عمران خان کے الزام :مسلم لیگ(ن) کا جوابی حملہ!

عمران خان کے الزام :مسلم لیگ(ن) کا جوابی حملہ!
عمران خان کے الزام :مسلم لیگ(ن) کا جوابی حملہ!

  



ہم تو بہت پہلے کہہ چکے ہوئے ہیں کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان کا انداز بیاں منفرد اور خوب ہے، وہ بات کہنے کا دوسروں کی نسبت ذرا بہتر سلیقہ رکھتے اور غالب کی طرح اُن کا بھی انداز بیان اور ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک ماہ کی چھٹیاں گزارنے کے بعد وطن واپس تشریف لائے ہیں۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ چھٹیاں کس نوکری سے لے کر گئے اور مہینہ بھر کہاں گزارا، اُن کی واپسی پر ہی یہ راز کھلا کہ وہ سیاست والی بیان بازی سے چھٹی پر تھے اور غالباً امریکہ میں رہتے ہوئے بھی چپ کا روزہ رکھے ہوئے تھے، جو وطن واپس آ کر افطار کیا اور خوب کیا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لتے لے لئے اور اُن کو بہت سارے راز افشا کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی، حالانکہ وہ جو انکشاف کرنا چاہتے تھے اس میں ایک واقعہ کی طرف بہت ہی واضح اشارہ کر کے یہ بھی کہا کہ منہ نہ کھلوائیں ورنہ بچپن کا کچا چٹھا کھول دیں گے۔ یوں کچھ کہہ نہ سکے کچھ کہہ بھی گئے کے مصداق ایچی سن کالج کے دور والے لڑکپن کے ذکر کے ساتھ یہاں بھی اشارہ کر گئے کہ اس دور میں بھی کروڑوں کا معاملہ تھا۔ ایچی سن کے دور کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ” ہم دونوں دوست رہے ہیں میرا منہ نہ کھلواﺅ ورنہ وہ راز بتاﺅں گا کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گے“ چودھری نثار کے اس منہ نہ کھلوانے والے والے فقرے کا مطلب اسلام آباد میں موجود لاہوریئے بابے نصرت جاوید سے پوچھیں کہ موچی دروازے والے اس فقرے کا کیا مطلب لیں گے؟

ہم نے عمران خان کے بارے میں لکھنے سے بوجوہ گریز کیا کہ اُن کی تمام تر مداحیت کے باوجود ہمیں اُن سے پرانا گلہ ہے اِس لئے ہمیشہ یہ سوچا کہ قلم میں لغزش آئے گی اور کچھ نہ کچھ تعصب کا اظہار ہو گا لیکن مسلم لیگ(ن) نے جس انداز میں پے در پے حملے کئے اور جس طرح ہمارے ان دوستوں نے اُن کے مو¿قف کی تائید میں دلیل بازی شروع کی اس نے ہمیں مجبور کیا کہ چلو اس طرف بھی توجہ کر ہی لی جائے۔

عمران خان سیالکوٹ گئے جلسہ کیا۔ معروف صنعتکاروں نے تحریک انصاف میں شرکت کی اور روائتی طور پر عمران خان نے کرپشن کے حوالے سے حکمران جماعت پر تنقید کی تو مسلم لیگ(ن)کی قیادت کے خلاف ہاتھ سخت رکھا۔ خواجہ صفدر مرحوم (ہم اُن کے دیرینہ قدر دان ہیں) کے صاحبزادے خواجہ آصف نے فوراً ہی پریس کانفرنس کر ڈالی اور عمران خان کے خلاف شوکت خانم میموریل ہسپتال کی سرمایہ کاری کا کیس کھول لیا، اسی روز ایک ٹیلی ویژن کے ٹاک شو میں بھی وہ بولے اور جواب شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو سے لیا گیا جو سرمایہ کاری کا جواز دیتے رہے اور ساتھ ہی یہ بھی مو¿قف اختیار کیا کہ شوکت خانم ہسپتال کا عمران خان کی سیاست یا سیاسی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمران خان نے بھی خواجہ آصف کے جواب میں ایسی ہی وضاحت کی اور ساتھ ہی یہ الزام دہرا دیا کہ شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کی اور اُن کے بیرون ملک 500ملین پاﺅنڈ پڑے ہوئے ہیں۔

یہ بات یہیں تک تھی کہ اگلے روز چودھری نثار علی خان میدان میں آ گئے اُن کی پریس کانفرنس دیکھتے ہوئے عمران خان کے خواجہ آصف کے بارے میں یہ الفاظ یاد آئے۔ ”خواجہ آصف بڑے معصوم اور بھولے بھالے بن کر الزام لگا رہے ہیں“ خواجہ آصف اور چودھری نثار کا موازنہ کرنے کے بعد تو ہمیں خواجہ آصف اُن کے مقابلے میں واقعی پینڈو لگے۔ چودھری نثار اینکر پرسنز کی طرح کالے بالوں اور تازہ ترین شیو کے ساتھ کیمروں کے سامنے تھے اور اپنی باتوں کو اچھے انداز سے دہرا بھی رہے تھے ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے امریکہ میں عمران خان کے خلاف مقدمے کا حوالہ بھی دے دیا پھر ساتھ ہی ان کے دونوں صاحبزادوں کا جمائما (بچوں کی والدہ۔ عمران خان کی سابق بیوی) کے پاس ہونے کا طعنہ بھی دیا اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ منہ نہ کھلواﺅ، اب بچوں کا اور جمائما کے حوالے کے علاوہ ایچی سن کالج کے دور میں کروڑوں کی بات کرنے کے علاوہ امریکہ میں مقدمہ کا حوالہ دینے سے تو انہوں نے ہم جیسے بوڑھے لوگوں کو یاد دلا ہی دیا کہ وہ کس مقدمے اور کس مبینہ بداخلاقی کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر ہمارے ملک کے ذرائع ابلاغ میں بہت ہی بحث ہو چکی ہوئی ہے۔

