شہزاد احمد کی رحلت

شہزاد احمد کی رحلت

  



مُلک کے نامور غزل گو، ماہر نفسیات، مترجم اور کلاسیکی ادب کی کتابیں چھاپنے والے ادارے مجلس ترقی ¿ ادب کے ڈائریکٹر جناب شہزاد احمد گزشتہ روز 80سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔

شہزاد احمد شاعروں اور ادیبوں کی اُس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس کے نمائندے وطن عزیز میں بہت کم رہ گئے ہیں۔ بزرگوں کا احترام، ہم عصروں سے محبت اور چھوٹوں پر شفقت اُن کے نمایاں شخصی اوصاف تھے۔ وہ مسلسل تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی کام کرتے رہے اور اہل علم و ادب کو اپنے وجود کا احساس دلاتے رہے۔ جناب احمد ندیم قاسمی کی وفات کے بعد انہیں مجلس ِ ترقی ¿ ادب کا تاحیات ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ زندگی کے آخری دن بھی وہ اپنے دفتر میں کام کرتے رہے۔ دفتر سے گھر پہنچنے پر اُن کی طبیعت خراب ہو گئی جس پر اُنہیں ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ راستے ہی میں اپنی آخری منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ اُن کی وفات سے ادب اور علم کی دُنیا میں خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!  ٭

مزید : اداریہ