاک کیا ہے۔ یہ کام اس کے ہمعصر اور مصنفین نے بھی کیاہے ،مگر ویدال کا لہجہ بہت عمدہ اور پرُ لطف تھا۔ گیارہویں کمانڈمنٹ یہ ہونی چاہیے”اور تم بوریت ہرگز نہ پھیلاﺅ“۔ نوم چومسکی کی تحریر عام انسان کے لئے ایک بھاری پتھر ثابت ہوتی ہے ، لیکن ویدال کا لہجہ بہت خوش کن اور بوریت سے مبرّا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم تاریخ کو سکول کی ٹیکسٹ بک میں پڑھ رہے ہیں ۔ اس کے بعد آپ جب گبن کو پڑھتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ تاریخ اتنی بورکیوں لگتی ہے۔ آج سیاسی تبصرے ویدال کے پُر لطف لہجے میںکیوں نہیںلکھے جا سکتے ؟ میرا خیال ہے کہ تحریر میں لطف ،ذہانت، مطالعہ ، بلکہ تمام زندگی کتابوں سے دوستی کرنے اور زندگی کے تصورات پر غور کرنے سے آتا ہے۔ ایسی زندگی بسر کرتے ہوئے ذہانت اور ذکاوت کا امتزاج حا صل ہوجائے اور اگر آپ خوش قسمت ہوں تو آپ کا اسلوب ِ نگارش بھی انہی خوبیوںکے پیرائے میں ڈھل جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا دولت ہو سکتی ہے؟

طرز ِ تحریر انسان کے کردار کا آئینہ دار ہو تا ہے۔ اس سے آپ کی فطرت کی عکاسی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرایک کج فہم سے آپ کس دانائی کی توقع کر سکتے ہیں؟ جب آپ کسی سیاست دان کی تحریر کا مطالعہ کریںیا اس کی گفتگو سنیں تو آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کا مخاطب کوئی سیاست دان ہے، کیونکہ وہ اپنے بیانات چابکدستی سے بدلتا رہتا ہے....مسٹر کلنٹن کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ ایسا شخص تھا کہ جب کوئی اس سے ملتا تو وہ بہت زور سے اس کا بازو ہلاتا اور انتہائی بے تکلفی برتتا۔ اس میںکوئی شک نہیںکہ وہ ایک ذہین شخص تھا ،مگر اس ضرورت سے زیادہ بے تکلفی کو پُر لطف انداز میںبیان کرنے کے لئے کسی اعلیٰ پائے کے لکھاری کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ میں کورویدال کے پائے کے اور بھی عمدہ مضمون نگار ہوتے تو یہ نسبتاً ایک بہتر ملک ہوتا اور اس کی سیاسی فضا اتنی بوجھل نہ ہوتی۔

اگر ”شہنشاہ بش“ کے دور میں اس طرح کے مصنفین کچھ زیادہ تعداد میںہوتے تو یقینا دنیا کا اتنا برا حال نہ ہوتا۔ عراق میں پھیلائی جانے والی تباہی اور بربادی کی داستانوں اور اس جنگ کی ضرورت کے بارے میں بولے جانے والے متواتر جھوٹ سے دیگر ممالک، کانگرس، میڈیا ، امریکہ کے اصحاب ِ فراست اور”ترقی پسند “ کنزرویٹو ز کا ٹولہ کچھ زیادہ جان پاتا۔ آج دنیا عراقیوںکی طرف سے کی جانے والی مزاحمت کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتی ، ورنہ ڈک چینی، رمزفیلڈ اوراس گروہ کے باقی کارندے تو مشرق ِ وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنے کی بات کررہے تھے۔آج ان کے تمام منصوبے طشت ازبام ہو چکے ہوتے۔ ویدال ”The Twelve Caesars“ میں کہتا ہے” تمام سیزر شہنشاہوں کی حد سے باہر ہوتی ہوئی نفسانی خواہشات کو بارہ نیم خبطی افراد کی ”منہ زوری “قرار دے کر نظر انداز کردینا غلط نہ ہو گا، کیونکہ وہ”طاقت “ میں ہم عام انسانوں، بلکہ اپنے ہمعصروں ، سے مختلف تھے ۔“سیکس اور طاقت اور اختیار میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ویدال صدر نکسن کے بارے میں بہت متوازن رائے رکھتا ہے۔ وہ اس مفروضے کی نفی کرتا ہے کہ امریکی صدور میں واحد یہ صدر ہی ہیں جو برائی کی طرف راغب تھے۔ ویدال کا کہنا ہے کہ وہ دیگر صدرو سے ز یادہ بدعنوان نہیں تھے، بلکہ وہ نکسن کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ صدرصاحب کو ”شہنشاہ زار کی پسندیدہ سرزمین “ اور ”درمیانی سلطنت “ کی اہمیت کا احساس تھا“....(اگر آپ مڈل کنگڈم کی اصطلاح اور شہنشاہ زار کے مشاغل سے باخبر ہیں تو اس فقرے سے لطف لے سکتے ہیں، نہیںتو نصیب اپناا پنا).... گزشتہ ہفتے مَیں ”واٹر گیٹ اسکینڈل “ کی اصل رپورٹ پڑھ رہا تھا جو ووڈ ورتھ اور برنسٹن نے لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واٹر گیٹ سکینڈل میں نکس کا کردار بہت برا تھا۔ ویدال کی نکسن کے بارے میں تحریر 1983 کے دور کی ہے اور اس میں زیادہ لطف ہے۔