ہم ملک میں سیاسی استحکام، ضابطہ اخلاق اور قومی اتفاق رائے کے حامی ہیں۔ہم نے ایسی لڑائیوں کو بھی پسند نہیں کیا خصوصاً ذاتیات والی سیاست تو گالی گلوچ والی ہوتی ہے جو اچھی نہیں جانی جاتی۔ البتہ عمران خان اگر ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزام لگاتے ہیں تو جواب میں اُن کے 300کینال کے گھر کی بات اور اُن کی ٹیکس ریٹرنوں اور آمدنی کے حوالے سے جوابی حملہ غیر معقول نہیں بنتا۔ بات یہیں تک محدود رہے ،تو شائد قابل برداشت بھی ہو لیکن بچپن، لڑکپن اور ذاتی کردار کی بات ہو گی تو پھر عمران خان کی طرف سے انعام اللہ نیازی کی اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا ”چودھری نثار ذاتیات پر نہ اتریں، ورنہ مَیں بھی اُن کے بارے میں ایسے انکشاف کروں گا کہ وہ منہ چھپا کر بھاگ جائیں گے“ انعام اللہ نسازی خود مسلم لیگ(ن) میں رہے ہیں اور ہمارے سمیت بہت لوگ اُن سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ کتنے منہ پھٹ ہیں۔

ان گزارشات سے ہمارا صرف یہی مقصد ہے کہ ہمارے سیات دان حضرات اس مصیبت زدہ قوم پر رحم کریں، الزمات اور جوابی الزامات کی بجائے تعمیری تنقید کا راستہ اپنائیں۔ ایک دوسرے کے گندے کپڑے بازار میں دھونے کی بجائے قومی مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کریں، تنقید کریں اور نشاندہی بھی کریں، لیکن یہ سب ایسے تعمیری انداز میں ہونا چاہئے کہ رائے دہندگان اپنا ذہن بنائیں۔ جب حزب اختلاف کی طرف سے تنقید اور حقائق کی نشاندہی کے بعد اصلاح کا پروگرام بھی پیش کیا جائے گا تو حکمرانوں کو یا تو اپنی اصلاح کرنا پڑے گی یا پھر آنے والے انتخابات میں رائے دہندگان کی بے رخی کا سامناکرنا پڑے گا اور یہی جمہوریت ہے یہ نہیں کہ آپ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور مطعون ہی کرتے رہیں۔ یہ سلسلہ تو عوام ابتدا ہی سے سنتے آ رہے ہیں، آپ ان کو سیاست اور سیاست دانوں کے خلاف نفرت اور جمہوریت سے مایوس کیوں کرنا چاہتے ہیں۔

اب ذرا کچھ بات دانشوروں کی بھی ہو جائے۔ عمران خان کے الزام اور مسلم لیگ(ن) کے جوابی حملے میں پیپلزپارٹی کو مجموعی اور آصف علی زرداری کو نام لے کر رگڑا لگایا گیا ہے۔ آصف علی زرداری کوئی فرشتہ نہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی کوئی(بزبان عوام) مکہ کے حاجیوں کی جماعت ہے یہ تنقید سے مستثنیٰ نہیں ، لیکن یہ انداز بھی درست نہیں کہ صرف زرداری اور پیپلزپارٹی ہی گنہگار ہیں اور باقی سب معصوم،عن الخطا ہیں۔ محترم اس حوالے سے آپ حضرات نے ایسے ذہن بنا لئے ہیں کہ مخالفت میں حقائق کو بھی بھول جاتے ہیں، ہمارے ایک ساتھی نے اتنی سخت زبان استعمال کی (شاید سخت زبان کا استعمال شہرت کا باعث بنتا ہے) ہم تو ان سے یہ توقع کر ہی نہیںسکتے۔ بہرحال وہ اس جذبے کے تحت اشیاءخوردنی اور ضرورت کی مہنگائی کی تمام تر ذمہ داری بھی وفاقی حکومت پر عائد کرتے چلے گئے ہیں اور یہ بھول گئے کہ ٹرانسپورٹ کا کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو پانا صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کا فرض ہے اگر یہ نہ ہوتا تو مجسٹریٹ چھاپے کیوں مارتے؟

ہم بات یہیں ختم کرتے ہیں، ہم سب میڈیا والوں کو خدا بننے سے گریز کرنا ہو گا ہم خود گنہگار لوگ ہیں، اس لئے پہلا پتھر مارنے والی بات پر غور کریں، کوشش کریں کہ معاشرے میں امن اور سکون آ سکے۔ میڈیا کا فرض نشاندہی ضرور ہے لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ ہم کسی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کریں۔ ہم شاید بوڑھے ہو گئے اس لئے اپنا دور یاد کرتے ہیں جب کسی خاتون کی بے عزتی کی خبر شائع نہیں کی جاتی تھی اور اگر بہت مجبوری ہوتی تو نام لکھے بغیر بے حرمتی کے الفاظ لکھے جاتے تھے، ہماری تو کوشش ہونی چاہئے کہ ہم غلطیوں کی نشاندہی اچھے اور مہذب انداز میں کریں تاکہ اصلاح کا پہلو نکل سکے۔ ہماری اپنے سیاسی رہنماﺅں اور جماعتوں سے پھر گزارش ہے کہ وہ زبانی دعوے نہ کریں۔ اخلاقیات سے عملی ثبوت دیں، یہی اُن کے لئے قوم اور ملک کے علاوہ عوام کے لئے بہتر ہے، ورنہ....!  ٭

مزید : کالم


loading...