بلاشبہ ویدال صحافت کے بے تاج بادشاہ ایچ ایل مینکن کا معترف ہے۔ وہ کہتا ہے” سیاست کے بعد صحافت ہی پُر عزم ،مگر سُست مہم جوﺅں کی پسندیدہ سرگرمی رہی ہے۔اگر امریکہ کے نابغہءروزگار افراد کی فہرست مرتب کی جائے تو پہلے کالم میں فرینکلن روزویلٹ جگہ پائیں گے، جبکہ دوسرے کالم میں ایچ ایل مینکن کی جگہ ہو گی“۔ کیا عمدہ موازنہ ہے!اپنی نوجوانی میں مَیںنے میگم کو بہت زیادہ پڑھا اس کی تقریباً تمام کہانیاں اور مشہور ناول پڑھ ڈالے۔ اب احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک غلطی تھی، کیونکہ کاکول اکیڈمی ، جہاں مَیں اس وقت زیر ِ تربیت تھا، کا سخت ماحول میگم کی تحریروں سے مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ ویدال کا میگم کے بارے میں تبصرہ میرے اس خیال کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس کا مختلف چیزوںکے بارے میں تبصرہ کتنا درست ہوتا تھا۔ وہ فرانسیسی مضمون نگار مونٹینے (Montaigne) کی تعریف کرتا ہے۔ میگم ، مینکن اورمونٹینے سے فکری رہنمائی لینے والا کج فہم کیسے ہو سکتا ہے اور ویدال ہرگز ایسا نہ تھا۔

ہمارا ملک پاکستان کوئی سلطنت تو نہیںہے ،بلکہ یہ ایک گھٹن زدہ ریاست ہے۔ ہم اپنے نیم پختہ خیالات کو الہامی سچائی گردانتے ہوئے ان میں سرتاپا دھنسے ہوئے ہیں۔ اس کج فہمی پر مستزاد ، ناز یہ ہے کہ ہم خدا کی سب سے پسندیدہ قوم ہیں اور یہ ملک عطیہءخداوندی ہے۔ اگر ہم کچھ روایت شکنی کرتے ہوئے نسبتاً لبرل نظریات کے لئے گنجائش پیدا کرتے اور پرانے تصورات سے کچھ اجتناب برتتے تو یہاں کی فضا میں مذہبی انتہا پسندی اور حب الوطنی کی اتنی کثافتیںنہ ہوتیں۔ بہت سے معاملات زیر ِ بحث اس لئے نہیںلائے جا سکتے کہ زندیق قرار دیئے جانے اور فی الفور اس کی سزا ملنے کا خوف لاحق رہتا ہے۔ یہاں قنوطی رویہ بھی کافی نہیںہے، بلکہ ہمیں ویدال کے پائے کے کسی مصنف کی ضرورت ہے، جو تنگ نظری کا پردہ چاک کرتے ہوئے حقائق کو دلکش انداز میں منظر ِ عام پر لائے۔

تیسری دنیا کے باقی ممالک کو امریکہ سے اتنے مسائل نہیں ، جتنے ہم نے اپنے سر پر سوا ر کر لئے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سرد جنگ کا منحوس ورثہ اور افغانستان سے قربت ہے،تاہم اس مسئلے کا حل نہ تو طالبان کے بارے میں باقی دنیا کے نظریات کا من و عن اپنانا ہے اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ کے ٹکسال کردہ اسلامی نظام کی مالا جپنا ہے۔ امریکی طاقت کے گھمنڈ کا پردہ امریکی مصنفین نے ہی چاک کیا ہے۔ ایک نصیحت عرض ہے....(اگرچہ ناگوار گزرے گی) ....کہ کاکول، سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے نصاب میں کم ازکم دو امریکی مصنفین ویدال اور مینکن کو شامل کر لیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے ہمارے مقدس محافظو ں کو معاملات کی بہتر تفہیم ہو سکے اور شاید ہم پر بھی کبھی ستارے مہربان ہو ہی جائیں۔

بہرحال جوش، خوشی، تخلیق کاری اور جدوجہد سے بھرپور زندگی ہی آسمانی طاقتوںکو پسند ہے۔ انسانوںکو یہ صلاحیتیںکیوںدی گئی ہیں، ان سے کیا درکار ہے ؟سوائے اس کے کہ ہم ان کا بہترین استعمال کریں اور مختلف مواقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ، ورنہ زندگی تو تاسف کا ہی نام ہے۔ کورویدال اب دوسری دنیا میں جا چکا ہے اور بلاشبہ وہ عظیم انسانوںکے درمیان ہو گا وہ انسان جو زندگی کے مسائل کو ظرافت اور طنز کے جملوں میں سموتے رہے ہیں اور جن کے بغیر جادہ¿ زیست بے کیف رہتا ہے۔

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...